ایران مختلف فضائی دفاعی سسٹموں کا حامل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i267730-ایران_مختلف_فضائی_دفاعی_سسٹموں_کا_حامل
واشنگٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں میں ایران کی دفاعی توانائیوں کے بار ےمیں کہا ہے کہ ایران نے قابل توجہ طور پر مستقبل ایر بیس قائم کرکے فضائی دفاعی سسٹم کو بہتر بنالیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۲:۱۸ Asia/Tehran
  • ایران مختلف فضائی دفاعی سسٹموں کا حامل

واشنگٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں میں ایران کی دفاعی توانائیوں کے بار ےمیں کہا ہے کہ ایران نے قابل توجہ طور پر مستقبل ایر بیس قائم کرکے فضائی دفاعی سسٹم کو بہتر بنالیا ہے۔

تیسری تفسیر

واشنگٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں میں ایران کی دفاعی توانائیوں کے بار ےمیں کہا ہے کہ ایران نے قابل توجہ طور پر مستقبل ایر بیس قائم کرکے اور فضائی دفاعی سسٹم کو  نصب کرکے اپنا دفاعی نظام بہتر بنالیا ہے۔

واشنگٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دفاعی سسٹم سے ایران کو توانائی حاصل ہوگئی ہے کہ وہ خلیج فارس کی فضا میں دشمن کے جنگی طیاروں کا مقابلہ اور  خود حملے کرکے علاقے کا فوجی توازن بگاڑ سکتا ہے۔ اس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ کے دوسرے حصے میں ایران میں اٹھائیس دسمبر دوہزار سولہ کو ہونے والی  فضائی دفاعی فوجی مشقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس فضائی دفاع کے مختلف سسٹم ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی فضائی دفاعی اور میزائلی توانائیوں میں بہتری آنے سے ایران کو یہ امکان حاصل ہوگیا ہے کہ وہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں امریکہ کا آزادی عمل اس سے چھین لے اور پورے علاقے میں دشمن کے فوجی اڈوں کو نقصان پہنچا سکے۔ یہ رپورٹ ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ خلیج فارس کے سمندر میں ایران کی موجودگی علاقے کے لئے ایک خطرہ ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران وہی کام کررہا ہے جو ہر خود مختار ملک کو کرنا چاہیے تا کہ وہ اپنا دفاع کرسکے۔ خلیج فارس کے متعدد ممالک دوسرے ملکوں سے اپنے لئے سکیورٹی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس اسٹراٹیجی سے انہوں نے خلیج فارس کو بیرونی ملکوں کی مداخلت کی آماجگاہ بنارکھا ہے جس سے کہ کشیدگی پھیلتی ہے جبکہ بعض مبصرین اپنے نظریات سے یہ ظاہر کرنے کے کوشش کررہے  کہ ایران کا مقصد خلیج فارس اور اسٹراٹیجیک آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی آبی سرحدیں تقریبا دو ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہیں۔ اور یہ ایران کے جنوب میں واقع ہیں اس وجہ سے ایران نہایت ہی اہم جیو پالیٹیکل پوزیشن کا حامل ہے لھذا ایران کے اطراف میں متعدد ملکوں میں کشیدگی کا پایا جانا، خلیج فارس میں امریکہ کی وسیع فوجی موجودگی اور علاقے کی سکیوریٹی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والے مسائل کا یہ تقاضہ ہے کہ دشمن کی حرکات و سکنات اور خطروں پر مختلف پہلوؤں سے نگاہ رکھی جائے۔ اس کے علاوہ یہاں یہ سوال بھی درپیش ہے کہ خلیج فارس میں امریکہ اور برطانیہ کی وسیع فوجی موجودگی اور علاقے میں فوجی اڈے قائم کرنے کے کیا اھداف ہوسکتے ہیں؟

ابتدا ہی سے اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی کشیدگی سے دوری  اختیار کرنا رہی ہےاسی بناپر گذشتہ دہائیوں میں خلیج فارس میں جو دو جنگیں ہوئی ہیں ان سے سب پر واضح ہوگیا ہے کہ ایران  کسی طرح کی توسیع پسندی کا قصد نہیں رکھتا ہے لیکن اس نے یہ پیغام بھی اپنے دشنوں اور جارحین کو دیا ہےکہ  وہ اپنے طاقتور وجود سے اپنی سکیورٹی خود قائم کرسکتا ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اپنی سرحدوں کے دفاع کے لئے آمادہ رہنا ایک بدیہی امرہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران  بھی  خطروں کے مقابلے میں اپنی ڈیٹیرینٹ توانائی رکھتا ہے لیکن ساتھ ساتھ اس بات پر بھی یقین رکھتا ہے کہ علاقے کے تمام ملکوں کو مل کر اجتماعی طور پر علاقے میں سکیوریٹی قائم کرنی چاہیے۔