افغانستان: ننگرہار میں امریکہ مخالف مظاہرہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i251725-افغانستان_ننگرہار_میں_امریکہ_مخالف_مظاہرہ
افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جرائم جاری رہنے کے بعد اس ملک کے مشرقی صوبے ننگرہار کے عوام نے امریکہ کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۶:۲۲ Asia/Tehran
  • افغانستان: ننگرہار میں امریکہ مخالف مظاہرہ

افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جرائم جاری رہنے کے بعد اس ملک کے مشرقی صوبے ننگرہار کے عوام نے امریکہ کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔

صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد کے عوام نے اس مظاہرے میں قابضوں کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے خلاف نعرے لگائے اور اپنے ملک سے غیرملکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا۔

صوبہ ننگرہار کے علاقے آچین کے رہائشی علاقوں پر امریکہ کے حالیہ ہوائی حملے میں پندرہ عام شہری جبکہ صوبہ فراہ کے علاقے بالابلوک میں امریکی فوج کے حملے میں چھے فوجی ہلاک ہو گئے۔ افغان پارلیمنٹ نے امریکہ کے ان جرائم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے آچین پر امریکہ کے ہوائی حملے کے بارے میں تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کی خبر دی ہے۔

امریکی فوجیوں نے دو ہزار ایک سے افغانستان پر قبضہ کر رکھا ہے جس کے بعد سے اس نے افغانستان کے عام شہریوں اور فوجیوں کو کئی بار اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی بنا پر کابل واشنگٹن سیکورٹی معاہدے میں امریکی فوجیوں کو عدالتی تحفظ دینے پر افغان عوام نے سخت احتجاج کیا تھا۔ امریکی فوجیوں کو اپنے فوجی کمانڈروں کی حمایت حاصل ہے اور افغانستان میں جرائم کا ارتکاب کرنے کے باوجود گزشتہ پندرہ سال کے دوران امریکی فوج کے عدالتی شعبے نے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اپنے ایک بھی فوجی کو سزا نہیں دی ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے امریکی فوجیوں کے لیے ایک سیکورٹی حصار قائم ہو گیا ہے جس نے انھیں افغانستان میں اپنے جرائم کو جاری رکھنے کے سلسلے میں مزید گستاخ اور جری کر دیا ہے۔

افغانستان کی حکومت نے مختلف تحقیقاتی کمیٹیاں قائم کر کے ثابت کیا ہے کہ امریکی فوجی اپنے حملوں میں قصوروار تھے لیکن امریکی فوج نہ صرف ان کمیٹیوں کی رپورٹوں پر کوئی توجہ نہیں دیتی ہے بلکہ وہ افغان عوام سے معافی مانگنے پر بھی تیار نہیں ہے۔

امریکی فوج داعش سمیت دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے بہانے افغانستان میں اپنے فوجیوں کے جرائم کا جواز پیش کرتی ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب افغانستان کے بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ نہ صرف افغانستان میں دہشت گردوں کو ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہے بلکہ بعض اوقات وہ افغان فوجیوں پر حملہ کر کے دہشت گردوں کو افغان فورسز کے محاصرے سے بھاگ نکلنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی کے دور میں افغان فوج اور امریکی فوج کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق امریکہ اس بات کا پابند تھا کہ وہ افغان وزارت دفاع کی ہم آہنگی کے بغیر کارروائی نہیں کرے گا اور اپنے خودسرانہ حملے بھی ختم کر دے گا۔ لیکن امریکی فوجی نہ صرف اس معاہدے پر عمل نہیں کرتے ہیں بلکہ افغانستان میں داعش گروہ کے وجود میں آنے کی وجہ سے امریکی فوجی اس کا مقابلہ کرنے کے بہانے ہر قسم کا جرم انجام دے رہے ہیں کہ جس پر افغان عوام نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

بہرحال افغان عوام چاہتے ہیں کہ امریکہ ان کے ملک کی قومی حاکمیت اور خودمختاری کا احترام کرے اور وہ افغانستان کی قومی حکومت سے بھی اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ ٹھوس کارروائی کر کے ملک میں امریکی فوجیوں کے جرائم کا سلسلہ روکے۔