ہندوستانی حکومت کی پالیسی پر تنقید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i252493-ہندوستانی_حکومت_کی_پالیسی_پر_تنقید
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی مختلف اقتصادی اور سماجی شعبوں میں پالیسیوں پر ملک کے اندر بدستور وسیع پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۹, ۲۰۱۶ ۱۶:۱۹ Asia/Tehran
  • ہندوستانی حکومت کی پالیسی پر تنقید

ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی مختلف اقتصادی اور سماجی شعبوں میں پالیسیوں پر ملک کے اندر بدستور وسیع پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔

مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سیکریٹری جنرل سیتارام یچوری نے نئی دہلی میں کہا کہ جب سے نریندر مودی ہندوستان کے وزیراعظم بنے ہیں، اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کی پالیسی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور لوگوں کے درمیان اختلافات اور دشمنی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پالیسی ہندوستانی معاشرے کو اختلافات حتی تقسیم کی طرف لے جا رہی ہے۔ سیتارام یچوری کے بقول مودی حکومت انتہاپسندی کو فروغ دے رہی ہے اور یہ پالیسی ہندوستان کے سیکولر معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔

ریاست اترپردیش کی سابق وزیراعلی اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایا وتی نے بھی حال ہی میں کہا ہے کہ مودی حکومت نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بہانے ہندوستان کے مسلمانوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ مایا وتی نے کہا کہ مودی حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے اور ہندوستانی حکومت کی کاکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی نے انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کیے تھے وہ سب جھوٹ تھے۔

ہندوستان کے بہت سے تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ قوم پرست اور ہندوتوا کی علمبردار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوستان کے کثیرالقومی و نسلی معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ کی ذمہ دار ہے۔ اگرچہ اس جماعت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اعتدال پسندی کو اپنی پالیسیوں میں سرفہرست قرار دے رکھا ہے، لیکن شیو سینا اور آر ایس ایس جیسے ہندو انتہا پسند گروہوں میں بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد نئی جان پڑ گئی ہے اور انھوں نے ہندوؤں کو متحد اور اکٹھا کرنے کے لیے اپنے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ انتہا پسند ہندو مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت اقلیتوں پر حملے کر کے انھیں ہندوستان سے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت مسلمان نوجوانوں پر انتہا پسندی کا الزام لگا کر انھیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان کے مسلمان رہنماؤں نے مسلمانوں پر انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ کے نتائج کے بارے میں کئی بار خبردار کیا ہے۔ اس بات کے پیش نظر کہ ہندوستان مختلف اقوام، نسلوں اور مذاہب سے مل کر تشکیل پایا ہے، اقلیتوں پر دباؤ میں اضافے کی کوششوں سے ہندوستانی معاشرہ بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ مسلمان اپنی بیس کروڑ کی آبادی کے ساتھ ہندوستانی معاشرے میں خود کو اقلیت نہیں سمجھتے ہیں۔ مسلمان ہندوستان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں کہ جس کی آزادی، اقتصادی ترقی فوجی اور ایٹمی طاقت میں اضافے کے لیے انھوں نے قربانیاں دی ہیں اور کوشش کی ہے۔

اس وقت بھی کہ جب ہندوستان اپنی آٹھ فیصد سالانہ ترقی کے ساتھ خود کو ایک علاقائی طاقت سمجھتا ہے تو بلاشبہ تمام اقوام، نسلوں اور مذاہب کے تعاون کے بغیر اس ترقی کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اسی بنا پر ہنودستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست کیرالہ کے اپنے حالیہ دورے کے دوران اعلان کیا ہے کہ ہندوستانی حکومت مسلمانوں کو اپنا ایک حصہ سمجھتی ہے اور وہ ان کے حقوق ان کو دینے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ ہندوستان کے سیاسی حلقے وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کو مسلمانوں کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی صرف انتخابات میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنے کے چکر میں ہیں۔

سیاسی حلقوں کے خیال میں ہندوستان کی قوم پرست حکومت کو عمل میں ثابت کرنا ہو گا کہ وہ مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت ہندوستان کے تمام لوگوں کے حقوق کا احترام کرتی ہے اور وہ ان پر شدت پسند ہندو گروہوں کے دباؤ کو روکے گی۔