ایشین کوآپریٹیو ڈائیلاگ کا اجلاس آج سے شروع ہوا
ایشین کوآپریٹیو ڈائیلاگ کا دوسرا سربراہی اجلاس تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہوا ہے۔
ایشین کوآپریٹیو ڈائیلاگ کا دوسرا سربراہی اجلاس تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہوا ہے۔یہ اجلاس ایسے موقع پر ہورہا ہے کہ دنیا کو ڈائیلاگ اور گفتگو کی سخت ضرورت ہے۔یہ اجلاس متحدہ ایشیا اور مختلف توانائیوں کے نام سے شروع ہوا ہے۔
ایشین کو آپریٹیو ڈائیلاگ میں چونتیس ممالک شامل ہیں جن میں آسیان کے ممالک بھی آتے ہیں اور افغانستان، بحرین، بنگلادیش، بھوٹان، چین، ہندوستان، ایران، جاپان، قزا قستان اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں ۔
ایشین کوآپریٹیو ڈائیلاگ کا مقصد اقتصادی ترقی لانا، گفتگو کے ذریعے پائدار امن اور علاقائی ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے جبکہ اس کا دوسرا ھدف علاقے سے باہر کی حکومتوں سے تعلقات بڑھانا ہے۔ یہ ایشیاء کی سب سے بڑی تعاون تنظیم ہے جس میں مختلف ممالک، یونینیں اور انجمیں شامل ہیں، اور یہ اس طریقے سے ایشیا میں پائدار امن تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔چونکہ اکیسویں صدی کو ایشیا کی صدی کہا جارہا ہے لہذا ایشیا کے ملکوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون کو ضروری قراردیا جارہا ہے اسی وجہ سے ایشین کوآپریٹیو ڈائیلاگ کے ایجنڈے پر تعاون اور گفتگو کو وزار اور سربراہوں کی سطح پر الگ الگ رکھا گیا ہے۔
ایشین کوآپریٹیو ڈائیلاگ کے اب تک وزار خارجہ کی سطح پر چودہ اجلاس ہوچکے ہیں۔اس کا پہلا سربراہی اجلاس دوہزار بارہ میں کویت میں منعقد ہوا تھا۔ بینکاک میں جاری اجلاس ایشیا تعاون ڈائیلاگ کا دوسرا سربراہی اجلاس ہے۔ ایشیا کے براعظم بالخصوص مشرق میں کشیدگی کے بڑھنے کی بنا پر یہ اجلاس بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور دائیلا گ تنظیم کا سربراہ رضا کارانہ طور پر چناجاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے بقول رکن ملکوں کے سربراہوں کی شرکت سے عالمی نشستیں کرانے سے علاقے کے اندر باہمی توانائیوں کا پتہ چلتا ہے جس سے ایشیا کی سطح پر مدد مل سکتی ہے۔
ایشیائی ممالک اپنے ترقیاتی اھداف حاصل کرنے کے لئے اور اپنے براعظم کو عالمی طاقت بنانے کے لئے تمام تر توانائیوں کے حامل ہیں جن میں انرجی، معدنیات،ٹکنالوجی، آبادی اور جنگلات نیز سمندری راستے قابل ذکرہیں۔اسی بنا پر سیاسی مبصریں کا کہنا ہے کہ چنانچہ ایشیائی ممالک اگر ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی غرض سے باہمی تعاون اور لین دین جاری رکھیں اور اس میں اضافہ کریں تو یہ ممالک اپنے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ ایشیا کو عالمی سطح پر موثر کردار ادا کرنے کے قابل بناسکتے ہیں اس کے علاوہ ایشین کوآپریٹیو ڈائیلاگ کے رکن ملکوں کے درمیان تعاون مغرب کے مقابل ایشیا کی اس تنظیم کی طاقت کو اجاگر کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایشیاء کے ملکوں کے سامنے سب سے اہم چیلنج غربت اور دہشتگردی نیز قومی تصادم ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ ایشیا کوآپریٹیو ڈائیلاگ کے رکن ملکوں کو اپنے اھداف حاصل کرنے کے لئے غربت ختم کرنے کی غرض سے ایشیاء کی سطح پر ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے، اسی کے ساتھ یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ ان ملکوں کو سکیورٹی اور انٹلیجنس کی سطح پر تعاون کرکے دہشتگردی کی بیخ کنی کردینی چاہیے۔اس بات میں شک نہیں ہے کہ دہشتگردوں کا ھدف، جنہیں مغرب کی طرف سے حمایت ملتی ہے یہ ہے کہ ملکوں کو آپسی تعاون سے روکا جائے اور انہیں آپس میں لڑا کر ترقی سے دور رکھا جائے لہذا ان ملکوں کو دو طرفہ اور چند طرفہ تعاون کرکے اور اس میں تمام شعبوں میں توسیع لاکر پائدار امن کی نوید دینی چاہیے اور عالمی سطح پر طاقتور ایشیا کو سامنے لانا چاہیے۔