افغانستان میں جنگ میں شدت اور اس کے نتائج
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i253537-افغانستان_میں_جنگ_میں_شدت_اور_اس_کے_نتائج
افغانستان کے صوبے ہلمند میں طالبان کے حملوں میں شدت اور اس صوبے کے مرکز لشکرگاہ پر قبضے کی کوشش سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اپنی مالی ضروریات کے ایک حصے کو پورا کرنے کے لیے ایک اقتصادی مرکز کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۶, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۶ Asia/Tehran
  • افغانستان میں جنگ میں شدت اور اس کے نتائج

افغانستان کے صوبے ہلمند میں طالبان کے حملوں میں شدت اور اس صوبے کے مرکز لشکرگاہ پر قبضے کی کوشش سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اپنی مالی ضروریات کے ایک حصے کو پورا کرنے کے لیے ایک اقتصادی مرکز کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

البتہ طالبان نے افغان فوج کو کمزور کرنے کے لیے قندوز، فراہ اور دیگر صوبوں میں بھی اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ افغان فوج دوسرے صوبوں میں اپنے فوجی بھیجنے پر مجبور ہو جائے۔ ان حالات میں افغان فوج کے سربراہ جنرل قدم شاہ شہیم کے ہلمند کے دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت اس صوبے کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے کسی بھی صورت میں اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ ہلمند پر طالبان کا قبضہ ہو جائے۔

ہلمند افغانستان میں منشیات کی کاشت اور پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے اور طالبان اس پر قبضہ کر کے ایک اہم مالی ذریعے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ درایں اثنا افغانستان کے بعض حلقوں کا یہ خیال ہے کہ طالبان ہلمند پر قبضہ کر کے کوئٹہ شوری کو پاکستان سے افغانستان منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

اس طرح ہلمند میں جنگ کئی پہلوؤں سے قابل توجہ ہے۔ پہلا یہ کہ اس جنگ میں افغان فوج کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی جرنیلوں اور مغربی حلقوں نے کئی بار اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ افغانستان کے سیاسی و فوجی حلقوں کی نظر میں افغان فوج کے جانی نقصان میں اضافہ، جنگ میں اس کی ناتوانی اور کمزوری سے زیادہ، دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے مقابلے میں افغانستان کو مضبوط بنانے اور اسے لیس کرنے میں امریکہ اور نیٹو کی بےتوجہی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ افغان فوج نے اپنے ملک کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے  عمل میں اپنی بہادری اور غیرت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن افغان فوج کے بعض کمانڈروں کے بقول بعض محاذوں پر طالبان کے پاس افغان فوج سے کہیں زیادہ پیشرفتہ اور جدید ہتھیار ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو طالبان کا مقابلہ کرنے میں افغان فوج کو ناتواں اور کمزور ظاہر کر کے جنگ کے محاذوں کی صورت حال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور امریکہ افغان فوج کی مدد کے بہانے افغانستان کے مختلف صوبوں میں اپنے فوجی بھیج رہا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب افغان حکومت نے بارہا اس بات کا اعلان کیا ہے کہ افغان فوج کو کسی بھی اور چیز سے زیادہ جدید فوجی سازوسامان کی ضرورت ہے۔

سیاسی مبصرین کے خیال میں افغانستان کے مختلف صوبوں اور شہروں میں امریکی فوجیوں کی ایک سو افراد پر مشتمل گروہوں میں تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کسی بھی صورت میں افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے کا خواہاں نہیں ہے، کیونکہ افغان حکومت کے مسلح مخالفین، افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کے انخلا کو امن عمل میں شامل ہونے کی ایک شرط قرار دیتے ہیں۔ اس بنا پر افغانستان میں بحران اور بدامنی میں اضافہ امریکہ کے لیے ایک آئیڈیل اور مناسب موقع سمجھا جاتا ہے تاکہ وہ پورے افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر کے اس ملک کو علاقے میں اپنے فوجی اڈے میں تبدیل کر دے۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب افغانستان میں جنگ میں شدت اس ملک کے عوام کے لیے ناقابل تلافی نقصانات اور نتائج کی حامل ہے۔ عام شہریوں کا مارا جانا اور بڑی تعداد میں لوگوں کا بےگھر ہونا، قندوز، ہلمند اور فراہ میں طالبان کے حملوں میں اضافے کے نتائج ہیں۔

درایں اثنا پناہ گزینوں کے امور میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر UNHCR نے بھی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں افغان مہاجرین کی پاکستان سے وطن واپسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں ایک انسانی بحران پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔ اس ادارے کے ایک اعلی عہدیدار ایوو فرائسن کے مطابق روزانہ سات ہزار چار سو افغان مہاجر پاکستان کی سرحد کے راستے افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ ان افراد اور طالبان کے حملوں کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے افراد کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے افغانستان میں انسانی صورت حال بہت تشویش ناک ہے۔ کیونکہ واپس اپنے وطن آنے والے افغان مہاجرین میں ساٹھ فیصد تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے کہ جن کوکھانے پینے کی اشیا، طبی سہولیات اور فلاحی خدمات کی اشد ضرورت ہے اور عالمی برادری کی اس پر کوئی توجہ نہیں ہے۔