پاکستان میں عاشورا کے موقع پر سیکورٹی ہائی الرٹ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i252724-پاکستان_میں_عاشورا_کے_موقع_پر_سیکورٹی_ہائی_الرٹ
نو محرم الحرام تاسوعائے حسینی کے ساتھ ہی پاکستان کی حکومت نے ملک بھر میں سیکورٹی الرٹ جاری کردیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۱, ۲۰۱۶ ۱۱:۴۰ Asia/Tehran
  • پاکستان میں عاشورا کے موقع پر سیکورٹی ہائی الرٹ

نو محرم الحرام تاسوعائے حسینی کے ساتھ ہی پاکستان کی حکومت نے ملک بھر میں سیکورٹی الرٹ جاری کردیا ہے۔

نو محرم الحرام تاسوعائے حسینی کے ساتھ ہی پاکستان کی حکومت نے ملک بھر میں سیکورٹی الرٹ جاری کردیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں عاشورائے حسینی کے جلوسوں میں سیکورٹی کی برقراری کے لئے تقریبا پانچ ہزار سیکورٹی اہل کاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

 کوئٹہ کے نائب پولیس سربراہ عبدالرزاق شیما نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کوئٹہ میں جلوس ہائے عزا کے راستوں اور مجالس عزا کی مانیٹرنگ کے لئے مختلف مقامات پر 35 سی ٹی کیمرے نصب کیئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چار ہزار دو سو پولیس اہل کاروں کو شہر کی مسجد و امام بارگاہوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

پاکستان میں ہائی الرٹ سیکورٹی انتظامات ایسے میں کیئے جارہے ہیں کہ حالیہ دنوں میں اس ملک کے شیعوں کو دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سیکورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے اور دہشت گرد تکفیری گروہوں نے امام بارگاہوں اور جلوس ہائے عزا کے راستوں میں بم نصب کیئے جانے کی دہمکی دی ہے۔

پاکستان میں مختلف حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے عوام کو کبھی بھی امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے انعقاد میں نہ صرف کوئی مشکل پیش نہیں آئی ہے بلکہ اس ملک کے سنّی بھی اہل بیت اطہار علیہم السلام اور خاص طور پر امام حسین علیہ السلام اور شہداء کربلا سے خاص عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور عزاداری سیدالشہداء میں بھر پور طریقے سے شرکت کرتے ہیں۔

پاکستان کے اکثر شہروں میں عزاداری سیدالشہداء کے مشترکہ پروگرام بھی منعقد کیئے جاتے ہیں، جن میں شیعہ و سنّی شرکت کرتے ہیں۔

اس بناپر کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کا مسئلہ بیرونی عناصر کا پیدا کردہ ہے اور وہابی حلقے اس کی سرپرستی کرتے ہیں۔

پاکستان کے بعض دینی مدارس انتہاپسند اور تشدد پسند گروہوں منجملہ وہابی سوچ رکھنے والے عناصر کی مدد سے چلائے جارہے ہیں، اور یہ مدارس فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی کو ہوا دے رہے ہیں۔

اس بناپر پاکستان کے سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ملک میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کی لعنت کی بیخ کنی کے لئے، مذہبی انتہاپسندی کو فروغ دینے والے مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جانا چاہیے۔

یہی انتہاپسندانہ نظریات کے حامل مدارس، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسے گروہوں کو دہشت گرد فراہم کرتے ہیں۔

فرقہ وارانہ اور انتہاپسندانہ نظریات کے حامل مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد، دہشت گرد گروہوں میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں جبکہ دیگر فعال ادارے اسی انتہاپسندانہ سوچ کی بنا پر ان کو اپنے قریب آنے نہیں دیتے۔

اس روسے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان میں پائیدار امن و استحکام کی برقراری کے لئے، حکومت، فوج اور اس ملک کے سیکورٹی اداروں کو ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کی لعنت کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ 

ممکن ہے ہائی الرٹ سیکورٹی انتظامات، پاکستان میں عزاداران حسینی پر دہشت گردانہ حملوں کی  روک تھام میں موثر ثابت ہوں، لیکن ملک میں مستقل سیکورٹی کی برقراری کے حوالے سے عوام میں اطمینان کا باعث نہیں بن سکتے۔

دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کے خلاف آپریشن کے طریقہ کار پر ، پاکستان کے مختلف حلقے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کرچکے ہیں، کیونکہ اکثر کا خیال ہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج، ان گروہوں کے خلاف کاروائی کرنے میں دہرا معیار رکھتی ہیں اور یہ مسئلہ باعث بنا ہے کہ فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب آپریشن میں کامیابی کے باوجود،  پاکستان کو دہشت گرد تکفیری گروہوں کے حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔

عاشورائے حسینی کے موقع پر دہشت گرد اور فرقہ وارانہ عناصر کو کنٹرول کرنا، پاکستان کی حکومت اور فوج کا ایک امتحان ہے اور پاکستان کے عوام کو یہ توقع ہے کہ حکومت اور فوج دہشت گردوں اور فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔