مسلمانوں پر نائیجیریا کی فوج کا تشدد ناقابل قبول
ایسے عالم میں جب نائیجیریا کے مذہبی پیشوا آیت اللہ ابراہیم زکزکی کو قید سے رہا کرنے کے لئے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ، اس ملک کی فوج نے مسلمانوں کے خلاف اپنے پرتشدد رویے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے- نائیجیریا کی تحریک اسلامی کے ترجمان موسی نے کہا کہ اس ملک کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ تشدد آمیز رویہ جاری رہنا کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں ہے-
کادونا سے ڈیلی ٹرسٹ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نائیجیریا کی فوج کے ترجمان موسی نے ایک بیان میں فوج کی جانب سے تحریک اسلامی پر تشدد پھیلانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ شیعہ مسلمانوں کی اسلامی تحریک نے جو گذشتہ کئی برسوں سے سماجی و سیاسی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے کبھی بھی غیرقانونی اور پرتشدد رویہ اختیار کیا ہے اور نہ کرے گی- تحریک اسلامی کے ترجمان نے مسلمانوں پر نائیجیریا کی فوج کے پرتشدد رویے کو روکے جانے اور آیت اللہ زکزکی کو فوری طور پر رہا کئے جانے پر تاکید کی ہے- اگرچہ نائیجیریا کے مسلمان چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی اس ملک کے دیگر ادیان و مذاہب کے پیرؤوں کے ساتھ باہمی احترام اور امن و سکون کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں تاہم گذشتہ برس شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ ابراہیم زکزکی کے گھر پر فوج کے حملے کے بعد ملک کے پرامن سیاسی ماحول کو نقصان پہنچا ہے- تیرہ دسمبر دوہزار پندرہ میں بقیتہ اللہ امامبارگاہ پر نائیجیریا کی فوج کے حملے میں شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شہید اور زخمی ہوگئی تھی اور آیت اللہ زکزکی کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا- نائیجیریا کی فوج کا دعوی ہے کہ آیت اللہ زکزکی کے حامیوں کی جانب سے زاریا کے علاقے میں فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف کو قتل کرنے کی کوشش ان کی گرفتاری کی وجہ ہے جبکہ مسلمانوں کی جانب سے اس دعوے کو باربار مسترد کیا جا رہا ہے- ایسے عالم میں جب آیت اللہ زکزکی کی گرفتاری کو ایک سال سے زیادہ کا عرضہ گذر رہا ہے اوررپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی جسمانی صحت کافی خراب ہے ، ان کی رہائی کے لئے انجام پانے والی تمام کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں- حالیہ دنوں میں فوج اور سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف اور آیت اللہ زکزکی کی رہائی کے لئے اس ملک کے مسلمانوں کے مظاہروں میں تیزی آئی ہے- نائیجیریا کے مسلمان ، محرم سے پہلے آیت اللہ زکزکی کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں - مظاہروں کا سلسلہ بڑھنے کے ساتھ ہی فوج نے مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ بڑھا دیا ہے یہاں تک کہ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کے مختلف علاقوں میں شیعہ مسلمانوں کی بڑی آبادی کے ساتھ فوج کی دشمنی مسلسل جاری ہے اور اس کے باعث مسلمانوں خاص طور پر شیعہ مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے- رپورٹوں کے مطابق اس ملک کے شیعہ مسلمانوں کے نامساعد حالات اور ان کے ساتھ جیلروں اور جیل حکام کا غیرانسانی سلوک ، شیعوں کی تشویش کا اصلی سبب بتایا جا رہا ہے- بعض ماہرین کا خیال ہے کہ نائیجیریا کی فوج آیت اللہ زکزکی کی گرفتاری کے بعد اس ملک کے مختلف شہروں میں تحریک اسلامی کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے- ان کے مطابق فوج کے اندر کچھ ایسے عناصر موجود ہیں کہ جو بعض غیر ملکی عناصر کے اکسانے پر مسلمانوں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اس کے باوجود بہت سے ماہرین اس طرح کے دباؤ کو فیڈرل حکومت کی ایما کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ بعض ممالک پیسے کا وعدہ دے کر مسلمانوں کے خلاف تشدد بڑھنے کا باعث بنے ہیں اور اس دباؤ اورحملے میں فوج کا زیادہ کردار نہیں ہے- ان کے بقول صیہونی حکومت ، علاقے میں اپنی پالیسیاں ناکام ہونے کے بعد گذشتہ چند برسوں سے بہت سے افریقی ملکوں میں اپنا اثر و نفوذ پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ افریقی ممالک کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکے اور اپنے تعلقات کو فروغ دے سکے- سعودی عرب اور خلیج فارس کے بعض عرب ممالک نے بھی نئی روش اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور افریقہ کے مسلم ملکوں میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ عسکری گروہوں کی حمایت کررہے ہیں اورانھیں مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے جنگی ساز و سامان فراہم کررہے ہیں- تفرقہ ڈالنے والی یہ اختلافی روش نے ہی درحققیت آیت اللہ زکزکی کی بلاسبب گرفتاری کی زمین ہموار کی اور اسلامی معاشرے میں ناراضگی و رنجش پیدا ہونے کا باعث بنی ہے- توقع ہے کہ نائیجیریا کی حکومت اس مسئلے کے حل اور اس ملک کے مسلمانوں کے مطالبات پر توجہ دے کر ملک میں امن بحال کرے گی-