پاکستان میں ای سی او کا وزارتی اجلاس
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آج ای سی او اقتصادی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہورہا ہے۔ ای سی او وزرائے خارجہ کا یہ بائیسواں اجلاس ہے اور کل اس اقتصادی تعاون تنظیم کا تیرھواں سربراہی اجلاس ہوگا۔
آج کی نشست اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی سربراہی میں منعقد ہوئی اور انہوں نے ای سی او کے وزرا کونسل کی صدارت پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کو سونپ دی۔ محمد جواد ظریف نے ای سی او کے وزرا کونسل کے اجلاس کے آغاز میں امید کا اظہار کیا کہ پاکستان بھی ای سی او تنظیم کو توسیع دینے کےلئے اہم اقدامات کرے گا۔ ای سی او اقتصادی تعاون تنظیم میں ایران، ترکی، پاکستان، افغانستان، ترکمنستان، قرقیزستان، ازبکستان، قزاقستان، تاجیکستان اور جمہوریہ آذربائیجان شامل ہیں۔
ای سی او اقتصادی تنظیم کا علاقہ دنیا کا ایک غنی ترین علاقہ ہے جس میں مختلف شعبوں بالخصوص انرجی کے شعبے میں تعاون کی توانائیاں اور مواقع پائے جاتے ہیں۔ ای سی او اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک تجارت، نقل و حمل اور انرجی کے شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔ اس تنظیم کے ملکوں کی مجموعی پوزیشن کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس تنظیم میں تعاون کے لئے نہایت اچھا میکینیزم پایاجاتا ہے ۔ایران نے ای سی او تعاون تنظیم پر اپنی صدارت کے دوران اس میکینزم سے تمام ارکان کے فائدہ میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ایران اس تنظیم کے بانی ارکان میں شمار ہوتا ہے اسی وجہ سے ایران نے تمام ارکان سے تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط کررکھے ہیں۔ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جس اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا وہ یہ ہے کہ ای سی او تنظیم کو ایک جامع میکینیزم کی ضرورت ہے تاکہ تمام ارکان اس تنظیم کے لئے آئندہ کے پروگراموں پر عمل کرسکیں۔ جو چیز مسلم ہے وہ یہ ہےکہ ای سی او تنظیم ایک علاقائی اقتصادی تعاون تنظیم کی حیثیت سے ترقی کے لئے ضروری بنیادی تنصیبات کے اہم معیارات کی حامل ہے۔
آبادی اور بازار کے معیار کے لحاظ سے بھی ای سی او کے علاقے میں تقریبا چار سو ملین افراد بستے ہیں۔امکانی طورپر یہ ایک بڑا بازار شمار ہوتا ہے۔ سب سے اہم معیار یہ ہے کہ اس تنظیم کے ممالک مشترکہ طور پر سرمایہ کاری کرسکتے ہیں لیکن ای سی او میں یہی شعبہ سب سے کمزور شعبہ شمار ہوتا ہے۔ مشترکہ سرمایہ کاری کے ھدف کے سامنے بہت سی رکاوٹیں ہیں جن میں سب سے اہم ای سی او اور اس کے اطراف کے علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی اور نیز بعض رکن ملکوں کے داخلی مسائل ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان اور افغانستان کے مابین دیرینہ کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ترکی بھی ای سی او کا بانی رکن شمار ہوتا ہے اور وہ اقتصادی لحاظ سے مناسب پوزیشن میں ہونے کے باوجود داخلی طور پر نیز خارجہ پالیسی میں مسائل کا شکار ہے۔ یورپی یونین میں شامل ہونے کی ترکی کی دیرینہ آرزو کا گرچہ ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے لیکن اس سے ای سی او میں اس کا کردار کمزور ہو گیا ہے۔
ان چیلنجوں سے بظاہر ای سی او کی امکانی گنجائشوں میں کوئی کمی نہیں آتی ہے لیکن ان سے استفادہ کرنا بہت دشوار بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ اس وقت ای سی او علاقے میں اقتصادی ترقی ایک ضروری امر ہے البتہ اس ہدف سے یہ تنظیم کافی فاصلہ رکھتی ہے۔ ای سی او کا علاقائی کردار صرف اس کی توانائیوں کو بروئے کار لانے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے اور اس کے لئے تمام رکن ملکوں میں امن و استحکام اور اتحاد کا ہونا ضروری ہے۔