یمن میں سعودی جرائم کے سلسلے میں اقوام متحدہ کا انفعالی رویہ
یمن کے خلاف سعودی عرب کی جنگ میں اکیس ملین یمنیوں کے انسان دوستانہ امداد کا محتاج ہونے اور دسیوں ہزار افراد کو قتل اور زخمی ہونے کے باوجود اقوام متحدہ یمن میں سعودی جرائم پر اپنا انفعالی رویہ جاری رکھے ہوئے ہے
یمن کے خلاف سعودی عرب کی جنگ چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے شروع ہوئی اور ایک ہفتے بعد اس جنگ کو شروع ہوئے انیس مہینے مکمل ہو جائیں گے - اس جنگ میں سعودی عرب کے جنگی جرائم کے ارتکاب کے اثبات کے لئے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے اعداد و شمار آل سعود کے جرائم کا سب سے بڑا ثبوت ہیں- یمن میں یونیسف کے ترجمان محمد الاسعدی کا کہنا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ نے اکیس ملین یمنیوں کو انسان دوستانہ امداد کا محتاج بنا دیا ہے جن میں دس ملین بچے ہیں - کم سے کم انیس ملین یمنیوں کو کہ جن میں نصف بچے ہیں صحت عامہ اور دوسری بنیادی خدمات و سروسز کی سخت ضرورت ہے- اس جنگ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی بہت دقیق تعداد کا توپتہ نہیں ہے تاہم صنعا میں قائم حقوق و ترقی نامی مرکز نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کے حملوں میں اب تک دس ہزار پانچ سو باسٹھ یمنی جاں بحق ہوچکے ہیں - یونیسف کے ترجمان محمد الاسعدی کے بقول یمن کی اکاون فیصد آبادی یعنی چودہ ملین سے زیادہ آبادی جنگ طویل ہونے اور بدتر معاشی صورت حال کے باعث قلت غذا کا شکار ہے- یہ اعداد و شمار یمن میں سعودی عرب کے جرائم کا صرف ایک حصہ ہے- یہ جرائم صرف ہلاکتوں ، زخمیوں اور غذائی عدم تحفظ تک ہی محدود نہیں ہیں - یمن کے بحران میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے کوارڈی نیٹر اسٹیفن اوبراین نے اکتوبردوہزارسولہ میں کہا کہ یمن میں تقریبا دس لاکھ سے پچاس لاکھ تک بچے قلت غذا کا شکار ہیں جن میں تین لاکھ ستر ہزار بچوں کی صورت حال بہت خراب ہے اور وہ موت کے خطرے سے دوچار ہیں - عالمی ادارہ صحت نے اگست دوہزار سولہ میں اپنی ایک رپورٹ میں یمن کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد دس لاکھ سے لے کر تیس لاکھ تک اعلان کی ہے- اس اعداد و شمار کی بنیاد پر اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہ گیا ہے کہ آل سعود نے یمن میں امن و انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے کہ جن کی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ تحقیقات کررہی ہے - اس ادارے کے قانون کے مطابق جو افراد اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں انھیں تحفظ حاصل نہیں ہوتا اور ان پر مقدمہ چلنا چاہئے- آل سعود پر مقدمہ چلائے جانے کے لئے مضبوط بنیادیں موجود ہیں تاہم اقوام متحدہ ، ان جرائم کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری پر عمل نہیں کررہی ہے - دس دن پہلے سعودی عرب کے جنگی جہازوں نے صنعا میں ایک مجلس ترحیم پر حملہ کرکے نو سو سے زیادہ یمنی شہریوں کو قتل اور زخمی کردیا تھا آل سعود نے عالمی دباؤ اور تنقیدیں بڑھنے کے بعد مجبور ہو کر یہ دعوی کیا کہ یہ حملہ غلطی سے ہوا ہے تاہم اقوام متحدہ نے اس حملے کی مذمت تک نہیں کی- اقوام متحدہ نے بحران یمن میں سب سے بڑا کام یہ کیا کہ کچھ گروہوں کے درمیان مذاکرات کرائے لیکن وہ بھی ناکام رہے - ایک ہفتے اور بہتر گھنتے کی جنگ بندی بھی کہ جو چند بار نافذ ہوئی اسے بھی آل سعود نے نظرانداز کیا - آل سعود ، اقوام متحدہ کی پسپائی و کمزوری کو بخوبی جانتے ہوئے یمن میں اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہے-