یمن کے لئے مجوزہ جنگ بندی معاہدہ اور توقعات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i252295-یمن_کے_لئے_مجوزہ_جنگ_بندی_معاہدہ_اور_توقعات
یمن کے عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی تجویز کردہ جنگ بندی میں فضائی، زمینی اور بحری حملوں پر پابندی لگائی جانی چاہیے
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۸, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۵ Asia/Tehran
  • یمن کے لئے مجوزہ جنگ بندی معاہدہ اور توقعات

یمن کے عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی تجویز کردہ جنگ بندی میں فضائی، زمینی اور بحری حملوں پر پابندی لگائی جانی چاہیے

یمن کے عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی تجویز کردہ جنگ بندی میں فضائی، زمینی اور بحری حملوں پر پابندی لگائی جانی چاہیے اور اسکی رو سے یمن کا محاصرہ ختم کیا جائے۔ محمد عبدالسلام نے جمعے کویمن میں بہتر گھنٹے کی جنگ بندی معاہدے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی تجویز میں تمام طرح کے حملوں پر پابندی لگنی چاہیے اور یمن کا محاصرہ بھی ختم ہونا چاہیے اس کے علاوہ صنعاء کے لئے پروازیں بھی از سر نو شروع کی جائیں۔ محمد عبدالسلام نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کو ہمہ گیر اور مکمل ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ جنگ بندی کی تجویز کو باضابطہ طور پر بحران کے راہ حل کے حصول کے لئے مذاکرات شروع کرنے کے ھدف سے پیش کرے۔ تحرک انصاراللہ کے نمائندے نے کہا کہ لیکن یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی جنگ بندی کی تجویزاس سلسلے میں طے شدہ معاہدے کے مطابق ہمہ گیر اور وسیع البنیاد نہیں ہے۔ واضح رہے یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد شیخ نے جمعے کو عمان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے اور یہ بہتر گھنٹے کی جنگ بندی ہے جس میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے۔ یہ طے پایا ہے کہ اقوام متحدہ آئندہ دو ہفتوں میں یمن کے بحران کو حل کرنے کی اور یمن میں امن قائم کرنے کی راہ حل کا مسودہ پیش کرے گی۔

سعودی عرب نے علاقے کے بعض ممالک کے ساتھ اور امریکہ کی حمایت سے چھبیس مارچ دوہزار پندرہ کو یمن کے نہتے عوام پر شدید حملے شروع کئے تھے جو آج بھی جاری ہیں۔ آل سعود کی اس جارحیت کا مقصد مفرورو مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی کو واپس اقتدار میں لانا ہے۔ آل سعود کی جارحیت میں ہزاروں افراد شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے ہیں جبکہ بے گھر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ یمن میں سعودی عرب کے پٹھو اور زرخرید ایجنٹ نہتے عوام کے خلاف حملے کرکے سعودی عرب اور اپنے گروہی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ یمن کے مظلوم عوام کا بنیادی مطالبہ ہے کہ ان پر حملے بند کئے جائیں اور محاصرہ ختم کیا جائے اور جنگ بندی معاہدے پر عمل درامد اورعوامی کمیٹیاں بنا کر ان مطالبات کو پورا کیا جائے۔ یمن پر جب تک سعودی عرب کے حملوں کے جاری رہنے کی بنا پر بحران یمن کے بارے میں مذاکرات کا کوئی روشن اور مثبت مستقبل نہیں تصور کیا جا سکتا کیونکہ آل سعود کے حملے اور یمن کےمحاصرے اور مفاہمت و تعاون میں کسی طرح کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ واضح رہے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن میں اعلان کئے گئے جنگ بندی کے معاہدوں کی جن کا اعلان امن مذاکرات اور اقوام متحدہ کی نگرانی کی بنیاد پر کیا گیا تھا کبھی بھی پابندی نہیں کی ہے اور یمن پر بدستور حملے کر رہا ہے اور ان حملوں نے امن مذاکرات کو ہمیشہ ناکام بنایا ہے۔ دراصل یمن میں بیرونی ممالک جیسے سعودی عرب اور امریکہ اس کوشش میں ہیں کہ جنگ بندی معاہدہ اس سمت میں جائے جس سے انہیں وہ مفادات بھی حاصل ہوجائیں جو انہیں جنگ کے ذریعے حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ اسی فضا میں یمن کے امن مذاکرات کا نیا دور شروع کروانے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں، یاد رہے یمن کے امن مذاکرات سے گذشتہ مہینوں میں کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوا ہے اور یہ مذاکرات بارہا ناکام ہوئے ہیں۔  ان حالات میں اقوام متحدہ امن قائم کرنے والے اور امن کو برقرار رکھنے والے ادارے کی حیثیت سے اپنے منشور پر بھروسہ کرتے ہوئے یمن میں جنگ کا خاتمہ کرائے تاکہ اس سے زیادہ یمن کے عوام کا قتل عام نہ ہو اور سیاسی راہوں سے یمن کے بحران کے حل کی رہیں تلاش کی جاسکیں۔