عراق میں عاشورا کی عزاداری میں اسّی لاکھ افراد کی شرکت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i253042-عراق_میں_عاشورا_کی_عزاداری_میں_اسّی_لاکھ_افراد_کی_شرکت
عراق کے مختلف علاقوں میں متعدد دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے باوجود بدھ کو نواسۂ رسولۖ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے یاران باوفا کا روز شہادت نہایت ہی عقیدت و احترام سے منایا گیا۔
(last modified 2025-07-01T12:42:33+00:00 )
Oct ۱۳, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۰ Asia/Tehran
  • عراق میں عاشورا کی عزاداری میں اسّی لاکھ افراد کی شرکت

عراق کے مختلف علاقوں میں متعدد دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے باوجود بدھ کو نواسۂ رسولۖ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے یاران باوفا کا روز شہادت نہایت ہی عقیدت و احترام سے منایا گیا۔

 روز عاشور عراق کے مقدس شہر کربلا میں اسّی لاکھ سے زائد اہل بیت اطہار (ع) کے عقیدت مندوں کا مجمع تھا۔ نویں محرم اور روز عاشور نیز اربعین امام حسین علیہ السلام، مسلمانوں کی تین ایسی تاریخیں ہیں جن میں ہر سال اہل بیت اطہار (ع) کے چاہنے والے کروڑوں افراد کربلائے معلی پہنچتے ہیں اور عزاداری کرتے ہیں۔ کربلائے معلی میں منگل کے دن سے ہی لاکھوں زائروں کی آمد شروع ہو گئی تھی اور عصر عاشور تک یہ تعداد بڑھ کر اسّی (80) لاکھ سے زائد ہو گئی۔ دیگر ملکوں سے بھی عاشورائے حسینی میں شرکت کرنے کے لئے لاکھوں لوگ آئے تھے جن میں سب سے زیادہ تعداد ایران، پاکستان اور ہندوستان سے آنے والے زائرین کی بتائی جاتی ہے۔ کربلائے معلی میں اسّی لاکھ سے زائد زائرین کی موجودگی میں بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے عاشورا کا دن مکمل ہونا عراقی سیکورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے کیونکہ تکفیری اور دہشت گرد گروہوں منجملہ داعش نے عزاداروں پرحملے کی دھمکیاں دی تھیں۔

عراقی فوج اور پولیس نے اعلان کیا تھا کہ کربلا میں نویں محرم اور عاشور کے دن عزاداروں کی حفاظت کے لئے کڑے حفاظتی انتظامات کئے گئے۔ تیس ہزار پولیس اہلکاروں نے سرحدوں سے اور دیگر شہروں سے کربلا میں داخل ہونے کے تمام راستوں پر شروع سے ہی نظر رکھی۔ عراق کے سیکورٹی حکام کے مطابق حضرت امام حسین علیہ السلام کے روز شہادت یعنی عاشورا کو فوج، پولیس اور عوامی فورسز نے سیکورٹی قائم کرنے میں مکمل حصہ لیا اور کربلا کے دروازوں پر سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا۔ اس طرح سے سکوریٹی فورسز نے کربلا کی سیکورٹی کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ شورش زدہ علاقے الانبار کی سرحدیں کربلا صوبے سے ملتی ہیں لیکن عوامی فورسز کا سیکورٹی قائم کرنے میں آگاہانہ اور وسیع پیمانے پر حصہ لینے سے، کئی دنوں سے اس علاقے میں کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

 اس سال یہ خاص بات دیکھنے کو ملی کہ عوامی فورسز، خواتین کی فورسز اور خفیہ فورس نیز خاص ڈرون طیاروں اور بموں کی شناخت کرنے والی مشینیوں کا استعمال کیا گیا۔ اگرچہ آئندہ چند دنوں تک جب تک سارے زائرین اپنے اپنے شہروں اور ملکوں کو واپس نہیں چلے جاتے، عراقی فوج، پولیس اور عوامی فورسز کی ذمہ داری ختم نہیں ہو گی تاہم نویں محرم اور عاشورا کے دن کے سیکورٹی اقدامات اور کامیاب انتظامات سے پتہ چلتا ہے کہ عراقی فورسز اور حکومت، کربلا میں محرم کے انتظامات کرنے میں مکمل طرح سے کامیاب رہی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سال کربلا میں نویں اور دسویں محرم، ایسے عالم میں پرامن طریقے سے گذر گئی کہ تاسوعا اور عاشورا کو اسّی لاکھ سے زائد زائرین کربلا میں موجود تھے۔ دہشت گردوں کی دھمکیوں کے سائے میں اتنے عظیم اجتماع کی عزاداری کو، جو اپنی مثال آپ ہے، پایہ تکمیل تک  پہنچانا ایک عظیم کامیابی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب ایک مستحکم ملک کی حیثیت سے، جو خادم الحرمین ہونے کا بھی دعویدار ہے، بیس لاکھ حاجیوں کے اجتماع کا صحیح بندوبست کرنے سے عاجز رہا اور اس کی عاجزی اور بدانتظامی اس حد تک بڑھ گئی کہ گذشتہ سال حج کے دوران ہزاروں حجاج، سانحہ منی میں شہید ہو گئے۔ اس کے علاوہ مکے میں کرین گرنے کے حادثے میں بھی دسیوں حجاج جان بحق ہو گئے تھے۔