آل سعود کی جانب سے جرم کا اعتراف
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i252901-آل_سعود_کی_جانب_سے_جرم_کا_اعتراف
امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے آل سعود کی مجرمانہ کاروائی کو اپنے عوام کے دفاع سے تعبیر کیا ہے
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۲, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۶ Asia/Tehran
  • آل سعود کی جانب سے جرم کا اعتراف

امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے آل سعود کی مجرمانہ کاروائی کو اپنے عوام کے دفاع سے تعبیر کیا ہے

 

سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے صنعا میں مجرمانہ کاروائی کے عمدی ہونے کا اعتراف کرلیا ہے جبکہ امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے آل سعود کی مجرمانہ کاروائی کو اپنے عوام کے دفاع سے تعبیر کیا ہے۔ واضح رہے سعودی عرب کے جارح طیاروں نے یمن کے وزیر دفاع کے والد کی مجلس ترحیم پر جس میں بے شمار لوگ شریک تھے وحشیانہ بمباری کی تھی۔ سعودی عرب کے اس وحشیانہ اقدام میں نو سو افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اتنی وحشیانہ بمباری تھی کہ آل سعود کی حکومت نے اس حملے کے دو دن بعد رائے عامہ کے دباؤ میں آکر اس المناک واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نمائندہ دفتر نے سلامتی کونسل کے نام خط میں یمن کے وزیر دفاع کے والد کی مجلس ترحیم پر بمباری پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نمائندہ دفتر کے سربراہ عبداللہ المعلمی ہیں۔ ادھر بی بی سی عربی ٹی وی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے خفیہ طورپر اعتراف کیا ہے کہ اس کے ایک طیارے نے ہفتے کے روزصنعا میں مجلس ترحیم پر بمباری کی ہے۔ سعودی عرب نے اس حملے کی ذمہ داری سے پیچھا چھڑانے کی بے حد کوشش کی لیکن رائے عامہ رائے کی جانب سے اور سیاسی دباؤ اس بات کا سبب بنا کہ اس نے گذشتہ ہفتے کے حملوں کی تحقیقات کرانے کی اطلاع دی ہے۔ اس امر سے قطع نظر کہ سعودی عرب کی تحقیقات منصفانہ ہونگی یا نہیں یہ سوال پیش آتا ہے کہ آخر کس وجہ سے مجرم اپنے جرم کے بارے میں خود ہی تحقیقات انجام دے رہا ہے؟ اقوام متحدہ اور اس کے اصلی ارکان جیسے سلامتی کونسل اور ذیلی ارکان جیسے انسانی حقوق کی تنظیمیں یہ تحقیقات کیوں انجام نہیں دے رہی ہیں اور تحقیقاتی کمیٹی تشکیل نہیں دیتیں؟ ان سوالات کا ایک اہم جواب یہ ہے کہ بڑی طاقتیں بالخصوص امریکہ سعودی عرب کےجرائم کی تحقیقات کرانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا بلکہ ان کی حمایت بھی کرتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے یمن میں مجلس ترحیم پر سعودی عرب کی بمباری کے بارے میں عجیب و غریب بیان دیتے ہوئےکہا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی کاروائیوں اورشام میں روس کی کاروائیوں کے درمیان بنیادی فرق ہے، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا حملہ اپنے شہروں اور شہریوں کے دفاع میں تھا۔ قابل ذکرہے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان اور وزیر خارجہ عادل الجبیر سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے صنعاپر سعودی عرب کے حملوں پر محض تشویش کا ا ظہار کیا ہے اور ریاض سے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے حملوں کی روک تھام کے لئے فوری تدابیر اختیار کرے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی ترجمان داوینا شمدستانی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ انسانی حقوق کونسل گذشتہ دو برسوں سے یمن میں انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں تحقیقات کرانے میں ناکام رہی ہے۔ اس افسوس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے بعض ادارے آل سعود کے جرائم کاجائزہ لئے جانے کے خواہاں ہیں لیکن چونکہ یہ ادارے امریکہ سے وابستہ ہیں لھذا ان میں خود مختاری نہیں پائی جاتی اور مستقبل طور پرعمل نہیں کرسکتے۔بلاشک سعودی عرب گذشتہ ہفتے کےمجرمانہ اقدام کے بارے میں جو تحقیقات انجام دے گا وہ بحرین میں مصری جج بسیونی کی تحقیقات کے مقابل معتبر نہیں ہونگی۔ حکومت بحرین نےبسیونی کی تحقیقات پر کوئی توجہ نہیں کی تھی جس کے نتیجے میں اس پر رائے عامہ کا دباؤ پڑ رہا ہے۔ اگر سعودی عرب سے منصفانہ تحقیقات کی توقع کی جاتی ہے اور ان تحقیقات کے نتائج پرعمل نہ کرنے کی وجہ سے رائے عامہ اس پر دوبارہ تحقیقات کرانے کا دباؤ ڈالتی ہے تو یہ بے سود اور عبث توقع ہوگی۔