بحران شام کے سلسلے میں چین کا موقف
شام کے موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے چین نے اپنے دائمی موقف کی بنیاد پر ہمیشہ سیاسی راہ حل پر تاکید کی ہے-
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ھواچون اینگ نے بیجنگ کی اسی پالیسی کوجاری رکھتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے شام کے بحران سے نکلنے کے لئے ہمیشہ سیاسی راہ حل کی حمایت کی ہے-
بیجینگ کے حکام کا خیال ہے کہ علاقے کے بحرانوں کے حل کے لئے گفتگو اور صلاح و مشورہ، سب سے کم خرچ راستہ اور شام میں بدامنی کے خاتمے کے لئے سب سے مناسب آپشن ہے- چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بیجنگ، شام کے سلسلے میں جنیوا کانفرنس کے انعقاد کی بھی کوشش کر رہا ہے- چین کی جانب سے یہ پالیسی اختیار کئے جانے کی بنیاد ، بلاشبہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اعلان شدہ مواقف اور چین کے سابق رہنما دنگ شیائو پینگ کے نظریات ہیں-
تقریبا چالیس سال قبل دنگ شیائو پینگ نے ایک خطاب میں کہا تھا کہ چین کو طاقتور ہونے کے لئے پچاس سال تک بین الاقوامی مصالحت کی ضرورت ہے- کمیونسٹ پارٹی کی کارکردگی پر مختصر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ بیجنگ دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے مسائل کے حل کا راستہ مذاکرات کو سمجھتا ہے بلکہ ان ممالک کے سلسلے میں بھی یہی موقف اختیار کرتا ہے جنھیں سیاسی ، ارضی اور سیکورٹی مسائل کا سامنا ہے-
دمشق کے خلاف مغربی ممالک کی صف آرائی اور شدید یلغار کے پیش نظر ایسا نظر آتا ہے کہ شام کے بحران کی نوعیت علاقے بالخصوص مشرق وسطی کے دوسرے بحرانوں سے کافی مختلف ہے- شام کے اقتدار اعلی کے دفاع کے لئے روس نے ایک بڑا قدم اٹھایا اور شام میں داعش دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کرکے علاقے میں نئی صورت حال پیدا کردی ہے-
یہ ایسے عالم میں ہے کہ امریکہ اور بعض یورپی ممالک روس کی فوجی کارروائیوں کے خلاف ہیں اور روس کی فوجی مداخلت کو بحران شام کے حل کے لئے سیاسی راہ حل میں روکاوٹ سمجھتے ہیں- درایں اثنا چین ، شام میں داعش کے خلاف روس کی فوجی کارروائیوں کے پیش نظر ، ماسکو کے ساتھ بیجینگ کی مزید یکجہتی کی زمین ہموار ہونے کا نیا موقع سمجھتا ہے اور ان حالات میں چین اور روس کے اسٹریٹیجک پہلو مزید واضح ہو جائیں گے-
تاریخ اور چین و روس کی قومیں، نازی جرمنی اور جاپانیوں کی عسکریت پسندی ابھی بھولی نہیں ہیں- درحقیقت پورے مشرقی ایشیا میں مشترکہ دشمن کی شکست، روس اور چین کی مسلسل جد و جہد اور اور بہادری کا نتیجہ ہے- لیکن گذشتہ چار برسوں سے اب تک شام کے حالات، مغربی بازی گروں کے مقابلے میں چین اور روس کی متحدہ اسٹریٹیجی کی عکاسی کرتے ہیں- بیجینگ اور ماسکو نے سلامتی کونسل میں شام مخالف قرار داد کو ایک بار ویٹو کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ شام کے سلسلے میں لیبیا کی اسٹریٹیجی غلطی کو دہرانا نہیں چاہتے- حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی قیادت میں مغربی توسیع پسندی کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے لئے روس نے، چین کے ساتھ مشترکہ اور پوری طرح قریبی تعاون شروع کیا ہے-
یوکرین کا مسئلہ بھی اس بات کا باعث بنا کہ چینی قیادت ، روسی سیاستدانوں کے ساتھ مل کر یورے ایشیا کے علاقے میں اپنے مفادات کادفاع کرے اور اب، چین، گفتگو کی پالیسی اختیار کر کے اس دفاع میں روس کے ساتھ ساتھ چلنے کی کوشش کر رہا ہے جسے شام کے قومی اقتدار اعلی کے دفاع کے لئے عوامی استقامت کہا جا رہا ہے -
اس کے باوجود اس نکتے پر توجہ ضروری ہے کہ چین، گذشتہ ایک عشرے سے دفاعی خول سے باہر نکل آیا ہے اور روس کے ساتھ سب سے بڑی فوجی مشقیں انجام دینا بھی اسی نظریے کی تصدیق ہے-
روس کے ساتھ حالیہ مشترکہ فوجی مشقوں میں ایڈمیرل جنرل وانگ ہای نے کہا کہ چین کو ہرطرح کے فوجی خطرے کے مقابلے کے لئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ مشرق وسطی، وسطی ایشیا اور قفقاز کے علاقے میں بحری سیکورٹی ، امن کے لئے ایک اسلحہ ہے اور شام کے لئے امن بھی اس عالمی اصول سے مستثنی نہیں ہے-