شام کے بارے میں ترکی کے موقف پر ایک نظر
Oct ۰۸, ۲۰۱۵ ۱۲:۳۳ Asia/Tehran
-
ترکی کی عبوری حکومت کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو
ترکی کی عبوری حکومت کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے ایک بیان میں شام کی عبوری حکومت میں صدر بشار اسد کے حامیوں کی موجودگی کی مخالفت کی ہے۔
احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ ہمیں انتہائی خطرناک صورت حال کا سامنا ہے اور یہ امر شام کے داخلی امور میں غیرملکی مداخلت سمجھا جاتا ہے لیکن ایک ممکنہ عبوری حکومت میں بشار اسد اور ان کے حامیوں کی موجودگی بھی عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔داؤد اوغلو کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب بہت سے ابہامات موجود ہیں اور سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک داؤد اوغلو کا یہ بیان کہ بشار اسد کے حامیوں کی ایک ممکنہ عبوری حکومت میں موجودگی قابل قبول نہیں ہے، کیا شام کے داخلی امور میں مداخلت شمار نہیں ہوتا ہے؟ یا یہ کہ کیا اس قسم کا بیان شام میں بشار اسد کے حامیوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف نہیں ہے؟
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ایک طرح سے جمہوری اصولوں اور معیارات کے منافی سمجھا جاتا ہے وہ بھی ترک حکام کی جانب سے کہ جو علاقے میں خود کو جمہوریت کا سرخیل قرار دیتے ہیں؟ اور شاید اس سے اہم سوال یہ ہو کہ شام کے سیاسی میدان سے بشار اسد کو باہر نکالنے کے لیے ترکی کی کوشش، کیا شام میں داعش سمیت دہشت گرد گروہوں کے زیادہ مضبوط ہونے کا باعث نہیں بنے گی؟ وہ بھی ایسے حالات میں کہ جب علاقے کے امن و استحکام پر شام کی سیاسی تبدیلیوں کا اثر کچھ اتنا ہے کہ جو علاقے کے ممالک کی جانب سے زیادہ تدبر، ہوشیاری اور منطقی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔
درحقیقت بہت سے سیاسی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ شام میں طاقت و اقتدار کے میدان میں اس ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کی موجودگی اور ان کے درمیان زیادہ تعاون پیدا کرنے کے لیے کی جانے والی کوشش، شام میں موجودہ سیاسی بحران پر قابو پانے کے لیے ایک موثر راہ حل ہو سکتی ہے۔
ان حلقوں کا یہ خیال ہے کہ شام کے اندر مخالفین کو خوش کرنے کے لیے بشار اسد کو اقتدار سے بےدخل کرنے سے ان کے حامی ناراض اور برہم ہو سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ شام میں موجودہ بحران کے جاری رہنے کے سوا اور کچھ نہیں نکلے گا۔
درحقیقت انہی امور اور باتوں سے بےتوجہی شام میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ البتہ ترکی روس کے جنگی طیاروں کی جانب سے کہ جنھوں نے شام میں داعش کے ٹھکانوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے، اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا دعوی کر کے، یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ علاقے کے بعض ممالک نے علاقے کی سطح پر اس بحران کو پیدا کیا ہے۔
بہرحال شامی عوام کے لیے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ ان کے ملک میں امن کا قیام ہے اور جو چیز ان کی حساسیت اور تشویش کا باعث بنتی ہے وہ اس اہم مسئلے کے بارے میں ترکی سمیت علاقے کے بعض ممالک کا موقف اور کارکردگی ہے۔
ٹیگس