بڑی طاقتوں کی محاذ آرائی کے بارے میں جرمنی کا انتباہ
جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر اشٹائن مائر نے مغرب و مشرق کے درمیان کشیدگی کو سرد جنگ سے زیادہ خطرناک قراردیا ہے-
انہوں نے امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی اور ایک دوسرے کے مدمقابل آنے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سرد جنگ کی صورتحال دوبارہ پیدا ہونے کی روک تھام کی جائے-
ان کے نظریے کے مطابق واشنگٹن اور ماسکو کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کی ریڈلائنوں کونظرانداز نہ کریں اور معینہ حدود میں قدم اٹھائیں-
حالیہ دنوں میں روس اور امریکہ کے درمیان مختلف مسائل پر کشیدگی بڑھ گئی ہے - امریکا نے الزام لگایا ہے کہ روس ، امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کرنے اور انہیں سبوتاژ کرنے کے لئے سیاسی تنظیموں پر سائبر حملے کر رہا ہے۔
شام کے بحران کے بارے میں روس اور امریکہ کے درمیان لفظی جنگ میں بھی شدت آگئی ہے- امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شہر حلب میں جنگی جرائم کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے- انہوں نے روس پر شام میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام لگایا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ اگرچہ امریکی وزیر خارجہ کا بیان پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے لیکن اس قسم کی اصطلاحات کا استعمال انتہائی خطرناک ہوگا۔
اس بناء پر یہ چنداں عجیب نہیں ہے کہ جرمنی کے وزیر خارجہ یورپ کے ایک بڑے ملک کی حیثیت سے امریکہ اور روس کے درمیان محاذ آرائی میں شدت اور دوبارہ سرد جنگ کے شروع ہونے کےبارے میں اظہار تشویش کر رہے ہیں-
شام کے مسئلے پر روس اور امریکہ کے درمیان اختلافات زور پکڑ گئے ہیں یہاں تک کہ بعض تجزیہ نگاروں نے شام میں امریکہ اور روس کے درمیان براہ راست جنگ کی بات کہی ہے - اور اس امکان کو ان خبروں کے بعد کہ امریکہ ، شامی فضائیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور شام کے علاقوں لاذقیہ اور طرطوس میں روس کی جانب سے ایس تھری ہنڈریڈ میزائل سسٹم نصب کرنے کے بعد تقویت مل گئی ہے-
جیسا کہ روسی وزرات خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ روس نے ایسی خبریں ملنے کے بعد کہ امریکہ کروز میزائلوں سے شام کے ایئرپورٹس پر ہوائی حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، شام میں روس کے فوجی ٹھکانوں کی تقویت اور انہیں محفوظ بنانے کے لئے ایس تھری ہنڈریڈ میزائل سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مشرق میں نیٹو کی کاروائی میں توسیع اور امریکہ کی جانب سے یورپ میں اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم نصب کرنے جیسے مسائل کے بارے میں امریکہ اور روس کے درمیان اختلاف کے پیش نظر ان دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے-
دوہزار چودہ سے ہی جزیرہ کریمیا کے روس سے الحاق کے بعد ان دو ایٹمی ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے اور پھر مشرقی یورپ میں نیٹو کے فوجیوں کی تعداد میں اضافے اور ان کو مسلح کئے جانے نیز واشنگٹن کی حمایت سے نیٹو کی فوجی مشقوں کے انعقاد سے اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے-
البتہ اس وقت شام کے مسئلے میں ان دوںوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے- شام کے بحران کے حل میں امریکہ کی بددیانتی اور ماسکو کے خلاف واشنگٹن کی دھمکیوں نے کریملن کے حکام کے غم و غصےکو دوبالا کردیا ہے-
امریکہ اور روس کے درمیان شام میں جنگ بندی کے سمجھوتے کی ناکامی کے پیش نظر وائٹ ہاؤس نے روس کے خلاف مختلف الزامات عائد کئے ہیں- روسی حکام نے بھی کہا ہے کہ موجودہ حالات مین شام کے بحران کے بارے میں امریکہ کے ساتھ ان کے اختلافات بہت بڑھ گئے ہیں-