صدر ایران کا دورہ ملیشا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i252139-صدر_ایران_کا_دورہ_ملیشا
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران اور ملائیشیا کے باہمی تعاون میں توسیع کو دونوں ممالک کے مفادات کے تناظر میں اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۷, ۲۰۱۶ ۱۵:۰۴ Asia/Tehran
  • صدر ایران کا دورہ ملیشا

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران اور ملائیشیا کے باہمی تعاون میں توسیع کو دونوں ممالک کے مفادات کے تناظر میں اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کا اپنا دورہ جاری رکھتے ہوئے جمعے کی صبح ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالپمور پہنچے۔ اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں توسیع کے سلسلے میں پرعزم ہے اور اسے بہت اہمیت دیتا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے دورے کے پہلے مرحلے میں ویتنام کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں انجام پائیں اور مختلف سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں ویتنام کے ساتھ تعلقات کی توسیع کے راستوں کا جائزہ لیا گیا۔

صدر مملکت کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر حسن روحانی نے صراحت کے ساتھ کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کی وجہ سے ایران اور ملائیشیا کے باہمی تعلقات میں توسیع کا بڑا اچھا موقع پیدا ہوا ہے اور اس ملک کے حکام ساتھ  ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں توسیع پر توجہ مرکوز کی جائے گی

ویتنام کے دو روزہ دورے میں ایران کے صدر اور ویتنام کے درمیان تعاون کے دو سمجھوتوں پر دستخط ہوئے ہیں ۔ایرانی صدر کا جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کا حالیہ دورہ مشرق کے حوالے سے ایران کی آئندہ پالیسیوں کے تناظر میں انجام پایا ہے ۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بھی ہمیشہ مشرقی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کو اہم قراردیا ہے اور صدر روحانی کا حالیہ دورہ بھی اسی تناظر میں انجام پارہا ہے ۔

صدر ایران ویتنام اور ملیشیا کا دورہ کرنے کے بعد تھائی لینڈ کا دورہ کریں گے ، ایران اور مشرقی ایشیاء کے ممالک کے درمیان تعلقات میں تیزی کے حوالے سے بہت سی گنجائشیں اور توانائیاں موجود ہیں اور اس وقت بہترین موقع ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی توانائیوں سے استفادہ کریں ۔

ملیشیا اسلامی ممالک میں ایک اہم ملک سمجھا جاتا ہے اور اقتصادی نیز ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت سی گنجائشوں اور توانائیوں کا حامل ہے ۔ایران نے بھی ہمیشہ ملیشیا کے عوام اور ان کی حکومت سے اچھے تعلقات برقرار رکھنے پر تاکید کی ہے ۔

ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کے بعد ایران اور دوسرے ممالک خاص کر مشرق کے حوالے سے ایران کی پالیسیوں کے تناظر میں مشرقی ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات کے فروغ کے دائرے میں بہترین مواقع فراہم ہو گئے ہیں۔ ایران اور ملیشیا ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں تاکہ ایران کے خلاف پابندیوں کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات میں جو کمی و بیشی رہی  اس کا بہتر انداز سے ازالہ ہوسکے۔

صدر ایران کا دورہ ملیشیا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی سطح اور باہمی تعاون میں اضافے کے حوالے سے ایک تعمیرنو کا دورہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔ خاص کر سائنس و ٹیکنالوجی، اقتصادی اور ثقافتی شعبے میں باہمی تعاون کے فروغ میں ۔مختلف عالمی مسائل پر مشترکہ موقف ، ثقافتی و دینی مشترکات نیز ایرانی عوام کی طرف سےجنوب مشرقی ایشیاء کے ممالک کی سیاحت میں دلچسپی ایسے منفرد عوامل ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں فروغ اور باہمی تعاون میں اضافے کے حوالے سے ممد ومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ علاقائی اور عالمی مسائل میں یکساں موقف نیز انتہا پسندی اور دہشتگردی کی مخالفت ایران اور ملیشیا کے درمیان دوسرے شعبوں میں بھی تعاون میں کے راستے ہموار کرسکتی ہے۔

ایران اور ملیشیا ترقی پذیر ممالک کی تنظیم ڈی آٹھ میں بھی علاقائی تعاون میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ ایران اور ملیشیا چونکہ بر اعظم ایشیاء میں دو اہم ممالک ہیں اس لئے دوسرے ممالک کو حلال اشیاء کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ سیاحت ، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافتی و علمی شعبوں میں ایران اور ملیشیاء میں باہمی تعاون کا عمل نہایت احسن انداز سے انجام پاسکتا ہے ۔

ایران ثقافت ، سیاحت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشرقی ممالک میں سب سے آگے ہے اور ایٹمی معاہدے کے بعد ایران اور دوسرے ایشیائی ممالک کے درمیان ایرانی صلاحیتوں اور گنجائشوں سےاستفادہ کرنے کا بہترین موقع میسر آچکا ہے ۔