امریکہ صیہونی حکومت اور اس کے آلہ کار استقامت کے دشمن
حزب اللہ لبنان نے کہا ہےکہ وہ سامراج اور صیہونی حکومت کے خلاف ڈٹی رہے گی۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ امریکہ، صیہونی حکومت اور ان کے علاقائی آلہ کاروں کی توسیع پسندی کے مقابلے میں پائداری اور استقامت کی بنا پر ہی حزب اللہ کے خلاف دباو میں اضافہ ہوا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اتوار کی شام کو اپنے خطاب میں علاقے میں حزب اللہ کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں حالات نہایت کشیدہ ہیں اور حزب اللہ کے خلاف سامراج اور صیہونیت کی دشمنی کا سبب حزبہ اللہ کا ان کے خلاف استقامت اور پائداری کا ثبوت دینا ہے۔
سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں جو ویڈیو کانفرنس کی صورت میں نشر ہوا کہا ہے کہ صیہونی حکومت اور امریکہ کے خلاف حزب اللہ اور فلسطینی قوم کی کامیابی کے بعد صیہونی حکومت اور علاقے کی پٹھو حکومتیں موجودہ حقائق سے رائے عامہ کو منحرف کرنے اور اسلامی بیداری کو پھیلنے سے روکنے کے لئے حزب اللہ اور اسکے حامیوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنارہی ہیں۔حزب اللہ کی کامیابیوں کے بارے میں سید حسن نصراللہ کا خطاب ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ ان دنوں تحریک انتفاضہ قدس کی پہلی سالگرہ منائی جارہی ہے اور صیہونی حکومت کے اعلی حکام فلسطینیوں کے قیام کے سامنے بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کھ رہے ہیں کہ اسرائیل اپنے وجود میں آنے کے دن سے آج تک اس طرح کے چیلنجوں سے روبرو نہیں ہوا تھا۔ فلسطینی قوم کی تحریک انتفاضہ قدس نے صیہونی حکومت کے تمام اندازوں کو درہم برہم کردیا ہے اور جن کے سہارے وہ دیگر فلسطینی علاقوں بالخصوص قدس شریف پر قبضہ کرنا چاہتی تھی بلکہ اس غاصب حکومت کو داخلی اور عالمی سطح پر بری طرح ناکام بنادیا ہے۔
صیہونی حکومت کے جرائم کی بنا پر یورپی ملکوں کی طرف سے مقبوضہ علاقوں میں تیار کی جانے والی صیہونی مصنوعات پر پابندی کا قانون، مقبوضہ فلسطین سے صیہونی کی دیگر علاقوں کی طرف مہاجرت اور بے روزگاری نیز اقتصادی جمود تحریک انتفاضہ قدس کے اثرات ہیں جسے غیر قانونی صیہونی حکومت کے منحوس پیکر پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی بنا پر صیہونی حکومت نے امریکہ اور علاقے کی بعض پٹھو حکومتوں جیسے آل سعود کی حکومت کی حمایت حاصل کرلی ہے اور اس کا مقصد استقامت کے محور کو نقصان پہنچانا ہے۔صیہونی حکومت نے اس راستے بالواسطہ طریقے سے یہ ھدف حاصل کرنے کا منصوبہ بنارکھا ہے۔ حزب اللہ لبنان اور حماس جیسے گروہوں کی سرگرمیوں کو دہشتگردی قراردینا، ان کے خلاف مالی پابندیاں لگانا اور عرب ملکوں کے وفود کو مقبوضہ فلسطین کا دورہ کرنے کی ترغیب دلانا اور شام اور ایران کو نقصان پہنچانے کےلئےعلاقے کی بعض حکومتوں سے ساز باز کرنے کو اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ان تمام امور کے باوجود علاقے کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطین، لبنان، شام، یمن اور عراق کے عوام کی استقامت نہ صرف روکی نہیں جاسکتی بلکہ یہ قدم بہ قدم آگے بڑھتی جارہی ہے اور اسمیں وسعت آرہی ہے اور اگر اسلامی امۃ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا شروع کردے تو دشمنوں کے مقابل اسکی کامیابی یقینی ہے اور وہ اپنے دشمنوں یعنی امریکہ، صیہونی حکومت اور ان کی پٹھو حکومتوں کے مقابل سوفیصدی کامیاب ہوجائے گی۔