شام کے شمالی شہر حلب کے حالات
شام کے شمالی شہر حلب کے حالات سیاسی اور فوجی لحاظ سے اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں۔
شام کے شمالی شہر حلب کے حالات سیاسی اور فوجی لحاظ سے اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ شام میں روس اور امریکہ کے اتفاق سے حاصل ہونے والی جنگ بندی کی ناکامی کےبعد حلب میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ حلب کا محاذ پر دہشتگردوں اور نام نہاد اعتدال پسند مسلح گروہوں کے لئے عرصہ حیات تنگ ہوچکا ہے۔ شام کی فوج نے عوامی فورسز کی مدد سے شہر حلب کے مختلف علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے جس سے صورتحال میں مکمل طرح سے تبدیل آگئی ہے اور اس علاقے میں جنگ مسلح مخالفین اور دہشتگردوں کے لئے زندگی اور موت کا سوال بن کر رہ گئی ہے۔
شام کی فوج اور اسکی متحدہ دھڑوں نے اتوار کو اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے شہر حلب کے شمال مشرقی علاقوں جیسے الکندی اسپتال، البقارہ اور الشقیف پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق آخری خبر ملنے تک بستان الباشا اور شیخ خضر کے علاقوں میں شام کی فوج اور دہشتگردوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہورہی تھی۔ شام کےایک فوجی کے بقول الکندی اسپتال تین دنوں تک فوج اور عوامی فورسز کی جدوجہد کے بعد آزاد ہوا ہے۔ اس کےعلاوہ شام کی فوج نے دو اسٹراٹیجیک علاقوں الجندول اور العویجہ میں بھی دہشتگردوں کا محاصرے مزید تنگ کردیا ہے۔ یہ علاقے حلب کے شمال مشرق میں واقع ہیں۔ حلب کے محاذ پر شام کی فوج کی برتری کے ساتھ ساتھ شام کی فوج کی چیف آف اسٹاف کمیٹی نے اعلان کرکے وارننگ دی ہے کہ مخالف اور دہشتگرد گروہ شہر حلب کے شمال مشرقی علاقوں سے خارج ہوجائیں۔اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ شام کی فوج اور روس یہ ضمانت دیتے ہیں کہ مسلح عناصر کو محفوظ راہداری دی جائے گی تا کہ وہ حفاظت سے حلب کے مشرقی علاقون سے خارج ہوسکیں اور اسی کے ساتھ ساتھ انہیں ضروری مدد بھی پہنچائی جائے گی۔
شام کی فوج حلب کے محاذ پر لڑنے کےساتھ ساتھ روس کی مدد سے اس شہر میں انسان دوستانہ امداد بھی پہنچارہی ہے۔ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے اعلان کے مطابق شہر حلب کا مشرقی حصہ امریکہ کے بقول اعتدال پسند مسلخ مخالفوں کے ہاتھ میں ہے اور تقریبا ڈھائی لاکھ شامی باشندے اس حصے میں ان مسلح مخالفین کے محاصرے میں گھرے ہوئے ہیں۔حلب کے مشرقی علاقے میں گنجان آبادی کے ہونے کی وجہ سے مغرب اور انسانی حقوق کے دعویدار شام اور روس کو مورد الزام ٹہرارہے ہیں اور ان علاقوں میں حملوں کی مذمت کررہے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ شام اور روس نے ضرورتمند شامی باشندوں اور مسلح افراد کے نکلنے اور انسان دوستانہ مدد بھیجنے کے لئے راستے معین کردئے ہیں اوریہ راستے کھلے ہوئے ہیں البتہ فوج ان پر نگرانی بھی کررہی ہے۔
حلب میں مسلح دہشتگردوں اور مسلح مخالفین کی وسیع سرگرمیوں کی بنا پر محاصرہ شدہ افراد طبی اور حفظان صحت کے لحاظ سے نہایت شدید حالات کا شکار ہوگئے ہیں اس کے علاوہ عوام کا کام و کاج اور کاروبار زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کی مدد کرنے کے بہانے مغرب کا منفی پروپگینڈا حلب میں شام اور روس کی مذمت کرنے کا حربہ بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں فرانس اور اسپین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلاےجانے کی درخواست دی ہے تا کہ اس میں حلب میں جھڑپیں ختم کرانے کی قرارداد کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس قرارداد میں فوری طور پر حلب کے لئے انسان دوستانہ امداد بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حلب میں یکطرفہ طور پر جھڑپوں کو بند کرنے کی کوششیں دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے مغرب کے دعووں کے برخلاف ہے کیونکہ حلب میں آج کل جس چیز کا مشاہدہ کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ وہ دہشتگردی سے جنگ کی حقیقی صورت ہے لیکن امریکہ اور اسکے حامی اس میں بھی فرق کرنا چاہتے ہیں۔ مغرب اور بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ حلب کا محاذ نام نہاد اعتدال پسند مسلح مخالفین کے لئے باقی رکھیں تا کہ شام میں اپنے طویل مدت اھداف حاصل کرسکیں۔