دہشتگردوں کے خلاف سخت اقدامات کریں: افغان صدر
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں عوام اور سکیورٹی فورسز کے خلاف بر سرپیکار گروہوں کا مقصد افغانستان کی نابودی ہے۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں عوام اور سکیورٹی فورسز کے خلاف بر سرپیکار گروہوں کا مقصد افغانستان کی نابودی ہے۔اشرف غنی سکیورٹی فورسز کے قومی دن کی مناسبت سے کابل میں خطاب کررہے تھے، انہوں نے ایک بار پھرسکیورٹی فورسز سے کہا کہ دہشتگردوں کو نابود یا انہیں تسلیم ہونے پر مجبور کریں۔افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے حالیہ حملوں میں صوبہ قندوز میں طالبان کے خود ساختہ گورنر ہلاک ہوگئے تھے۔ قندوز کے طالبانی گورنر کو ہلاک کرنا افغاں سکیورٹی فورسز کے لئے بڑی کامیابی شمار ہوتی ہے۔ طالبان کے اس رہنما کی ہلاکت کے بعد دہشتگردوں کو نابود کرنے کےلئے حکومت اور سکوریٹی فورسز کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ اس کے باوجود افغانستان میں دہشتگردوں کو نابود کرنے کے لئے باہمی تعاون اور چند جہت سے وسیع پیمانے پر آپریشن کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ جب تک دہشتگردوں اور تشدد پسند گروہوں کے مالی ذرائع ختم نہیں ہوجاتے خواہ وہ داخلی ہوں یا بیرونی ان کے خلاف فوجی آپریشن ان کی مکمل نابودی پر منتج نہیں ہوسکتا۔
افغانستان میں خشخاش کی کاشت اور منشیات کی پیداوار اور اس کی اسمگلنگ اس ملک میں دہشتگردوں کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ دہشتگرد گروہ معدنیات نکال کربھی فروخت کرتے ہیں اور اس سے بھی اچھی خاصی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔واضح رہے افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے قبضے کے دوران نہ صرف منشیات کی پیداوار سے مقابلہ کرنے کے لئے کوئی خاص قدم اٹھایا نہیں گیا تھا بلکہ افغانستان میں دنیا میں سب سے زیادہ منشیات کی پیداوار ہوتی رہی اور اس وقت بھی افغانستان دنیا میں سب سے زیادہ منشیات پیدا کرنے والا ملک شمار ہوتا ہے۔معدنیات کے میدان میں بھی دہشتگرد فائدہ اٹھا رہے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ افغانستان کی ایک اہم ترین کان یعنی بدخشان کی سونے کی کان طالبان کے قبضے میں ہے۔بتایا جاتا ہے کہ طالبان کو اس کان سے ہر ماہ سات لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ افغانستان میں ماحولیات او قدرتی ذخائر پر نگرانی کے ادارے نے بھی اعلان کیا ہے کہ گذشتہ سال طالبان کو تاوان وصول کرنے اور کانوں سے سب سے زیادہ آمدنی ہوئی تھی۔طالبان بیرونی ملکوں کے ساتھ مل کر بھی کانوں میں کھدائی کرتے ہیں جن میں ایک موسی قلعہ ہے جہان طالبان اور برطانیہ میں معاہدہ ہوا ہے۔ اس علاقے میں بتایاجاتا ہے یورینیم کی کان ہے۔ واضح رہے سنہ دوہزار ایک میں جرمنی میں بن کانفرنس میں برطانیہ کو افغانستان میں خشخاش کی کاشت اور طالبان سے مقابلے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
داخلی ذرائع کے علاوہ مغربی اور عرب ممالک تکفیری دہشتگرد گروہ داعش اور دیگر انتہا پسند گروہوں کو پیسہ دیتے ہیں۔ یہ پیسہ خاص طور سے صوبہ زابل میں دیا جاتا ہے۔یہ بات سید اسحاق گیلانی تحریک قومی یکجہتی پارٹی کے سربراہ نے کہی ہے ان کا کہنا ہے کہ طالبان کو بھی ان حلقوں سے پیسہ ملتا ہے اور یہ گروہ پیسہ دینے والے ملکوں سے تعاون کرتا ہے۔شام اور عراق میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی شکست کے بعد تکفیری دہشتگردوں کے اھل خانہ جن کا تعلق مرکزی ایشیا سے ہے شمالی افغانستان سے اور بقول گیلانی کے شالنگ شاہراہ سے زابل پہنچتے ہیں۔ عرب ممالک ان کو ٹھہرانے کے لئے بے پناہ پیسہ خرچ کر رہے ہیں اس طرح افغانستان داعش دہشتگردوں کے بڑے اڈے میں تبدیل ہورہا ہے جہاں سے دہشتگردوں کو مرکزی ایشیا اور قفقاز بھیجا جاتا ہے۔ ان امور کے پیش نظر افغانستان میں دہشتگردوں کی نابودی کے لئے اگرچہ اس ملک کی فوج ضروری ارادے اور آمادگی کی حامل ہے لیکن اس کام کے لئے علاقائی اور عالمی سطح پر جامع تعاون کی ضرورت ہے تا کہ دہشتگردی کو جڑ سے ختم کیا جاسکےیعنی دہشتگردی کے داخلی اور خارجی مالی ذرائع ختم کئے جاسکیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو علاقے میں امن و سکون قائم ہوسکتا ہے۔