سری لنکا کے وزیر اعظم کا دورہ ہندوستان
سری لنکا کے وزیر اعظم رانل وکرمے سنگھے، ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
سری لنکا کے وزیر اعظم نے ایسی حالت میں نئی دہلی کا دورہ کیا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے حالات، اس وقت ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی سے کافی متاثر محسوس کئے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر سری لنکا کے وزیر اعظم رانل وکرمے سنگھے کے دورہ نئی دہلی کا مقصد، دونوں ملکوں کے دو طرفہ خاص طور سے اقتصادی تعلقات کے فروغ کے طریقوں کا جائزہ لینا ہے۔ یہ دورہ، ایسے وقت میں انجام پا رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اب بھی سری لنکا میں نسلی جنگ کے دور سے کافی متاثر ہیں۔ تمل ٹائیگرز کے خلاف جنگ کے دور میں حکومت ہندوستان سے حکومت سری لنکا کی درخواست پر نئی دہلی کی جانب سے لاتعلقی، نئی دہلی اور کولمبو کے تعلقات میں سردمہری پیدا ہونے اور ہتھیاروں کی فراہمی کے لئے چین کی طرف سری لنکا کا رجحان بڑھنے کا باعث بنی۔ اقتصادی و فوجی مقاصد کے لئے سری لنکا کی بعض بندرگاہوں کو اختیار میں لینے اور اس ملک سے اقتصادی مراعات حاصل کرنے میں چین کی کامیابی، ہندوستان میں حکومت سری لنکا کی پالیسیوں کے بارے میں ماضی سے کہیں زیادہ ناراضگی بڑھنے کا موجب بنی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ہندوستان اور سری لنکا دونوں ہی، علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے رکن ممالک ہیں اور ہندوستان ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ بحر ہند میں پڑوسی ملکوں کے ہاتھوں چین کی موجودگی کا ذریعہ فراہم ہو۔ ہندوستان و چین، ایشیاء کے دو ایٹمی اور ایک دوسرے کے حریف ممالک ہیں اور ہندوستان نہیں چاہتا کہ اس کے زیراثر علاقوں میں چین کی موجودگی پائی جائے۔ اس وقت سری لنکا میں نئے صدر میتھری پالا سری سینا کے برسر اقتدار آنے سے نیا سیاسی ماحول پیدا ہوا ہے جس میں ہندوستان، اس ملک میں اپنی پوزیشن بہتر بناتے ہوئے سری لنکا میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ روکنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اگرچہ سری لنکا کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ ان ملک، چین کے ساتھ طے پانے والے ماضی کے سمجھوتوں پر کاربند ہے تاہم انھوں نے کہا ہے کہ سری لنکا کے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی شرکاء کے ساتھ متوازن تعلقات کا فروغ کولمبو حکومت کی اصولی پالیسی ہے۔ دوسری جانب سری لنکا کی حکومت اپنے ملک میں موجودگی کے لئے نئی دہلی اور بیجنگ میں پائی جانے والی رقابت سے سری لنکا میں ان ملکوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے حصول کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ، سری لنکا کی تعمیر نو کے عمل میں ان ملکوں کو زیادہ سے زیادہ شراکت کی ترغیب بھی دلا رہی ہے۔ کولمبو کی حکومت، تقریبا گذشتہ ایک عشرے سے خاص طور سے تمل ٹائیگرز کے خلاف جنگ کے خاتمے کے ساتھ سری لنکا کی تعمیرنو کے لئے بین الاقوامی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی مناسبت سے بین الاقوامی اجلاس بھی تشکیل دیا گیا۔ مگر کولمبو کی حکومت کا خیال ہے کہ وہ، علاقائی تعاون کی توسیع کے دائرے میں سری لنکا کی تعمیر نو کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے سرمایہ کاری کے حصول کی اور زیادہ بہتر راہ ہموار کرسکتی ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کا یہ بیان کہ نئی دہلی اور کولمبو تیل، گیس، توانائی اور حمل و نقل کے شعبوں میں اپنے تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں، اسی تناظر میں قابل غور ہے۔ اس سلسلے میں طے پایا ہے کہ نئی دہلی میں سری لنکا کے وزیر اعظم کی شرکت سے ہندوستان اور سری لنکا کا اقتصادی اجلاس تشکیل پائے گا۔ بہرحال ایسی حالت میں کہ سری لنکا کے وزیر اعظم، اپنے دورہ نئی دہلی کے دوران دونوں ملکوں کے دو طرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، ہندوستان بھی اس دورے سے پاکستان کے خلاف سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لئے کہ ہندوستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کی جانب سے بائیکاٹ کی بناء پر اسلام آباد میں تشکیل پانے والا سارک کا سربراہی اجلاس، ملتوی کر دیا گیا۔ ایسی صورت حال میں سری لنکا کے وزیر اعظم کا دورہ نئی دہلی، ہندوستان کے لئے بہت اہم اور اپنے ایٹمی حریف ملک منجملہ پاکستان کے مقابلے میں علاقائی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا ایک موقع شمار ہوتا ہے۔