خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان پر ایران کا رد عمل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i253384-خلیج_فارس_تعاون_کونسل_کے_بیان_پر_ایران_کا_رد_عمل
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے بعض ممالک کی جاہ طلبی اور ان کی جانب سے دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں کی حمایت کو مشرق وسطی میں جاری بحران کی جڑ قرار دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۵, ۲۰۱۶ ۱۵:۴۸ Asia/Tehran
  • خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان پر ایران کا رد عمل

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے بعض ممالک کی جاہ طلبی اور ان کی جانب سے دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں کی حمایت کو مشرق وسطی میں جاری بحران کی جڑ قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ریاض میں جاری کردہ ترکی اور خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کونسل کے دعوے کے برخلاف شام، یمن، بحرین، عراق اور لیبیا کی افسوسناک صورتحال ریاض اجلاس میں شامل ممالک کی اکثریت کی مداخلت کا نتیجہ ہے اور یہ ممالک ایران سمیت دوسرے ملکوں پر الزام لگانے کے سوا اپنی ناکامی کا شکار پالیسیوں کا کوئی اور چارہ نہیں جانتے ہیں۔ ترکی اور خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعرات تیرہ اکتوبر کو ریاض میں خطے کی صورتحال کے بارے میں ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ایران پر عرب ممالک کے امور میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس بیان میں ایسی حالت میں ایران پر عراق، یمن اور شام کے بحرانوں میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے  کہ جب اس وقت ترکی اور سعودی عرب کے فوجی غیر قانونی طور پر عراق ، شام اور یمن میں موجود ہیں اور خلیج فارس تعاون کونسل کے بعض دوسرے ممالک منجملہ قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی کھلے بندوں شام، یمن اور لیبیا میں سرگرم  دہشت گردوں کی اسلحہ جاتی اور مالی مدد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

خلیج فارس تعاون کونسل نے بھی کچھ عرصہ قبل ایران کی جانب سے یمنی گروہوں کی حمایت کا دعوی کرتے ہوئے عرب اتحاد کے نام سے موسوم گروہ کی یمن کے خلاف جارحیت کو جائز قرار دینے کوشش کی تھی۔ یمن کے خلاف جارحیت کرنے والے اتحاد کے رکن ممالک نے، کہ جو سب کے سب خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ہیں، ایسی حالت میں خطے میں ایران کی مداخلت کا دعوی کیا ہے کہ جب یمن کی فضا اور اس ملک  کے جنوبی اور مغربی ساحل جارح اتحاد کے فوجیوں کے محاصرے میں ہیں اور یہ فوجی حتی انسان دوستی پر مبنی امداد بھی یمن تک پہنچنے کی روک تھام  کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہفتہ رفتہ کے دوران ہفتے ہی کے دن مجلس ترحیم پر اس اتحاد کے تباہ کن حملے میں کم از کم نو سو عام شہری شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا نظر آتا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران پر خطے کے بحرانوں میں مداخلت کرنے کا الزام لگانے کا ایک مقصد سعودی اتحاد کے حالیہ مظالم کی جانب سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانا ہے۔ عرب اتحاد کے فوجیوں کو امریکہ اور ترکی کی حمایت حاصل ہے اور اس اتحاد کو حالیہ مہینوں کے دوران وقتا فوقتا عراق، شام اور یمن کے جنگی میدانوں میں شکست کھانی پڑی ہے۔ اب یہ اتحاد ایران پر الزام لگانے اور دوسرے ممالک کو قصوروار ظاہر کرنے  کے ذریعے شام اور یمن میں اپنے مظالم جاری رکھنے کو جائز قرار دینے کے درپے ہے۔

یہ اتحاد دوسرے  ممالک کو ان شکستوں کا ذمےدار قرار دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان شکستوں کی وجہ خطے کے عوام کی پائیداری اور حریت پسندی ہے۔ عراق ، شام اور یمن کے عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ تمام تر فوجی اور سیاسی دباؤ کے باوجود سعودی عرب اور امریکہ جیسے ممالک کے تسلط سے نجات پانے کے سلسلے میں پرعزم ہیں اور اس سلسلے میں کوئی بھی طاقت ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی ہے۔