پاکستان میں شیعہ مسلمانوں پر دہشت گردانہ حملہ
پاکستان میں ماہ محرم الحرام اور ایام عزاء شروع ہونے کے ساتھ ہی دہشت گردوں نے صوبے بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں شیعہ مسلمانوں کی حامل ایک مینی بس پر حملہ کر دیا جس میں چار عورتیں شہید اور ایک شخص زخمی ہو گیا۔
کوئٹہ کے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے شیعہ مسلمانوں کی حامل مینی بس کا راستہ روکا اور بس میں اندر داخل ہو کر مسافروں پر براہ راست اندھادھند فائرنگ شروع کر دی جس میں چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں پر دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ اس ملک کی مختلف اسلامی تنظیموں اور جماعتوں کے رہنماؤں نے پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سخت حفاظتی اقدامات عمل میں لاتے ہوئے پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ اور دہشت گردانہ حملوں کی روک تھام کریں۔ پاکستان کی حکومت اور سیکورٹی ذرائع نے بھی اپنے ملک کے عوام کو اس بات کا یقین دلایا تھا کہ سخت حفاظتی اقدامات عمل میں لاتے ہوئے پاکستانی عوام اور خاص طور سے شیعہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس رو سے محرم اور ایام عزاء شروع ہوتے ہی پاکستان میں شیعہ مسلمانوں پر دہشت گردانہ حملہ، ایک طرح سے پاکستانی فوج اور سیکورٹی فورسز کے مقابلے میں دہشت گردوں کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ کیا جانا شمار ہوتا ہے۔ گذشتہ ایک عشرے کے دوران پاکستان کے صوبے بلوچستان میں شیعہ مسلمانوں پر چودہ سو سے زائد بار ٹارگٹڈ حملے ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں مجالس و جلوس ہائے عزا کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں مگر سندھ اور بلوچستان میں آٹھویں اور نویں محرم یعنی شب تاسوعا اور شب عاشورہ کے موقع پر شیعہ مسلمانوں پر دہشت گردانہ حملے کئے گئے جن میں کم از کم چھتّیس افراد شہید اور سو سے زائد دیگر زخمی ہو گئے تھے جبکہ ان دہشت گردانہ حملوں اور بم دھماکوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے نشانہ بنے تھے۔ جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں فرقہ پرست اور دہشت گرد گروہ، ہر سال نئے قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے کے لئے خود کو آمادہ کرتے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ پاکستان کے شیعہ و سنّی مسلمان، مشترکہ طور پر نواسۂ روسولۖ حضرت امام حسین (ع) کی شہادت کا غم مناتے اور عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں اور اس ملک کے اہلسنّت مسلمان، خاندان نبوّت یعنی اہلبیت اطہار (ع) سے خاص عقیدت رکھتے ہیں یہاں تک کہ خاندان عصمت و طہارت میں شامل عظیم ہستیوں کے ناموں پر اپنے بچوں کا نام رکھتے ہیں۔ اس رو سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کے لئے، کئے جانے والے دہشت گردانہ حملوں میں بیرونی عناصر کے ہاتھ کار فرما ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے بعض دینی مدارس میں وہابی افکار کے زیراثر دی جانے والی غلط تعلیمات اس بات کا باعث بنی ہیں کہ دہشت گرد اور بیرونی آلۂ کاروں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر ٹارگٹڈ حملے کئے جاتے ہیں۔ بلا شبہ اسلامی ملکوں منجملہ پاکستان میں فرقہ واریت اور بحران و بدامنی سے غاصب صیہونی حکومت کو بہت زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ سعودی عرب بھی، جو عراق، شام اور یمن میں دہشت گرد گروہوں کی کھلی حمایت کرکے عالم اسلام کے مقابلے میں جا کھڑا ہوا ہے، اسلامی ملکوں منجملہ پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا کر ایک طرح سے ان ملکوں میں اپنی ہونے والی شکست و ناکامی سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔