اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے تعیین کا فیصلہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے اتفاق سے اس ادارے کے آئندہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کی راہ ہموار ہوگئی -
نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر میں بدھ کو ہونے والے اجلاس میں آخر کار پرتگال کے سابق وزیراعظم اوراس ادارے کے ہائی کمیشنر آنتو نیو گوترس کئی غیررسمی اجلاس کے بعد بان کی مون کے جانشین منتخب ہوئے - پروگرام کے مطابق سلامتی کونسل کی باقاعدہ ووٹنگ کے بعد آنتونیو گوترس کو باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لئے پیش کیا جائے گا - اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق سلامتی کونسل کی جانب سے پیش کئے جانے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کی ذمہ داری اس ادرے کی جنرل اسمبلی کے ذمہ ہے - اس کے باوجود ہمیشہ ایک ایسے شخص کو اس عالمی ادارے کے سب سے بلند عہدے پرفائر کیا جاتا ہے کہ جسے سلامتی کونسل کے تمام اراکین کی حمایت حاصل ہو- چنانچہ گذشتہ اکھتر برسوں میں ہمیشہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا انتخاب سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین امریکہ ، برطانیہ ، روس ، چین اور فرانس کے صلاح و مشورے اور ان کے درمیان سودے کا ماحصل رہا ہے - البتہ اس بیچ سیاسی روش کے مطابق اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل جغرافیائی علاقوں سے بالترتیب انتخاب ہوتا ہے اور اسی بنا پر اس بار جغرافیائی لحاظ سے یورپ کا نمبر تھا اورمہینوں بعد قرعہ پرتگال کے سابق وزیر اعظم کے نام نکلا- آنتونیو گوترس ، ملکی و غیرملکی سطح طویل سیاسی تجربات کے حامل رہے ہیں - وہ انیس سو بانوے میں پرتگال کی سب سے اہم اپوزیشن جماعت سوشلسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے- تین سال بعد ان کی یہ پارٹی انیس سو پنچانوے کے انتخابات میں کامیاب ہوئی اور گوترس کو کابینہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی - سات سال تک گوترس پرتگال کے وزیراعظم رہے- یہاں تک کہ اپنی وزارت عظمی کے دوسرے دور میں سوشلسٹ پارٹی کی مقبولیت میں کمی آنے کے بعد آخرکار انھوں نے دوہزاردو میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا - پرتگال کے اندر سیاسی سرگرمیوں سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد گوترس نے معروف انٹرنیشنل سوشلسٹ شخصیت کی حیثیت سے اس ادارے کے ہائی کمیشنر کے عنوان سے اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔
گذشتہ پندرہ برسوں میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی حیثیت سے گوترس کے انتخاب کے وقت سے ہی دنیا نے غیرقانونی مہاجرین ،پناہ گزینوں اور جلاوطنوں کی لہر کا مشاہدہ کیا ہے - افغانستان
عراق ، شام اور لیبیا کی خونریز جنگیں کہ جن سے لاکھوں انسانوں کو دربدر ہوگئے ہیں اگرچہ دنیا میں پناہ گزینوں کی عظیم لہر کے سامنے اس ادارے کی کارکردگی پر گہری تنقیدیں ہو رہی ہیں اس کے باوجود اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سب سے بڑے منصب پر گوترس کے اقدامات نے گوترس کے لئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر بیٹھنے کی راہ ہموار کردی-