۔فلسطینیوں کی گرفتاری غاصب صیہونی حکومت کے ليے روز مرہ کا معمول
مختلف عالمی اداروں کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت دنیا کی واحد حکومت ہے جو بین الاقوامی قوانیں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں کو وسیع پیمانے پر گرفتار کرکےان پر مقدمات چلا کر ان کو جیلوں میں بند کرتی ہے
بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کے حالیہ اقدامات کے انتہائی خطرناک اور ہولناک پہلو سامنے آرہے ہیں۔اسرائیل کے جرائم پر عالمی نفرتوں کی لہر میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور عالمی تنظیمیں بھی اس غاصب حکومت کے خلاف اپنا موقف اپنانے پر مجبور ہوگئی ہیں۔
بچوں کے دفاع کی عالمی تنظیم نے اپنی جدید تریں رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ یکم اکتوبر 2015 سے شروع ہونے والے قدس انتقاضہ سے لیکر ابتک چالیس فلسطینی بچے اور نوجوان شہید ہوچکے ہیں۔
فلسطینی شہدا سے متعلق فلسطینی ڈاکٹروں کی آزادانہ تحقیقات میں اعلان کیا گیا ہے کہ بعض فلسطینی شہدا کے جسم پر موجود زخموں کےنشانوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو پیچھے سے پیٹھ میں گولی ماری گئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فلسطینی صیہونی فوجیوں کے لئے خطرہ نہیں تھے ۔ اکتوبر 2015 سے شروع ہونے والی قدس انتقاضہ تحریک سے لیکر اب تک صیہونی فوجیوں نے 190 فلسطینی شہریوں کو شہید اور ایک ہزار سے زیادہ کو زخمی کیا ہے۔ بچوں کے حقوق بالخصوص فلسطینی بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے سرگرم ادارے ایک ایسی حالت میں تشویش کا اظہار کررہے ہیں کہ او آئی سی نے حال ہی میں فلسطینی علاقوں بالخصوص بیت المقدس میں جاری غاصب صیہونی حکومت کے جرائم اور انکی تباہ کن اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کے تناظر میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے ۔ موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کے پہلوؤں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔حالیہ دنوں میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کی شہادتوں نیز زخمی اور گرفتار ہونے والے بچوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ گذشتہ عشرے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں 1500 فلسطینی شہید اور آٹھ ہزار کے لگ بھگ فلسطینی مختلف اوقات میں صیہونی جیلوں اور تھانوں میں قید رہے ہیں ۔فلسطینیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے صیہونی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت آٹھ لاکھ سے زائد فلسطینی بچے غربت و افلاس اور ابتدائی ضروریات سے محروم ہیں۔ اسی طرح ہزاروں فلسطینی بچے اپنی اور خاندان کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
مختلف عالمی اداروں کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت دنیا کی واحد حکومت ہے جو بین الاقوامی قوانیں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں کو وسیع پیمانے پر گرفتار کرکےان پر مقدمات چلا کر ان کو جیلوں میں بند کرتی ہے اور مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بناتی ہے ۔فلسطینیوں کی گرفتاری غاصب صیہونی حکومت کے ليے ایک روز مرہ کا معمول ہے اور کوئی دن نہیں گزرتا جب اس غاصب حکومت نے کسی فلسطینی شہری یا فلسطینی بچے کو گرفتار نہ کیا ہو۔غاصب صیہونی وزیراعظم کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کا جبر و تشدد بدستور جاری ہے اور یہ موضوع اس بات کا باعث بنا ہے کہ مختلف فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کو خاک و خون میں غلطاں کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔یہ سب کچھ ایسی حالت میں جاری ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے عالمی برادری غاصب اسرائیل سے سخت نالاں اور اس کی ان حرکتوں سے تنگ آچکی ہے ۔دنیا کے مختلف حصوں سے غاصب اسرائیل کے جرائم کے خلاف تحقیقات اور انکے ظالم حکام کو عدالت کے کٹہرے میں لانے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔عالمی برادری کی طرف سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس غاصب اور منفور حکومت کے غیر قانونی اور غیرانسانی اقدامات کے خلاف عالمی سطح پر سنجیدہ اقدامات انجام ديے جائیں۔۔رائے عامہ اور فلسطینی قوم، عالمی برادری من جملہ بین الاقوامی، عالمی اور علاقائی اداروں سے توقع رکھتی ہے کہ اس غاصب حکومت کے خلاف موثر قدم اٹھائیں تاکہ دنیا فلسطینیوں کے خلاف جبر و تشدد اپنانے والی اس غاصب حکومت کے خلاف عالمی عزم و ارادے کا مشاہدہ کرسکے۔