روس اور افغانستان کا باہمی تعاون
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i201276-روس_اور_افغانستان_کا_باہمی_تعاون
دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت افغانستان کے ساتھ تعاون روس کے لئے کئی جہات سے اہمیت کا حامل اور قابل توجہ ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۳۰, ۲۰۱۵ ۱۴:۵۶ Asia/Tehran
  • روس اور افغانستان کا باہمی تعاون

دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت افغانستان کے ساتھ تعاون روس کے لئے کئی جہات سے اہمیت کا حامل اور قابل توجہ ہے۔

روس اور افغانستان نے دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کی غرض سے تعاون میں توسیع لانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے کابل میں روس کے سفیر الیگزینڈر مان تی تیسکی سے ملاقات میں کہا ہےکہ دونوں ملکوں اور علاقائی ممالک کو دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے تعاون میں توسیع لانی چاہیے۔ حنیف اتمر نے کہا کہ افغانستان کو دہشتگردی کی بیخ کنی کے لئے ہمسایہ اور علاقائی ملکوں بالخصوص روس کی مدد اور پشت پناہی کی ضرورت ہے۔ اس ملاقات میں روس کے سفیر نے بھی کہا کہ ماسکو دہشتگردی سے مقابلہ کرنے میں کابل کی مدد کرنے کے وعدے پر کاربند ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس دہشتگردی کامخالف ہے اور دہشتگردوں کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دے گا کہ علاقے میں سرگرم ہوسکیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شام میں داعش کے ٹھکانوں پر روسی جنگی طیاروں کے کامیاب حملوں کےبعد ماسکو اب اس کوشش میں ہے کہ افغانستان کی قومی فوج کی مدد کرکے افغانستان میں بھی اس دہشتگرد گروہ کو نابود کردے۔ داعش کےمقابلے میں مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کے جھوٹے وعدوں کی وجہ سے اس دہشتگرد گروہ نے چوری کا تیل فروخت کرکے دنیا کے مختلف علاقوں میں خود کو مستحکم بنالیا۔ یاد رہے ماہرین نے داعش کو عالمی خطرہ قرار دیا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر روس نے علاقائی ملکوں کی مدد کرتے ہوئے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک اور شدید حملے شروع کئے۔ ان حملوں کے کامیاب ہونے کی بناپر عالمی برادری نے بھی ان کی حمایت کی۔

پہلے یہ کہ افغانستان میں دہشتگردی سے مقابلے میں امریکہ اور نیٹو کی بے توجہی اور غفلت سبب بنی ہےکہ دہشتگرد شمالی افغانستان کے لئے بھی خطرہ بن جائیں جس سے روس چین اور مرکزی ایشیا نیز قفقاز کے ممالک تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ کہیں دہشتگرد ان علاقوں میں بھی سرگرم عمل نہ ہوجائیں۔دوسرے یہ کہ افغانستان کے عوام ستر کی دہائی میں روس کے ہاتھوں افغانستان پر حملے اور قبضے کی بنا پر بری طرح سے نفرت کرتے ہیں لھذا ایسا لگتا ہکہ ماسکو کی حکومت افغانستان کی پولیس اور فوج کی مدد کرکے جسکی اسے اس وقت بے حد ضرورت ہے افغانسان میں کسی حد تک اپنی ساکھ کو سدھارنا چاہتا ہے۔ افغانستان کی سکیورٹی مسائل سے امریکہ کی غفلت اور سارے افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہونے سے افغان حکام بھی روس سے فوجی اور سیکورٹی تعاون کرنے پر زیادہ مائل دکھائی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے حالیہ مہینوں میں افغان حکام سے روسی سفارتکاروں کی ملاقاتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں ایسا لگتا ہے کہ روس نے افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے میں پاکستان اور ہندوستان کے تحفظات کو بھی مد نظر رکھا ہے۔

پاکستان افغانستان کو اپنا بیک یارڈ سمجھتا ہے اور افغانستان کے امور میں کسی بھی ملک کی مشارکت کو تسلیم نہیں کرتا۔ ہندوستان نے بھی سنہ دوہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کی تعمیر نو کے لئے اپنی مدد میں اضافہ کیا ہے اور اس بات سے اس کے ایٹمی رقیب پاکستان کو تکلیف پہنچ رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کی نظر میں چونکہ بعض مغربی اور عرب ممالک علاقے میں دہشتگردی کو تقویت پہنچارہے ہیں بالخصوص افغانستان کو تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کا اڈا بنانا چاہتا ہیں لھذا علاقے میں امن و سلامتی کی تقویت کے لئے علاقائی ملکوں کا باہمی تعاون ناگزیر لگتا ہے۔ اس امر کی یوں بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ امریکہ اور نیٹو علاقے میں امن قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ امن و سلامتی کو اپنے مفادات کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔