پوتن اور اردوغان کی ٹیلیفونی گفتگو
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i252004-پوتن_اور_اردوغان_کی_ٹیلیفونی_گفتگو
روس اور ترکی کے سربراہان مملکت نے ٹیلیفوںی گفتگو میں شام کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۶:۰۹ Asia/Tehran
  • پوتن اور اردوغان کی ٹیلیفونی گفتگو

روس اور ترکی کے سربراہان مملکت نے ٹیلیفوںی گفتگو میں شام کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے-

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کی یہ ٹیلیفونی گفتگو، شام اورعراق میں رونما ہونے والی تازہ ترین صورتحال کے بعد اور توانائی کی عالمی کانفرنس کے انعقاد سے پہلے اہمیت کی حامل ہے- واضح رہے کہ اس کانفرنس کا انعقاد ترکی میں ہوگا-

ماسکو اور انقرہ کے تعلقات میں سرد مہری کا ایک دور گذرنے کے بعد ، اردوغان ماسکو کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بتدریج دوبارہ بحال کرنے کے درپے ہیں-

توانائی کے شعبے میں بڑے مشترکہ منصوبوں منجملہ روس کے توسط سے ترکی کے پہلے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر پرعملدرآمد کا مسئلہ ممکن ہے روس کی جانب سے ایک پرکشش تجویز ہو تاکہ ماسکو انقرہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے سے متعلق اپنا رجحان ظاہر کرے-

مغربی حکومتوں کے ساتھ ترکی کے سرد تعلقات کے ساتھ ہی ماسکو کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ترکی کی کوشش اس امر کی غماز ہے کہ ترک حکومت کے رہنما اپنی علاقائی پالیسیوں میں اصلاح کے خواہاں ہیں -

پوتن اور اردوغان کے درمیان ٹیلیفونی گفتگو میں شام کی تازہ ترین صورتحال کے جائزے سے اس نقطہ نگاہ کی تائید ہوتی ہے کہ علاقے میں ترکی کی جارحانہ پالیسی پر ملکی اور غیر ملکی سطح پر تنقیدوں میں اضافہ ہوا ہے-

انقرہ کی جانب سے شام میں سپر فرات سے موسوم فوجی کاروائی  اور اسی طرح شمالی عراق میں ترکی کی فوجی کاروائیوں میں شدت اس امر کی غماز ہے کہ ترکی اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ جارحانہ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے-

ترکی کے حکام عراق کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ہی اس بات کے مدعی ہیں کہ انہوں نے بغداد کی حکومت کے ساتھ  شمالی عراق اور شہر موصل میں ترکی کی فوج کی کاروائی کےبارے میں پہلے سے موافقت کرلی ہے-

ترکی کے نائب وزیر اعظم کا سخت لہجے میں یہ کہنا  کہ کسی کو حق نہیں ہے کہ شمالی عراق میں ترکی کی فوج کی موجودگی کی مخالفت کرے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ترکی، عراق اور شام جیسے پڑوسی ملکوں میں کھلی مداخلت کر رہا ہے ، جبکہ عراق اور شام کے حکام اسے اپنی ملک کے خلاف جارحیت قرار دے رہے ہیں-

ترکی کے جارحانہ رویوں کے خلاف عراق نے سب سے کم اپنا ردعمل ظاہرکرتے ہوئے، بغداد میں ترکی کے سفیر کو طلب کیا اور اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ، یہ اقدام بھی موصل کے شمال میں ترکی کی فوج کے غاصبانہ قبضے کے خلاف عراقی پارلیمنٹ کے احتجاجی بل کے پاس ہونے کے بعد انجام پایا ہے - عراقی وزیر اعظم نے بھی شمالی عراق میں ترکی کی فوجی موجودگی پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے علاقے میں انقرہ کی فوجی مہم جوئی کے بارے میں خبردار کیا ہے-

شام میں دائمی جنگ بندی اور اس ملک کی ارضی سالمیت کے تحفظ کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے عرب لیگ کی درخواست بھی شام میں ترکی کی فوجی مہم جوئی کے خلاف علاقائی ردعمل کا ایک حصہ ہے-

لیکن ترکی کے حکام ان ردعمل پر توجہ کئے بغیر اور روس جیسے ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کے حربوں کے ذریعے علاقے میں اپنی غاصبانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے درپے ہیں -

اردوغان کی پوتن کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو اور توانائی کے شعبے میں دونوں ملکوں کا تعاون نیز ماسکو کو ایٹمی تنصیبات کی تعمیر کا کام سونپنا بھی ، عالمی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ترک حکومت سودے بازی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے-