حلب میں شام اور روس کی یکطرفہ جنگ بندی
روس نے اعلان کیا ہے کہ روس اور شام کی افواج حلب میں جمعرات کے روز آٹھ گھنٹوں تک انسان دوستانہ بنیادوں پر جنگ بندی پر عمل کریں گی۔
اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویتالی چورکین نے کہا کہ جمعرات کو جنگ بندی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے شروع ہوکر چار بجے اختتام پذیر ہوگی۔ اس جنگ بندی کے دوران عام شہریوں بالخصوص زخمیوں کو نکالا جائے گا اور مسلح افراد پسپائی اختیار کریں گے۔ مسلح افراد کی پسپائی کے لئے خاص راہداریاں معین کی جائیں گی۔ ویتالی چورکین کے مطابق روس اور شام نے حلب میں یکطرفہ طور پر آٹھ گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے البتہ اس جنگ بندی کو اڑتالیس یا بہتّر گھنٹے تک بڑھانے کے لئے چند طرفہ مفاہمت کی ضرورت ہوگی۔ اس سے قبل بھی روس اور امریکہ نے حلب میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن یہ معاہدہ ایک ہفتے سے زیادہ نہ چل سکا۔ ستمبر کے مہینے میں اس جنگ بندی معاہدے سے معلوم ہوگیا کہ امریکہ ہرگز قابل اعتماد نہیں ہے اور یہ ملک ہر حال میں صرف اپنےاور مسلح نیز دہشتگرد گروہوں کے مفادات کی فکر میں رہتا ہے۔ حلب میں جنگ بندی معاہدے کے ناکام ہونے کے بعد امریکہ اور مغرب نے اپنی پروپیگنڈا مشینری سے روس اور شام کو حلب میں بحران میں شدت آنے کا ذمہ دار قراردیا۔ ادھر نام نہاد اعتدال پسند مسلح گروہ ، جنہیں امریکہ سعودی عرب ، ترکی اور قطر کی حمایت حاصل ہے، تکفیری دہشتگـرد گروہ جبھۃ النصرۃ کے ساتھ مل کر حلب کے مختلف علاقوں پر حملے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ڈھائی لاکھ افراد کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ مشرقی حلب میں دہشتگردوں کے اقدامات میں شدت آنے سے شام کی فوج اور اس کے حامیوں نے جوابی کارروائیاں کی ہیں اور حلب کے میدان جنگ میں اس وقت شام کی فوج کو برتری حاصل ہے۔ حلب شام کی جنگ کا اصلی محاذ تھا اور ہے اور اس محاذ میں جو کامیاب ہوتا ہے وہی اس ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوتا ہے۔ دہشتگردوں اور مسلح گروہوں کے حامی پوری پوری یہ کوشش کررہے ہیں کہ مشرقی حلب میں ان کی پوزیشن بہترہوجائے۔ امریکہ نے اسی تناظر میں ستمبر میں روس کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کے باوجود اس نے اعتدال پسند مسلح افراد اور دہشتگرد گروہ جبھۃ النصرہ میں کسی طرح کا امتیاز کرنے سے انکار کردیا ہے، یاد رہے ان دونوں گروہوں کا ھدف ایک ہی ہے اور یہ لوگ صدر بشار اسد کی حکومت گرانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔ اس مسئلہ کا گذشتہ سنیچر کو سوئیس شہر لوزان کے اجلاس میں ایران، روس، امریکہ، سعودی عرب، ترکی اور عراق نیز اردن و مصر کے وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ کے نمائندے کے درمیان بھرپور طرح سے جائزہ لیا گیا۔ لوزان نشست بھی کئی گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ جب تک شام کے مخالف مسلح گروہ اور جبھۃ النصرہ دہشتگرد گروہ کے درمیان حد فاصل نہیں بنایا جاتا اور جب تک عوامی رائے حاصل کئےبغیر صدر بشار اسد کو حکومت سے الگ کئے جانے پر اصرار کیا جاتا رہے گا کوئی بھی اجلاس شام کے بارے میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ ویتالی چورکین کے بقول اگر جبھۃ النصرۃ کے دہشتگرد حلب کے مشرقی علاقے سے نکل جاتے ہیں تو اس شہر میں دائمی جنگ بندی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔