سید حسن نصراللہ نے آل سعود کی سازشوں سے خبردار کیا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i252898-سید_حسن_نصراللہ_نے_آل_سعود_کی_سازشوں_سے_خبردار_کیا
امریکہ پیش آنے والی صورت حال سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کوشش میں ہے کہ شمالی عراق سے داعش دہشت گردوں کو مشرقی شام منتقل کرکے اپنی اور اپنے حامیوں کی پوزیشن کو مضبوط کرے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۲, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۴ Asia/Tehran
  • سید حسن نصراللہ نے آل سعود کی سازشوں سے خبردار کیا

امریکہ پیش آنے والی صورت حال سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کوشش میں ہے کہ شمالی عراق سے داعش دہشت گردوں کو مشرقی شام منتقل کرکے اپنی اور اپنے حامیوں کی پوزیشن کو مضبوط کرے۔

حزب اللہ کے سربراہ کی، امریکی سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت پر تاکید

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے مشرق وسطی کے علاقے کی بدامنی میں امریکہ کے کردار پر تاکید کرتے ہوئے، علاقے کے عوام اور حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاقے میں بحران کے اضافے کے حوالے سے  واشنگٹن اور اس کے حامیوں کی سازشوں سے ہوشیار رہیں۔

سید حسن نصراللہ نے نویں محرم  اور عاشورائے حسینی کی مناسبت سے جنوبی بیروت میں منعقدہ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ،  شام، یمن اور عراق میں رونما ہونے والے بحران میں اپنا کردار ادا کرنے کے بعد اور اس وقت عراق میں ناکامی کی وجہ سے اس کوشش میں ہے کہ عراق کے شمال میں واقع موصل شہر سے داعش دہشت گردوں کو شام کے مشرق میں واقع دیر الزور میں منتقل کرے، تاکہ بحران شام کو بہتر طریقے سے اپنے کنٹرول میں لے لے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے یمن اور شام میں امن مذاکرات کے بے نتیجہ باقی رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکہ کے رکاوٹیں پیداکرنے کی وجہ سے علاقے کے بحرانوں کا سیاسی مستقبل روشن نہیں اور امریکہ پیش آنے والی صورت حال سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کوشش میں ہے کہ شمالی عراق سے داعش دہشت گردوں کو مشرقی شام منتقل کرکے اپنی اور اپنے حامیوں کی پوزیشن کو مضبوط کرے۔

سید حسن نصراللہ نے علاقے میں امریکہ اور اس کے حامیوں منجملہ سعودی عرب اور ترکی کے اشتعال انگیز اقدامات کے مقابلے میں ہوشیاری سے کام لینے پر ایسے وقت میں تاکید کی ہے کہ گذشتہ ایک مہینے کے دوران امریکہ نے شام کی فوج کے ٹھکانوں پر حملے کو اپنی ترجیحات میں قرار دے رکھا ہے اور دوسری جانب ترکی نے عراق کی سرزمین میں اپنے فوجیوں کی موجودگی میں توسیع  کردی ہے اور سعودی عرب نے  گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران صنعا میں ہزاروں بے گناہ یمنی شہریوں کو خاک و خون میں غلطاں کردیا ہے۔

یہ تمام اقدامات واشنگٹن اور اس کے حامیوں کے امن پسندانہ دعوؤں کے برخلاف ہیں اور علاقے کے عوام پر مسلط کئے گئے بحرانوں کے حوالے سے ان کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کی شکست کی علامت ہیں۔

امریکہ اور اس کے علاقائی حامیوں کی سازشوں کے مقابلے میں عراق، شام اور یمن کے عوام اور فوج کی استقامت، علاقے میں امریکہ اور اس کے حامیوں کی شکست کی اصلی وجہ ہے اور یہ علاقے کے عوام کی استقامت ہی ہے کہ جو علاقائی اور عالمی سطح پر رائے عامہ کے سامنے ان کی سازشوں کے برملا ہونے کا باعث بنی ہے۔

علاقے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں حزب اللہ لبنان کے سربراہ کے بیان سے نشاندہی ہوتی ہے کہ واشنگٹن کی سازشوں کے مقابلے میں تمام تر مشکلات کے باوجود، قوموں کے حقوق کی بازیابی اور علاقائی ملکوں کے خلاف تسلط پسندانہ سازشوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے بہترین راہ حل مزاحمت و استقامت کا جاری رہنا ہے۔

مسلمہ امر یہ ہے کہ علاقائی ملکوں کے خلاف سازشیں ہر چند کہ رکنے والی نہیں ہیں اور سعودی عرب جیسے ممالک نے بھی اپنے تمام وسائل ،دشمنوں کے اختیار میں دے دیئے ہیں، لیکن علاقے کے عوام اورحکام کے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کی صورت میں، دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی حتمی ہے اور اس درمیان عالم اسلام کے دشمن، امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ بعض ممالک کے درمیان تعاون، علاقے کی قوموں کے حق پسندی اور آزادی کی امنگوں پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں کرسکے گا۔