ایران کے خلاف بان کی مون کا انسانی حقوق کا دعوی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i251857-ایران_کے_خلاف_بان_کی_مون_کا_انسانی_حقوق_کا_دعوی
اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال مزید خراب ہوئی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۵, ۲۰۱۶ ۱۶:۳۴ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف بان کی مون کا انسانی حقوق کا دعوی

اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال مزید خراب ہوئی ہے۔

خبری ذرائع کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے جاری ہونے والی بان کی مون کی انیس صفحات پر مشتمل رپورٹ میں آیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ایران میں بقول ان کے پھانسیوں کے اعداد و شمار، خودسرانہ گرفتاریوں، غیرمنصفانہ مقدموں اور قیدیوں کے ساتھ برے سلوک پر سخت تشویش ہے۔

اقوام متحدہ کی دو ہزار سولہ کی رپورٹ میں آیا ہے کہ دو ہزار پندرہ میں ایران میں کم از کم نو سو چھیاسٹھ افراد کو پھانسی دی گئی کہ جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

آزادی بیان اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں بھی اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں نہ صرف کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی ہے بلکہ حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوئے ہیں اور یہ توقعات کے برخلاف ہے۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب ایران کا آئین تمام انسانوں کی عزت و کرامت اور حقوق کے احترام پر مبنی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل انیس کے مطابق ایرانی عوام چاہے ان کا تعلق کسی بھی قوم اور ثقافت سے ہو، مساوی حقوق کے حامل ہیں اور رنگ، نسل، زبان اور اس قسم کی چیزیں کسی امتیاز کا سبب نہیں بنیں گی۔

اقوام متحدہ کی دو ہزار سولہ کی رپورٹ میں اسی طرح ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان قوانین اور ضوابط کو کم کرے کہ جو آزادی اور روزگار کی سیکورٹی کے سلسلے میں شہری اور سماجی سرگرم کارکنوں کے لیے محدودیت پیدا کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں اسی طرح ایران میں پناہ گزینوں کی صورت حال اور ان کی جبری جلاوطنی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ان دعووں میں گزشتہ رپورٹوں کے مقابلے میں ایک نئے مسئلے کا بھی اضافہ ہوا ہے کہ جو ایرانی حکام کی جانب سے کم عمر افراد سمیت افغان مہاجرین اور پناہ گزینوں کو شام میں جنگ کے لیے بھیجنے کے بارے میں ہے۔

ان بےبنیاد دعووں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف انسانی حقوق کے موقف اور دعوے بدستور ایرانوفوبیا اور بین الاقوامی میدان میں اسلامی جمہوری نظام کا انسانی حقوق مخالف چہرہ پیش کرنے کے قالب میں جاری ہیں۔ بان کی مون کی رپورٹ بھی بالکل اسی مقصد کے تحت اور اسی تناظر میں تیار اور جاری کی گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جو کچھ انسانی حقوق کے اعلامیوں کے عنوان کے تحت جاری کیا جاتا ہے، کیا اسے انسانی حقوق کے دعویداروں کے مقاصد شفاف ہونے کی سند سمجھا جا سکتا ہے؛ اور کیا مغرب کے انسانی حقوق کے اس قسم کے دعوے حقیقت رکھتے ہیں؟ اور کیا اقوام متحدہ نے فلسطین، یمن عراق اور افغانستان میں ہر روز سینکڑوں بےگناہ انسانوں اور بچوں کے قتل عام سمیت کہ جو براہ راست انسانی حقوق کے دفاع کے دعویدار ملکوں کے اسلحے سے مارے جا رہے ہیں، اپنی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں پر ٹھیک طرح سے عمل کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ایسی حالت میں ایران پر مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں کہ جب انھوں نے امریکہ، یورپ اور کینیڈا میں سیاہ فاموں اور مسلمانوں کے حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی پر اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے کہ جو اپنی ذمہ داریوں کے آخری دن گزار رہے ہیں، یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ بےبنیاد دعووں کو دہرانے کے بجائے انسانی حقوق کی حقیقی سنگین خلاف ورزیوں پر توجہ دیں گے۔ بان کی مون شاید بھول چکے ہیں کہ چند ماہ قبل ہی سعودی عرب اور اس کی لابی کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے انھوں نے مجبور ہو کر سعودی عرب کا نام بچوں کی قاتل حکومتوں کی بلیک لسٹ سے نکال دیا تھا۔ لیکن رائے عامہ اس اقدام کو فراموش نہیں کرے گی کہ جو سیکریٹری جنرل کی انسانی حقوق کی کارکردگی میں شرمندگی کا باعث ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران انسانیت سوز جرائم کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی کارکردگی کو درحقیقت اس ادارے کی انسانی حقوق کے بارے میں کارکردگی کا سیاہ ترین باب سمجھنا چاہیے کہ جس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔

مغرب میں انسانیت مخالف افکار و نظریات کی ترویج کے آثار کا امریکہ اور بعض یورپی ملکوں میں نسل پرستانہ رویوں میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جو انسانی حقوق کے دعویدار ملکوں میں انسانیت مخالف فکر کے پھیلنے کی عکاسی کرتا ہے لیکن اقوام متحدہ نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران کے بارے میں انسانی حقوق مخالف رپورٹ ایک ایسے وقت جاری کی ہے کہ جب ان کے پاس اپنی کاکردگی کی توجیہ میں کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ہے اور یہ رپورٹ بھی انسانی حقوق کے بارے میں دوہرے معیارات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے کہ جو صرف امریکہ اور انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کے سیاسی مقاصد کو پورا کرتی ہے۔