پاکستان کے خفیہ اداروں پر اس ملک کے حکام کی تنقید
ایسی حالت میں کہ پاکستان کی حکومت پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مسئلے میں دوہرے معیار کی پالیسی اختیار کرنے کا الزام ہے، پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی اور اس ملک کے صوبے پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے۔
شہباز شریف نے اسلام آباد کی حکومت پر پڑنے والے بیرونی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم گروہوں کے خلاف فوج کی جانب سے کوئی اقدام عمل میں نہ لائے جانے کی بناء پر اس وقت پاکستان کو سیاسی تنہائی کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی، حقانی جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے لئے حکومت کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ پاکستان کے بعض اراکین قومی اسمبلی نے بھی دہشت گرد گروہوں کے خلاف حکومت کی کارکاردگی پر انگلیاں اٹھائی ہیں اور بعض ارکان نے اس سلسلے میں فوج کو قصوروار قرار دیا ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں پاکستان کی فوج اور حکومت کے درمیان اختلاف سے جس بات کو درک کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ دونوں ہی، دہشت گرد گروہوں کے بارے میں دوہرے معیار کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ افغانستان اور کشمیر سے متعلق مسائل کو پاکستانی فوج سنبھالے ہوئے ہے اور ان مسائل کے بارے میں اسلام آباد کی پالیسیوں کے تعلق سے فیصلہ بھی فوج ہی کرتی ہے۔ اس رو سے پاکستان کی آئی ایس آئی نے اپنے منصوبوں پر عمل کرنے کے لئے مسلح گروہ تشکیل دیئے ہیں اور یا اس بارے میں وہ ان گروہوں کی حمایت کرتی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ شہباز شریف کے بقول مغربی ممالک خاص طور سے امریکہ، حقانی جیسے گروہوں کی سرگرمیوں کے خلاف ہے اور امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک، پاکستان پر ان گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ درحقیقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری کی اہم ترین وجہ بھی دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی سے متعلق اسلام آباد کی کارکردگی پر واشنگٹن کی تنقید ہے۔ شہباز شریف کے بیان سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی حکومت، دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے تاہم اس ملک کی فوج اور آئی ایس آئی جیسے خفیہ ادارے، اس کارروائی کے خلاف ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے حال ہی میں اپنے ملک کی حکومت پر پاکستان میں سرگرم عمل دہشت گرد گروہوں سے سختی سے نہ نمٹنے کا الزام لگاتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ بعض دہشت گرد گروہوں کے بارے میں حکومت اسلام آباد کی نرم پالیسی، اس بات کا باعث بن رہی ہے کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کے ضرب عضب آپریشن کا، ان کی مرضی کے مطابق نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے۔ راحیل شریف کے اس بیان کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج، دونوں ہی دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے میں ایک دوسرے کی کارکردگی سے راضی نہیں ہیں۔ شہباز شریف نے جس چیز پر توجہ دی ہے وہ ایسے دہشت گرد گروہ ہیں جو پاکستان کی سرحدوں سے باہر سرگرم عمل ہیں جبکہ آرمی چیف نے جس بات پر توجہ دی ہے وہ ایسے دہشت گرد گروہ ہیں جو پاکستان کے اندر سرگرم عمل ہیں اور اسلام آباد کی حکومت پر الزام ہے کہ وہ ان گروہوں کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے درمیان خواہ وہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر ہوں یا باہر، مکمل رابطے ہیں اور ان گروہوں کا قلع قمع کرنے کے لئے پوری ہم آہنگی کے ساتھ ٹھوس اقدام عمل میں لائے جانے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ماہ محرم اور ایام عزاء میں پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے جاری قتل عام سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دہشت گرد گروہ منجملہ لشکر جھنگوی جو ایک جانا پہچانا دہشت گرد گروہ ہے، اور اسی طرح دیگر دہشت گرد گروہ، بدستور دہشت گردانہ کارروائیوں میں سرگرم عمل ہیں اور ان گروہوں کی کارروائیاں افغانستان اور پاکستان میں سرگرم عمل دہشت گرد گروہوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی سے انجام پا رہی ہیں۔