عراق اور شام میں ترکی کی منہ زوری اور ہٹ دھرمی
ترکی عراق میں اپنے فوجیوں کی مدد سے داعش کو سہارا دینا چاہتا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا یہ اصرار کہ ان کے فوجی عراق میں موجود رہیں گے، اس سے عراق میں ان کے بعض اھداف سے پردہ اٹھتا ہے۔ ادھر عراقی پارلیمنٹ کی رکن محترمہ فردوس عوادی نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ موصل کے قریب ترک فوجیوں کو تعینات کرنے کا مقصد موصل میں موجود دو ہزار داعش دہشتگردوں کو بچانا ہے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ اھل موصل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دو ہزار ترک داعشی عناصر موصل کے علاقے بعشقیہ میں ترک فوج سے براہ راست رابطے میں ہیں۔ یہ لوگ موصل سے نکلنے کے لئے اور ترکی کو رسوائی سے بچانے کے لئے ترک فوجیوں سے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ترکی نے موصل پر قبضے کے موقع پر داعش کے ان دو ہزار ترک عناصر کو ٹریننگ دی تھی۔ عراق کی رکن پارلیمنٹ فردوس عوادی نے کہا کہ موصل میں ترک داعشی دہشتگردوں میں کچھ ترک فوجی افسر بھی دیکھے جا سکتے ہیں جو دہشتگرد وں کو ٹریننگ دیتے ہیں۔
اس سے قبل انقرہ کی حکومت کے حکام نے ترک فوج اور دہشتگرد گروہوں بالخصوص داعش سے تعلقات کا انکار کیا تھا لیکن ترکی کی جانب سے دہشتگردوں کی مدد کرنے کے سلسلے اتنے زیادہ ثبوت و شواہد ہیں کہ کوئی بھی اس تعاون کا انکار نہیں کر سکتا۔ دراصل وہ تمام لوگ جو داعش، جبھۃ النصرۃ اور دیگر دہشتگردوں گروہوں کے نام سے شام اور عراق میں لڑ رہے ہیں انہیں علاقے کی بعض حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔
ایک ماہ قبل انقرہ کی حکومت نے دہشتگرد گروہ داعش پر حملوں کے بہانے شام کی سرزمین پر اپنے مخالف کردوں پر حملے کرنا شروع کر دئے تھے۔ ترک حکام کے دعووں کے برخلاف آج تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا ہے اور نہ ہی کسی معتبر ادارے کی رپورٹ ہی سامنے آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ترک فوج نے دہشتگردوں کے خلاف جنگ کی ہے۔ اسی وجہ سے عراقی پارلیمنٹ کی رکن محترمہ عوادی کے انکشافات کو ثبوت بنا کر اس حقیقت پر یقین ہو جاتا ہے کہ ترک صدر اپنے فوجیوں کو عراق میں باقی رکھنا چاہتے ہیں اور ترک صدر کو اس بات سے تشویش لاحق ہے کہ عراق میں داعش کے بھیس میں بہت سے ترک ، امریکی ا ور سعودی فوجی افسر موجود ہیں اور ان لوگوں کا کسی نہ کسی طرح سے عراق سے باہر نکالا جانا ضروری ہے۔
عراق میں ترکی کے باقی رہنے پر اصرار کی وجوہات کےانکشاف کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دہشتگرد کہاں سے اور کس سے ھدایات لے رہے تھے۔ واضح ہے کہ اس ا نکشاف سے یہ سب پر واضح ہو جاتا ہےکہ امریکہ سعودی عرب اور ترکی، شام میں بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے خواہاں ہیں اور شام کے بحران میں ملوث ہیں۔
ان حالات میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ترک صدر اردوغان نے بہت بڑا رسک لیا ہے۔ دراصل ترک صدر خلیج فارس کے بے غیرت رجعت پسند عرب حکام کا سینہ سپر بننے کے ساتھ ساتھ نہایت شدید حالات کا شکار بھی ہیں جن سے چھٹکارا پانا کوئی آسان کام نہیں ہے بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ یہ بات بعید نظر آتی ہے کہ عراقی حکومت اور حکام، ترک حکومت اور فوج کی بےتدبیری اور غیر دانشمندانہ اقدامات کو آسانی سے نظر انداز کر دیں گے۔ ترکی کی حکومت نے حالات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے شام اور عراق کی سرزمینوں پر اپنے فوجی تعینات کر دئے ہیں اور یہ ایسے عالم میں ہے کہ بغداد اور دمشق کی قانونی حکومتوں نے ہمیشہ ترکی کے اس جارحانہ اقدام کی مذمت کی ہے۔