مشترکہ جامع ایکشن پلان اور اقوام متحدہ سے ایران کی توقعات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i251956-مشترکہ_جامع_ایکشن_پلان_اور_اقوام_متحدہ_سے_ایران_کی_توقعات
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے غلام علی خوشرو نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی سالانہ رپورٹ کے بارے میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ سے رپورٹیں تیار کرنے اور اس معاہدے پر عمل درآمد کا غیرجانبدارنہ جائزہ لینے میں مثبت کردار ادا کرے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۱:۳۴ Asia/Tehran
  • مشترکہ جامع ایکشن پلان اور اقوام متحدہ سے ایران کی توقعات

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے غلام علی خوشرو نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی سالانہ رپورٹ کے بارے میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ سے رپورٹیں تیار کرنے اور اس معاہدے پر عمل درآمد کا غیرجانبدارنہ جائزہ لینے میں مثبت کردار ادا کرے-

غلام علی خوشرو نے جو بدھ کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے کی مکمل پابندی اوراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹوں میں  بعض فریقوں کی جانب سے کی جانے والی وعدہ خلافیوں کو منعکس کیا جانا چاہئے- اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا جو ایران کے ساتھ عالمی برادری کے تعلقات میں سنگ میل ہے - بان کی مون نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ باہمی فہم و فراست، علاقے اور علاقے سے باہر درپیش بہت سے سنجیدہ سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں بہتر تعاون پرمنتج ہوگا- اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے یہ بیانات درحقیقت ایک موثر اور جامع سمجھوتے کی حیثیت سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی اہمیت پرتاکید مکرر ہے تاہم اس سمجھوتے کے موثر ہونے کا انحصار مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے سلسلے میں متوازن قدم اٹھانے اور اقوام متحدہ کی جانب سے غیرجانبدارانہ اور ذمہ دارانہ قدم اٹھانے پر ہے- امریکہ نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے سلسلے میں شفافیت سے عمل نہیں کیا ہے - یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جسے عالمی برادری دیکھ رہی ہے اور ملت ایران کو حق دیتی ہے کہ وہ نہ صرف امریکی حکومت پر اعتماد نہ کرے بلکہ امریکی حکومت کے ساتھ کسی بھی طرح کے ممکنہ اشتراک عمل پر یقین نہ کرے- وائٹ ہاؤس اپنے دہرے رویے کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے اس دہرے رویے کی قیمت پوری دنیا کوچکانی پڑے گی - اس دہرے رویے کی ایک مثال ایٹمی ترک اسلحہ کا موضوع ہے- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایٹمی ہتھیاروں کے حامل دیگرممالک ایٹمی ترک اسلحہ کے معاہدے پر دستخط نہیں کر رہے ہیں اور امریکہ اور فرانس نے اسرائیل کو جو وسائل اور ہتھیار دیئے ہیں اس سے انھوں نے اس حکومت کو مشرق وسطی کے لئے ایک خطرہ بنا دیا ہے اور اقوام متحدہ بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کرتی- امریکہ نے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی کانفرنس کے انعقاد کی مخالفت کی ہے جبکہ ایران نے اس کانفرنس کے انعقاد کی تجویزدی تھی-

ان تمام حقائق کے پیش نظر ہی اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے عالمی برادری کی سب سے بڑی ترجیح ایٹمی ترک اسلحہ معاہدے پر عمل درآمد کی کوششوں پرکہ جو مسلسل لاحاصل رہی ہیں ، مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا ہے- غلام علی خوشرو نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ممالک اس سلسلے میں اپنے عہد و معاہدے کی خلاف ورزی کررہے ہیں ، ان ممالک کی جانب سے معاہدے کی پابندی نہ کئے جانے کو ایٹمی ترک اسلحہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا اور تاکید کی کہ ان ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ ہی انھیں استعمال نہ کئے جانے کی واحد ضمانت شمار ہوتی ہے- امریکہ نے اپنی اس روش سے ثابت کردیا ہے کہ نہ صرف مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد شفاف نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انسانی حقوق جیسے دیگر موضوعات بھی قابل بھروسہ نہیں ہے- امریکہ نے دہشت گردی اور اس کی جڑ یعنی القاعدہ اور داعش کے سلسلے میں دہرے رویے پر عمل کیا ہے اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کو چھپاتا ہے- امریکہ ، سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت پر بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور اوباما نے گیارہ ستمبر کے واقعے کی بھینٹ چڑھنے والوں کے اہل خاندان کی شکایت کے سلسلے میں کانگریس کے بل کو بھی ویٹو کردیا ہے البتہ یہ ویٹو بھی کچھ نہیں کرسکا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے تین سال پہلے تشدد و انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ضرورت کی بھی یاد دہانی کرائی اور خبردار کیا تھا کہ اگریہ دہرا رویہ جاری رہا تو سب کو عدم استحکام سے دوچار کردے گا لیکن امریکی سربراہی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دعوے دار صرف دہشتگردی کو اپنے اہداف آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کی فکر میں تھے اور اب خود دہشت گردی میں پھنس گئے ہیں- واضح ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان ایٹمی مذاکرات میں ایک کامیابی ہے تاہم فریق مقابل کی وعدہ خلافیوں کی جانب سے غافل نہیں ہونا چاہئے - ایٹمی سمجھوتے کے حصول نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سیناریو پر پانی پھیر دیا اور اقوام متحدہ کے منشور کی ساتویں شق سے ایران کے ایٹمی مسئلے کے حذف ہونے سے ایران کے خلاف دھمکیوں کا اثر کم کردیا - جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اپنی رپورٹ میں تاکید کی ہے کہ یہ سمجھوتہ فریق مقابل کی فہم اور علاقے اور علاقے سے باہر درپیش بہت سے سنجیدہ سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں بہترتعاون پر منتج ہونا چاہئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے موجودہ حالات میں اس ہدف کے حصول کا انحصار اس بات پر ہے کہ عالمی طاقتوں کا زاویہ نگاہ تبدیل ہو- کیونکہ جب تک توسیع پسندی  موجود رہے گی اور اقوام متحدہ بھی بڑی طاقتوں کے ویٹو کے انحصاری حق کی بنیاد پر یکطرفہ فیصلوں کا میدان بنا رہے گا تو اس مقصد کے عملی جامہ پہننے کی امید نہیں کی جاسکتی -