شام کے بارے میں لوزان اجلاس کا جائزہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i253498-شام_کے_بارے_میں_لوزان_اجلاس_کا_جائزہ
سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں شام کے بارے میں بین الاقوامی اجلاس ہفتے کی رات منعقد ہوا جو ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہا۔ اس اجلاس میں بحران شام کے انسانی، سیاسی اور سیکورٹی پہلوؤں کے بارے میں بات چیت کی گئی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۶, ۲۰۱۶ ۱۲:۰۸ Asia/Tehran
  • شام کے بارے میں لوزان اجلاس کا جائزہ

سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں شام کے بارے میں بین الاقوامی اجلاس ہفتے کی رات منعقد ہوا جو ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہا۔ اس اجلاس میں بحران شام کے انسانی، سیاسی اور سیکورٹی پہلوؤں کے بارے میں بات چیت کی گئی۔

اس اجلاس میں امریکہ، روس، قطر، ترکی، سعودی عرب، ایران، مصر، عراق اور اردن کے وزرائے خارجہ کے علاوہ شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے شرکت کی۔

اگرچہ اس اجلاس کے نتائج کے بارے میں کوئی رپورٹ منظرعام پر نہیں آئی ہے لیکن اجلاس سے قبل بعض سیاسی حلقوں نے کہا تھا کہ بحران شام کے بارے میں کسی اتفاق رائے  تک پہنچنے کا امکان بہت کم ہے۔

اگرچہ لوزان اجلاس کی جانب سے مشترکہ بیان کا جاری نہ کیا جانا، اس اجلاس کی ایک کمزوری کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس اجلاس میں اٹھائے جانے والے مسائل اور اس سلسلے میں زبانی طور پر ہونے والے بعض معاہدوں پر ایک نظر ڈالنے سے نیز اس اجلاس میں شام کے امور میں سرگرم تمام بین الاقوامی فریقوں کی شرکت سے، سیاسی طریقوں سے اس بحران کے فوری خاتمے کی ضرورت کے بارے میں بحران شام میں با اثر بین الاقوامی فریقوں کے درمیان ایک اتفاق رائے تک پہنچنے کے بارے میں امید میں اضافہ کر دیا ہے۔

بحران شام کے حل کے لیے کی جانے والی مشترکہ کوششوں کے تناظر میں شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے لوزان اجلاس میں پیش کی گئی اپنی تجویز میں جھڑپوں کے خاتمے اور جنگ بندی کے قیام کے لیےمتحارب فریقوں سے تحریری ضمانت لینے کی بات کی۔

واضح رہے کہ شام میں پہلے ہونے والی جنگ بندیاں انتہائی کمزور رہی ہیں اور ان کی مسلسل خلاف ورزی ہوتی رہی ہےلہذا اب ایسے اقدامات انجام پانے چاہییں کہ گزشتہ تلخ تجربات کو دہرایا نہ جائے اور پائیدار جنگ بندی کے قیام کا راستہ ہموار ہو کہ جو جامع سیاسی مذاکرات کے آغاز کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب روس نے بھی اعلان کیا ہے کہ لوزان اجلاس میں شرکت کرنے والے فریقوں نے شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق شامی عوام کو حاصل ہے۔ یہ بات شام کے اجلاسوں کے بارے میں تبدیلی کا آغاز ہو سکتی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بحران شام میں اثرورسوخ رکھنے والے بعض فریقوں کی جانب سے شام کے قانونی صدر بشار اسد کی برطرفی پر اصرار اس ملک کے بحران کے خاتمے کے لیے ہونے والے ہر اجلاس کو ناکام بنا دیتا ہے اور جب تک امریکہ، سعودی عرب، ترکی اور قطر جیسے بعض ممالک بشار اسد کی اقتدار سے علیحدگی پر اصرار کرتے رہیں گے، بحران شام کے بارے میں بین الاقوامی اجلاسوں کے نتائج کے سلسلے میں اچھی امید نہیں رکھی جا سکتی۔

بحران شام دو ہزار گیارہ سے شام کے صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے سعودی عرب، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے وسیع حملوں سے شروع ہوا ہے۔

لوزان اجلاس میں جن مسائل پر بات چیت کی گئی ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ شامی حکومت کے مخالف گروہوں کو ان گروہوں سے الگ کیا جائے کہ جو بین الاقوامی نقطۂ نظر سے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت دہشت گرد گروہ سمجھے جاتے ہیں۔

جبہۃ النصرہ دہشت گرد گروہ کے بارے میں کہ جس نے اپنا نام بدل کر جبہۃ فتح الشام رکھ لیا ہے، کہ جسے بین الاقوامی قراردادیں اور لوزان اجلاس بھی دہشت گرد قرار دیتا ہے، کہا گیا ہے کہ یہ گروہ بھی دہشت گرد گروہ داعش کی مانند ہر قسم کے معاہدے کے دائرے سے باہر ہے۔

واضح رہے کہ شام کے حقیقی میدان میں مسلح گروہوں کے درمیان رفت و آمد کا سلسلہ مستقل طور پر جاری ہے کہ جس سے ان گروہوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے حالیہ جنگ بندی معاہدے میں دہشت گرد گروہ جبہۃ النصرہ کے ساتھ اصلی مخالف گروہوں کا تعاون موجود تھا کہ جس کی بنا پر مذاکرات میں اصلی چیلنج قول کے ساتھ ساتھ فعل اور عمل میں بھی ان گروہوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ہے۔

بہرحال مغرب کی جانب سے ڈالی جانے والی رکاوٹیں اور دہشت گردی کی اچھی اور بری دہشت گردی میں تقسیم کے سلسلے میں اپنی غیرمنطقی پالیسیاں قبول کروانے کے سلسلے میں ان کے اقدامات بحران شام کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

بحران شام کے حل کے لیے کی جانے والی کسی بھی کوشش کے لیے، اس ملک کے عوام کی خواہشات پر توجہ دینے، سیاسی اور جامع راہ حل تلاش کرنے، فوری جنگ بندی قائم کرنے اور دہشت گردی کی مختلف شکلوں کا حقیقی مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان تمام امور پرتوجہ دینے سے بحران شام کے حل کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔

ان تمام مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوزان اجلاس کے نتائج کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس اجلاس کو نہ تو ناکام اور نہ ہی کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔

لیکن چونکہ اس اجلاس نے مستقبل میں شام کے بارے میں مذاکرات جاری رکھنے اور اس میں بعض تجاویز پیش کیے جانے کا راستہ ہموار کر دیا ہے اس لیے اسے بحران شام کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں کے راستے میں ایک قدم قرار دیا جا سکتا ہے