اقوام متحدہ کی طرف سے صیہونی حکومت پر کڑی تنقید
اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی جانب سے اب تک جو رپورٹیں سامنے آئی ہیں ان میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ غاصب صیہونی حکومت فلسطینیوں کے خلاف جرائم کی مرتکب ہورہی ہے ۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر مکارم ویبیسونو نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کواپنی فائنل رپورٹ پیش کردی ہے ۔ اس رپورٹ میں انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کی طرف سے عدم تعاون پر کڑی تنقید کی ہے ۔
چودہ جون دوہزار چودہ کو اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کا عہدہ سنبھالنے والے مکارم ویبیسونو نے غاصب اسرائیل کی جانب سے متعلقہ علاقوں یعنی جو علاقے اسرائیل کی نگرانی میں آتے ہیں ان میں جانے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا تاہم وہ اکتیس مارچ تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے ، اقوام متحدہ کے اس خصوصی رپورٹرکا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے عدم تعاون ، بدقسمتی سے اس بات کی علامت ہے کہ صیہونیوں کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی جاری رہے گی ۔
کہا جاتا ہے کہ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی جانب سے اب تک جو رپورٹیں سامنے آئی ہیں ان میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ غاصب صیہونی حکومت مسلسل فلسطینیوں کے خلاف جرائم کی مرتکب ہورہی ہے ۔ دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے صیہونی جرائم کے بارے میں تحقیق کرنے والے نمائندوں کے راستے میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور اقوام متحدہ کے مبصرین کے مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں جانے کی بھی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔
غاصب صیہونی حکومت کے مظلوم فلسطینیوں کے خلاف جرائم اس قدر واضح اور نمایاں ہیں کہ جو کمیٹی ، ادارہ یا فرد ان کا جائزہ لیتا ہے وہ ان مظالم اور جرائم کی گہرائی اور شدت کو باآسانی سمجھ لیتا ہے ۔ اس طرح کے اداروں نے اپنی تحقیقات اور معلومات کی روشنی میں ہمیشہ صیہونی مظالم کی مذمت اور ان سے نفرت کا اظہار کیا ہے ۔ ایسی صورتحال میں عالمی رائے عامہ کی اقوام متحدہ سےیہ توقع ہے کہ وہ صرف صیہونی جرائم کے بارے میں رپورٹوں کو تیار اور اس کی نشر واشاعت پر اکتفاء نہ کرے بلکہ غاصب صیہونی حکومت سے ان جرائم کا جواب مانگے اور اس کو عدالت کے کٹہرے میں لانے کے لئے موثر اقدامات انجام دے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے صیہونی جرائم کے حوالے سے پس و پیش نے اس ظالم حکومت کو مزید جری کردیا ہے اور عالمی اداروں کا یہ رویہ اسرائیلی جرائم کے تسلسل کا باعث بنا ہے ۔ اقوام متحدہ کی اس کارکردگی پر اقوام متحدہ کے اپنے حکام بھی تنقید کرتے رہتے ہیں جس کی ایک مثال فلسطین سے متعلق انسانی حقوق کے خصوصی رپورٹر مکارم ویبیسونو کا استعفی ہے ۔اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے حکام اور ماہرین غاصب اسرائیل کے گستاخانہ رویئے اور اقوام متحدہ کے کمزور موقف سے کس قدر نالاں ہیں۔
غاضب صیہونی حکومت کے کردارو عمل سے واضح ہے کہ وہ جرائم کی انجام دہی میں کسی حد وحدود کی قائل نہیں ہے اور وہ عالمی اداروں کے کمزور موقف اور مغربی ممالک کی مسلسل حمایت کی وجہ سے بڑے آرام و سکون کے ساتھ مظلوم فلسطینوں پر اپنے مظآلم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔
دوسری جانب غاصب صیہونی حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مختلف عالمی اداروں کے کنونشنوں کی مسلسل خلاف ورزی کرکے عالمی برادری کی ناک میں دم کررکھا ہے۔غاصب صیہونی حکومت نے ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی قاعدے قانون کو نہیں مانتی اور اس کے اقدامات عالمی اور علاقائی امن و سلامتی کے قیام کے راستے میں بڑي رکاوٹ ہیں۔
ایسی صورتحال میں اقوام متحدہ کی طرف سے صیہونی جرائم پر صرف رپورٹیں مرتب کرنا کافی نہیں ہے کیونکہ صرف رپورٹیں تیارکرنے کا نتیجہ اس کے علاوہ کچھ برآمد نہیں ہوگا کہ اسرائیل علاقائی اور عالمی سطح پر اپنے تباہ کن اقدامات اور جرائم میں مزيد شدت لائے۔