ایران کے خلاف روزمرہ کے الزامات کی تکرار
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف انسانی حقوق کے الزامات ان دنوں بڑی شدت سے لگائے جا رہے ہیں
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف انسانی حقوق کے الزامات ان دنوں بڑی شدت سے لگائے جا رہے ہیں اور مغربی حلقوں نے ان الزامات کو اپنے ایران مخالف پروپگینڈے میں سر فہرست رکھا ہے۔ گذشتہ ہفتے ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی رپورٹ کے بعد یورپی پارلیمنٹ نے بھی بیان جاری کرکے الزام لگایا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال مناسب نہیں ہے۔ اس بیان کو ہرچند ایران کو انسانی حقوق کی نصحیتوں کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے لیکن یہ ایرانو فوبیا کے ھدف سے ہی تیار کیا گیا ہے۔ بان کی مون نے گذشتہ ہفتے جنرل اسمبلی میں اپنی رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ حالیہ برسوں میں ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال میں خرابی آئی ہے۔اب یورپی پارلیمنٹ نے ایران کے خلاف اسی طرح کی الزام تراشی اپنے ایجنڈے میں شامل کرلی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ نے کوشش کی ہے کہ رائے عامہ کو یہ جتلائے کہ یورپی ممالک انسانی حقوق کے مسائل پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔ اس رپورٹوں کی بنیاد غلط اورجھوٹی رپورٹیں اور بیانات ہیں جو خاص اھداف کے تحت تیار کئے جاتے ہیں۔یورپی پارلیمنٹ کا یہ بیان بھی اس قاعدے سے مستثنی نہیں ہے۔ یورپی پارلیمنٹ نے 'ایٹمی معاہدے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے تعلق سے یورپی یونین کی اسٹراٹیجی کے عنوان سے یہ بیان جاری کیا ہے۔ یہ بیان یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے جاری کیا ہے۔ ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے اس بیان کے مختلف حصوں میں لگائے کئے الزامات کو غیر حقیقی اور بے بنیاد قراردیا اور کہا کہ یہ بیان ایران مخالف پروپگینڈے سے متاثر ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ بیان نصیحتی پہلو کا حامل ہے لیکن بہتر ہوتا کہ اس میں حقیقت پسندی اور مستقبل پر نگاہ رکھی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم یورپی پارلیمنٹ کے اراکین اور اس کی خارجہ پالیسی کمیٹی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ حقیقت پسندی سے انسانی حقوق جیسے مسائل پر توجہ کرے اور غلط موضوعات پر غیرحقیقت پسندانہ طریقے سے اظہار نظر کرنے سے جو کہ ایران کے مخالف دھڑوں کی جانب سے بیان کئے جاتے ہیں ہوشیاری سے پرہیز کریں، بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ مستقبل قریب میں ایران اور یورپی یونین کے درمیان انسانی حقوق کے بارے میں مذاکرات شروع ہونے والے ہیں اور یورپی یونین کے اس طرح کے موقف غیر تعمیری ثابت ہوسکتے ہیں اور ان سے انسانی حقوق کے ڈائیلاگ میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ ایران کے داخلی امور میں مداخلت کے خدشے کو تقویت پہنچے گی۔
یورپی پارلیمنٹ کے بیان میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو موجودہ حقائق سے میل نہیں کھاتیں اور بعض چیزیں ایسی ہیں جو ایران مخالف پروپگینڈے سے متاثر ہیں۔
ایران کے خلاف انسانی حقوق کے حوالے سے کئےجانے والے پروپگینڈوں کا مقصد یہ ہے کہ ایران کو انسانی حقوق پامال کرنے والا ملک قراردیا جائے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاے کہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال ایسی ہے جیسے مخالفین اور سیاسی اور سماجی کارکنوں کو کچلنے والے ملکوں میں ہے۔ روز روز کے ان الزامات سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے خلاف انسانی حقوق کے تعلق سے لگائے جانے والے الزامات ایرانوفوبیا اورعالمی سطح پر ایران کو انسانی حقوق پامال کرنے والی حکومت ظاہر کرنے کی غرض سے لگائے جارہے ہیں۔ ان میں ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کوغیر منصفانہ، یکطرفہ اور غلط طریقے سے بیان کیا جاتا ہے۔ایران کے خلاف ایسے عالم میں انسانی حقوق کے تعلق سے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ دنیا کے بہت سے علاقوں بالخصوص مشرق وسطی ، بعض ملکوں کی چھیڑی ہوئی جنگوں کی وجہ سے نہایت سنگین صورتحال سے دوچار ہے لیکن نہ امریکہ اور نہ ہی یورپی ممالک نے انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے کرنے کے بعد بھی اس سلسلے میں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا ہے۔ در حقیقت انسانی حقوق کے بارے میں مغرب کے سیاسی اقدامات اور دوہرے معیارات اس بات کا سبب بنے ہیں کہ ان کے مواقف نمائیشی اور تشہیراتی سمجھے جائیں اور یہی امر سبب بنا ہے کہ اھل عالم مغرب کے انسانی حقوق کے دعوؤں پر اعتبار اور اعتماد نہ کریں۔ نمائیشی بیانات جاری کرنا دراصل ان ہی ملکوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے اور اس کا دوسرا ہدف ایران کے خلاف پروپگینڈا کرنا ہے جس کے اپنے خاص اہداف ہیں۔