شام میں روسی فوجی اڈوں میں توسیع
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i252250-شام_میں_روسی_فوجی_اڈوں_میں_توسیع
روس کی پارلیمنٹ ڈوما نے اتفاق آرا سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کی رو سے شام کے فضائی فوجی اڈے حمیمیم میں روس کے فوجی دائمی طور پر تعینات رہیں گے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۸, ۲۰۱۶ ۱۰:۲۳ Asia/Tehran
  • شام میں روسی فوجی اڈوں میں توسیع

روس کی پارلیمنٹ ڈوما نے اتفاق آرا سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کی رو سے شام کے فضائی فوجی اڈے حمیمیم میں روس کے فوجی دائمی طور پر تعینات رہیں گے۔

حمیمیم ایربیس، ساحلی شہر لاذقیہ میں واقع ہے۔ ڈوما میں اس مسئلے پر ہونے والی ووٹنگ میں چار سو چھیالیس اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالے۔ اس معاہدے پر چھبیس اگست دو ہزار پندرہ کو دمشق میں روس اور شام کے حکام نے دستخط کئے تھے۔ اس کی منظوری کے لئے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق روسی فضائیہ کے یونٹ غیر معینہ مدت تک شام کے حمیمیم ایربیس میں تعینات رہیں گے۔ اس معاہدے کی رو سے روس کو اجازت ہو گی کہ وہ اس ایربیس کو بلا عوض اور جب تک ضروری ہو استعمال کر سکتا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف شام کی فوج کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کر سکے۔ شام کے ساحلی شہر طرطوس میں ایک ایربیس انیس سو ستّر کے عشرے سے  روس کے پاس ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ روس کی پارلیمنٹ نے شام کے فوجی اڈے حمیمیم میں روسی طیاروں کی تعیناتی کے معاہدے کی توثیق کر کے بحیرہ روم میں روس کی طویل مدت فوجی موجودگی کا قدم اٹھایا ہے۔ اس سے پہلے روس کے اختیار میں صرف ایک بیرونی فوجی اڈہ تھا اور وہ شام کے ساحلی شہر طرطوس میں تھا اور وہ اس فوجی اڈے کو بحیرہ اسود میں اپنے بحری بیڑے کی ضروریات پوری کرنے اور اس کی پشت پناہی کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے لیکن اب شام میں اس نے ایک اور فوجی اڈہ اپنے اختیار میں لے لیا ہے جو اس وقت ایک تباہ کن اور طولانی جنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ شام کے دوسرے فوجی اڈے کو اپنے اختیار میں لینے کے یہ معنی ہیں کہ روس، بیرون ملک اپنی فوجی طاقت میں توسیع کر رہا ہے۔ یقینا یہ بات نیٹو اور مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کے لئے خوش آئند نہیں ہو گی۔ روس، شام کے لاذقیہ علاقے میں واقع فوجی اڈے میں دائمی طور پر تعینات  ہو کر امن و امان قائم کرنے نیز دہشت گردوں کے مقابلے میں شام کی قانونی حکومت کی مدد کرے گا۔ شام میں روس کے دائمی طور پر تعینات ہونے سے شام کی حکومت اور فوج کا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور دہشت گرد گروہوں اور ان کے مغربی حامیوں کے حق میں طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا۔ اس وقت روس کا اہم ترین ہدف شام کا تحفظ کرنا ہے کیونکہ شام، مشرق وسطی اور بحیرہ روم میں جیو پولیٹیکل لحاظ سے واحد مرکز ہے اور اس سے استفادہ کر کے روس، مشرق وسطی کے سیاسی اور فوجی معاملات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ روس کے لئے شام کے طرطوس ایربیس کی اہمیت کے پیش نظر مزید اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس بات کے پیش نظر کہ طرطوس بحری بیس، روس کا بیرون ملک واحد فوجی اڈہ ہے، لہذا ماسکو نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس بحری اڈے کو محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ بحری اڈہ اس کی بحری نقل و حرکت کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ  دائمی طور پر روس کی جانب سے شام میں ایک اور فوجی اڈہ حاصل کرلئے جانے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ روس، اپنی سرحدوں سے باہر دنیا کے اسٹراٹیجیک علاقوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے۔

اسی سلسلے میں روس کے نائب وزیر دفاع نیکولائی پانکوف نے جمعے کے دن اعلان کیا تھا کہ روس ویتنام اور کیوبا جیسے ملکوں میں دوبارہ اپنے فوجی اڈے قائم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ ان ملکوں میں روس کے فوجی اڈے تھے۔ پانکوف کے مطابق روس کی وزارت دفاع ماضی میں بعض ملکوں میں اپنے فوجی اڈوں کو بند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کر رہی ہے،  انہوں نے اس فیصلے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔  یاد رہے کہ سوویت یونین کے ختم  ہونے کے بعد سنہ دو ہزار کے آغاز میں روس نے اپنے فوجی اخراجات اور دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے کے لئے کیوبا میں لوردیس اور ویتنام میں کام ران نامی اپنے فوجی اڈے ختم کر دیئے تھے۔ لیکن اب یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ کرملین کے حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر ان کے ملک کو ایک بڑی عالمی طاقت کی حیثیت سے کردار ادا کرنا ہے تو دنیا کے اسٹراٹیجیک علاقوں بالخصوص ایشیاء، بحرالکاہل، لاطینی امریکہ اور مشرق وسطی میں فوجی اڈے قائم کرنے ہوں گے یا ان میں توسیع کرنا ہوگی۔