بریسلز میں سرتاج عزیز اور اشرف غنی کی ملاقات
برسلز کا عالمی اجلاس جو افغانستان کے مسائل کے حل اور اس ملک کے تعمیراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کے لئے منعقد ہوا ہے دو لحاظ سے اہم ہے اور اس ملک کے حالات کے لئے موثر سمجھا جا رہا ہے-
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس اجلاس کے موقع پر خارجہ امور میں پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ایک دوسرے سے ملاقات کی ہے جو نہایت اہم سمجھی جارہی ہے - دوسرے یہ کہ برسلز اجلاس میں دوہزار سترہ سے دوہزار بیس تک افغانستان کی پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد پیش نظر رکھی گئی ہے کہ جو اپنے آپ میں لبھانے والی اور حوصلہ افزا ہے- سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ وعدوں پر عمل کی صورت میں یہ دونوں تبدیلیاں افغانستان کے حالات پر فیصلہ کن اثرات مرتب کرسکتی ہے-
افغانستان اور پاکستان کے ان دو اہم عہدے داروں اشرف غنی اور سرتاج عزیز کی ملاقات ایسے عالم میں انجام پائی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات حالیہ سرحدی جھڑپوں ، افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے حملوں میں شدت نیز افغانستان کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس ملک کے امن کے عمل میں مدد کی درخواست پر توجہ نہ دینے کا الزام عائد کئے جانے کے باعث سرد مہری کا شکار ہیں- یہاں تک کہ افغانستان کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی روش پاکستان کے لئے باعث تشویش بن گئی ہے- اس بنا پر ایسا نظر آتا ہے کہ خارجہ امور میں پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کی ملاقات دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے میں مدد کے ساتھ ہی ان کے درمیان خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوگی - سرتاج عزیز کے اس بیان کا کہ اسلام آباد، افغانستان میں قیام امن و استحکام کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرتا، اسی تناظرمیں جائزہ لیا جا سکتا ہے تاہم افغان حکام کی نگاہ میں حکومت پاکستان کو افغانستان کے سیکورٹی مسائل کے حل کے لئے اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہئےخاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب سرتاج عزیز نے اشرف غنی سے ملاقات میں تاکید کی ہے کہ طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل میں شرکت کرنا چاہئے اور اس ملک میں جنگ اور عوام کے قتل عام کا سلسلہ ختم کرنا چاہئے- اگرچہ کابل حکومت ، اسلام آباد سے اسی طرح کے موقف کی توقع رکھتی ہے تاہم جب تک حکومت پاکستان امن مذاکرات میں شرکت کے لئے طالبان کو مجبور کرنے کے لئے اپنے اثر و نفوذ کو استعمال نہیں کرتی اس وقت تک کابل کی نگاہ میں پاکستانی حکام کے اس طرح کے بیانات افغانستان کے حالات پراثرانداز نہیں ہوسکتے- افغانستان میں امن و سیکورٹی اس لحاظ سے اس ملک کے قومی اتحاد کی اہم ترجیح ہے کہ برسلز کے بین الاقوامی اجلاس میں افغانستان کے لئے پندرہ ارب ڈالر کی مدد منظور کی گئی ہے کہ جس پر اگر عمل ہوا تو یہ افغانستان کی تعمیرنو کے عمل اور اس ملک کے اقتصادی مسائل کے حل میں فیصلہ کن ثابت ہوگی- افغانستان حکومت کی نگاہ میں اس ملک میں امن و استحکام کے قیام کا راستہ پاکستان سے ہو کرگذرتا ہے اوراسے ہموار کرنے میں اس ملک کا کردار فیصلہ کن اور موثر ہے اور طالبان کی شرکت کے بغیر یہ مہم سر نہیں ہوگی - بہرحال سیاسی ماہرین کی نگاہ میں ایسی حالت میں جب اسلام آباد اور کابل ایک دوسرے کی پالیسیوں کے سلسلے میں تشویش رکھتے ہیں اشرف غنی اور سرتاج عزیز کی ملاقات اس تشویش کو کم کرنے میں مدد کرسکتی ہے - یعنی یہ کہ پاکستان اور افغانستان حالات کو سمجھتے ہوئے حقیقت پسندی کے ساتھ تشویشوں کو دور کرنے کی کوشش کریں - افغانستان ، ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو شفاف بنا کر اور پاکستان، طالبان کو امن مذاکرات میں شرکت کی ترغیب دلا کر علاقے میں پائدار امن کی راہ ہموار کرسکتے ہیں اور یہ صورت حال پاکستان چین مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد میں مدد کے ساتھ ہی افغانستان کی اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے اوراس ملک کی تعمیرنو کے لئے بین الاقوامی مدد حاصل کرنے کا امکان بھی فراہم کرسکتی ہے-