برکس تنظیم کا آٹھواس سربراہی اجلاس
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i253330-برکس_تنظیم_کا_آٹھواس_سربراہی_اجلاس
ہندوستان کے ساحلی شہر گوا goa میں برکس brics تنظیم کا آٹھواں سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ برازیل روس چین اور جنوبی افریقہ اور ہندوستان اس کے رکن ممالک ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۵, ۲۰۱۶ ۱۲:۵۲ Asia/Tehran
  • برکس تنظیم کا آٹھواس سربراہی اجلاس

ہندوستان کے ساحلی شہر گوا goa میں برکس brics تنظیم کا آٹھواں سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ برازیل روس چین اور جنوبی افریقہ اور ہندوستان اس کے رکن ممالک ہیں۔

یہ تنظیم دو ہزار نو میں قائم ہوئی تھی اور اس کا مقصد عالمی معیشت میں توازن قائم کرنا نیز طاقتور سرمایہ داری کا مقابلہ کرنا ہے۔ برکس کے رکن ملکوں میں منعقدہ سربراہی اجلاسوں میں اگرچہ نئی اقتصادی طاقتوں کی حیثیت سے معیشتوں اور ارکان کی قومی کرنسی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ برکس کے رکن ممالک نئی اقتصادی قوتوں کی حیثیت سے کس قدر موثر رہے ہیں لیکن اسے چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ اسی وجہ سےیہ طے پایا تھا کہ برکس کے ارکان گوا اجلاس میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے فیصلوں کے نتیجے میں معاشرے کے طبقوں میں بڑھتی ہوئی خلیج کے سلسلے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

ہندوستان کے وزیر اعظم نے گوا اجلاس کے بارے میں کہا تھا کہ اس کا ایک ھدف و مقصد تعاون میں توسیع لانا ہے تا کہ ہر میدان میں مزید اونچے اور اعلی اھداف کو مد نطر رکھا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم کے اھداف اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب یوآن، روبل، رئال، رینڈ، اور روپیہ ان ملکوں کے درمیاں لین دین میں ڈالر کی جگہ لے سکیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ برکس کے رکن ملکوں میں دنیا کی تینتالیس فیصد آبادی رہتی ہے اور یہ ممالک عالمی اقصادی منڈی میں بیس فیصد سرمایہ کاری کے حصہ دار ہیں اور ان کے کنٹرول میں دنیا کی تجارت کا پندرہ فیصد حصہ ہے۔

اس بات میں ابھی بھی شک کیا جا رہاہے کہ کیا برکس مغرب کے اقتصادی غلبے کا مقابلہ کرنے کےلئے عالمی اقتصادی منڈی میں توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟

درایں اثنا برکس کو دنیا کی یک قطبی معیشت کے مقابل قائم کی گئی تنظیم قراردیا جاتا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے برازیل میں فٹبال کے عالمی مقابلوں کے موقع پر اس تنظیم کے چھٹی سربراہی اجلاس میں کہا تھا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ عالمی سطح پر  مالی اور زرمبادلہ کے نظام میں اصلاحات انجام دی جائیں۔ صدر پوتن کے بقول دنیا کا موجودہ اقتصادی نظام غیر منصفانہ ہے لہذا برکس کے ملکوں کا آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے فیصلوں میں تیزی سے شرکت کرنا نہایت ضروری ہے۔

جس طرح سے صدر پوتن نے کہا ہے کہ ترقیاتی بینک کی تاسیس اور کرنسی کا معین کرنا، زرمبادلہ کے ذخیرے کے لئے ضروری ہے، اس کے علاوہ عالمی مالی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے اپنا اپنا اقتصادی عمل متوازن بنانا بھی ضروری ہے۔

برازیل کی سابق صدر دیلما روسف نے کہا ہے کہ برکس نے عالمی مالیاتی بحران کے اثرات کو کم کرنے اور پائیدار ترقی لانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

ادھر برکس بینک کی تاسیس اور اس کے زرمبادلہ کے فنڈ کے قیام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف ممالک اپنی ثقافت، قومیت اور لسانی اختلافات کے باوجود عالمی عدم استحکام کا مقابلہ کرنے کے لئے اسٹریٹیجک نوعیت کا جامع اور مثبت اتحاد تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس بات میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے کہ ہندوستان کے وزیراعظم کا بیان، جس میں انہوں نے رکن ملکوں کے درمیان تعاون میں فروغ لانے کی بات کی ہے، اسی بات کے شواہد و قرائن میں سے ہے کہ برکس کے ارکان اپنے اھداف تک پہنچنے کے لئے کسی بھی طرح کے موقع کو کھونا نہیں چاہتے ہیں۔