موصل کی آزادی کا آپریشن شروع اور عراق میں داعش کا خاتمہ
عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے موصل شہر کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کا آپریشن شروع کرنے کا حکم دیے جانے کے بعد عراقی فوج، کرد پیشمرگہ فورس اور عوامی رضاکار فورس نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ٹھکانوں پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں۔
موصل کی آزادی کا آپریشن شروع اور عراق میں داعش کا خاتمہ
عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے موصل شہر کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کا آپریشن شروع کرنے کا حکم دیے جانے کے بعد عراقی فوج، کرد پیشمرگہ فورس اور عوامی رضاکار فورس نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ٹھکانوں پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں۔
عراقیوں کا اتحاد و یکجہتی اور اپنی داخلی توانائیوں پر بھروسہ، حالیہ مہینوں کے دوران داعش کے زیرقبضہ علاقوں کے ایک بڑے حصے کو آزاد کرانے اور داعش کا مقابلہ کرنے میں عراقیوں کی وسیع پیمانے پر کامیابیوں کا اصلی عامل و سبب اور عراق پر داعش کے قبضے کے سامنے ایک مضبوط بند رہا ہے۔
تکفیری دہشت گرد گروہ داعش تقریبا دو سال قبل امریکہ اور علاقے کی بعض رجعت پسند حکومتوں کی ایک بین الاقوامی اور علاقائی سازش کے تحت عراق کے اہم شہر موصل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ عراقی حکومت نے جون دو ہزار چودہ میں عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی سمیت عراق کی مختلف فورسز کی مدد سے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ شروع کی۔
عراقی عوام، فوج اور حکومت کے مشترکہ تعاون نے عراق میں داعش کو کمزور کر کے رکھ دیا اور اسے صوبہ نینوا میں محصور کر دیا۔ عراق کے اعلی حکام نے عوام یعنی رضاکار فورس، فوج اور حکومت کے تعاون کے موثر ہونے کا ادراک کرتے ہوئے دو ہزار سولہ کو عراق میں داعش کے خاتمے کا سال قرار دیا اور موجودہ آپریشن کے آغاز سے ان کی یہ بات سچ ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔
موصل کی آزادی کا آپریشن شروع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عراق میں داعش کے خاتمے کے لیے الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش اپنی شکست کو سامنے دیکھ کر اپنے حملوں اور جرائم کا سلسلہ تیز کر کے عراق میں کسی طرح مکمل شکست سے بچنا چاہتا ہے اور اس کی وجہ سے یہ دہشت گروہ اپنے دہشت گردانہ حملوں میں مزید تیزی لا سکتا ہے۔
انہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عراقیوں نے داعش کے اقدامات کو زیادہ سے زیادہ کنٹرول کرنے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنے کے مقصد سے موصل کی آزادی کا آپریشن تاخیر سے شروع کیا ہے۔
یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب عراقی حکام نے حالیہ دنوں کے دوران عراق میں داعش کے تباہ کن اور دہشت گردانہ اقدامات سے پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بات کی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم حیدر العبادی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش نے عراق کے علاقوں پر قبضہ کر کے اسے پینتیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ موصل سمیت بعض علاقوں کو داعش نے اتنا تباہ کر دیا ہے کہ بعض ماہرین کا کہنا ہے صرف موصل شہر کی تعمیرنو کے لیے کم از کم دس سال کا عرصہ درکار ہے۔
بہرحال داعش اور اس کے حامیوں یعنی امریکہ، سعودی عرب اور علاقے کے چند رجعت پسند ملکوں نے عراقی عوام کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے اور عراقی عوام کو امید ہے کہ وہ موصل آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیں گے جس سے صورت حال بدل جائے گی اور وہ ملک کی تعمیرنو کے مرحلے میں داخل ہو جائیں گے۔
ان حالات میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے میدان میں اہم ترین ادارے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی بعض ذمہ داریاں ہیں اور وہ موصل میں ایک انسانی المیے کی شدت کو کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ ، عالمی ادارہ صحت، پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر، یونیسیف اور عالمی ادارہ خوراک جیسے اپنے ذیلی اداروں کے ذریعے یہ کردار ادا کر سکتا ہے۔