نائیجیریا میں ایک بار پھر عزاداروں پر وحشیانہ حملہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i253048-نائیجیریا_میں_ایک_بار_پھر_عزاداروں_پر_وحشیانہ_حملہ
نائیجیریا کی تحریک اسلامی کے عہدیداروں نے کادونا صوبے کے حکام کی جانب سے تحریک اسلامی پر پابندی عائد کئے جانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۳, ۲۰۱۶ ۱۴:۳۶ Asia/Tehran
  • نائیجیریا میں ایک بار پھر عزاداروں پر وحشیانہ حملہ

نائیجیریا کی تحریک اسلامی کے عہدیداروں نے کادونا صوبے کے حکام کی جانب سے تحریک اسلامی پر پابندی عائد کئے جانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

 

 یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا جب کادونا کے مسلمانوں نے، جو تحریک اسلامی میں شامل ہیں، فونتوآ شہر میں ایک احتجاجی مظاہرہ کر کے تحریک اسلامی کے سربراہ آیۃ اللہ شیخ زکزاکی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ نائیجیریا کی حکومت نے گذشتہ سال دسمبر سے شیخ زکزاکی کو نائیجیرین عوام کو مظاہرے کرنے پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔ ادھر نائیجیریا کی شمالی ریاست کادونا میں فوج اور سیکورٹی فورسز نے مسلمانوں کی مجالس عزا پر حملے کر کے انہیں خاک و خون میں غلطا کر دیا اور فوج کے حملے میں تقریبا بیس افراد شہید ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ مسلمان ہر سال محرم کی نویں اور دسویں تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کا غم مناتے ہیں۔ کادونا ریاست کے مسلمانوں نے بھی کفر و ظلم کے خلاف حضرت امام حسین علیہ السلام کے جہاد کی یاد منانے اور ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سڑکوں پر مظاہرہ کیا تھا جس پر نائیجیریا کی سیکورٹی فورس نے حملہ کر دیا اور اس صوبے میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد کا محاصرہ کر لیا، اس پر مسلمان مزید چراغ پا ہو گئے اور انہوں نے اجتماع کر کے مسجد کے محاصرے کے خاتمے اور پندرہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں نائیجیرین پولیس گرفتار کر کے لے گئی تھی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ریاست کادونا کی حکومت کا رویہ صیہونی حکومت کی پالیسیوں کے تناظر میں ہے۔ شمالی نائیجیریا میں دین مبین اسلام کی تیزی سے ترقی اور آیۃ اللہ شیخ زکزاکی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے صیہونی حکام پریشان ہو گئے ہیں۔ نائیجیریا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر صیہونی حکومت کی تشویش کا محرم میں نائیجیریا میں مسلمانوں کے کچلے جانے سے براہ راست تعلق ہے۔ نائیجیریا، آبادی کے لحاظ سے افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمان ہیں وہ محرم کی نویں اور دسویں تاریخ کو اجتماع کر کے نواسۂ رسولۖ کا غم مناتے ہیں، اسی بنا پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کی شمالی ریاست کادونا میں مسلمانوں کا اجتماع کر کے حضرت سید الشہدا کا غم منانے سے صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا لیکن اسلامی عقائد و افکار کے فروغ سے خدشہ لاحق ہونے کی بناء پر نائیجیرین سیکورٹی فورسز نے عزاداروں پر حملہ کر دیا۔ یہ تشدد پسندانہ رویہ اسلامو فوبیا کے تناظر میں قابل تجزیہ ہے جو دو ہزار ایک میں امریکہ میں گیارہ ستمبر کو ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو مسلمانوں کو اذیت و آزار پہنچانے کا ایک وسیلہ بنا لیا گیا ہے۔ امریکہ جیسے بعض مغربی ممالک کے حکام گیارہ ستمبر کے واقعات کو اسلام سے جوڑ کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا میں اسلام سے خوف و وحشت پھیلائیں۔ یہ سازش یقینا پہلے سے تیار شدہ منصوبوں کے مطابق ہے اور تسلط پسند اور ستمگر مغربی ممالک کے مفادات کو پورا کرتی ہے۔ دین اسلام کو سمجھنے میں اختلافات اور ان کے نظریات کے الگ ہونے کے بہانے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا، کادونا حکومت کے ہاتھوں میں ایک ہتھکنڈہ ہے جس سے وہ گذشتہ برس سے غلط فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ادھر کادونا حکومت کی وحشیانہ اور تشدد آمیز کاروائیوں پر نائیجیریا کی مرکزی حکومت کی عدم توجہ اور اسے نظر انداز کرنا بھی قابل غور ہے۔ گرچہ یہ تشدد آمیز رویہ گذشتہ برس دسمبر سے شروع ہوا ہے جب نائیجیرین فوج نے زاریا شہر میں مسلمانوں کے جلوس  پر حملہ کیا تھا اور شیخ ابراہیم زکزاکی کو گرفتار کر لیا تھا۔ البتہ نائیجیرین سیکورٹی فورسز کا رویہ آج بھی یہی ہے۔ شہر زاریا میں تحریک اسلامی کے ارکان کی اجتماعی قبر کی دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ کادونا میں کس قدر المناک مظالم ڈھائے گئے ہیں۔ اس قبر سے تین سو سینتالیس لاشیں نکلی تھیں۔