ترکی میں بم دھماکوں کا سلسلہ جاری
ترکی کے سرحدی شہر غازی انتپ کے علاقے الجامعہ میں اتوار کے روز ایک زبردست بم دھماکہ ہوا۔
ترکی کے جس علاقے میں یہ بم دھماکہ ہوا اس میں شامی پناہ گزینوں کی اکثریت آباد ہے۔ اس دھماکے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دس افراد زخمی ہوئے۔
ترکی کی اناتولی نیوز ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ یہ دہشت گردانہ بم دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس اس علاقے میں داعش کے خلاف آپریشن کر رہی تھی۔
غازی انتپ کے گورنر نے بھی اس بم دھماکے کے بعد کہا ہے کہ گزشتہ چند روز میں ایسی رپورٹیں ملی تھیں کہ علویوں کے اجتماع میں بم دھماکے کا خدشہ ہے اور اسی بنیاد پر داعش کے خلاف کارروائی کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے ہیزمت تحریک، پی کے کے اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی ماضی کی طرح جاری رہے گی۔
دوسری جانب ترکی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہیزمت تحریک کے سربراہ فتح اللہ گولن سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر By Lock کو استعمال کرنے کے الزام میں انقرہ سے انسٹھ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں پانچ پولیس کے سربراہ، تین اعلی افسر اور سینتیس دیگر پولیس عہدیدار شامل ہیں۔
ترک پولیس کی جانب سے گولن تحریک کے ارکان کی مسلسل گرفتاریاں اور غازی انتپ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے، ترکی کے اندر مختلف سیاسی سماجی اور سیکورٹی میدانوں میں بدامنی جاری رہنے کی عکاسی کرتے ہیں۔
ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی کے سربراہ صلاح الدین دمیرتاش کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے دیاربکر کے سرکاری وکیل کی درخواست کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
دیاربکر کے سرکاری وکیل نے ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ دمیرتاش پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے گزشتہ ایک ٹی وی پروگرام میں ترک حکومت کی کھلے عام توہین کی تھی لہذا انھیں کم از کم چھے ماہ سے لے کر دو سال تک قید کی سزا سنائی جائے۔
ترک حکومت کے بعض مخالف گروہوں کے اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی سے قطع نظر ترکی کے بعض سرکاری ادارے بھی بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں یا ترک معاشرے میں بدامنی کا احساس پیدا کر رہے ہیں۔
ترک حکومت نے ان اقدامات کو خاص طور پر پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے
ترک حکومت پر تنقید کرنے والے حلقوں کا خیال ہے کہ ترک حکام پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ذریعے کارروائیاں جاری رکھ کرمعاشرے میں سماجی اور نفسیاتی سلامتی کو لاحق خطرے کا موضوع زندہ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنے تمام مخالفین کو دیوار سے لگا سکیں۔
ہیزمت تحریک اور پی کے کے کو زبردستی دیوار سے لگانا اور داعش گروہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خود کو سرگرم ظاہر کرنا ترک حکومت کی پالیسیوں کا ایک حصہ ہے۔
یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب ترک حکومت کے مخالفین کے خلاف سخت اقدامات، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور جھڑپوں سے ترکی میں سماجی اور نفسیاتی بدامنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ترک حکام اپنے ان اقدامات کی آڑ میں آئین میں تبدیلی سمیت اپنی طویل مدت نام نہاد اصلاحی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں۔ خصوصا اس لیے کہ ترکی کی حکمراں جماعت نے بحران کھڑے کر کے اور انھیں کنٹرول کرنے کا ڈرامہ کر کے حالیہ ضمنی انتخابات میں پارلیمنٹ کی اکثر نشستیں جیت لیں اور وہ اسی روش کو آگے بھی جاری رکھنا چاہتی ہے۔