مقبوضہ جولان پر حکمرانی کے لئے اسرائیل کی کوشش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i221812-مقبوضہ_جولان_پر_حکمرانی_کے_لئے_اسرائیل_کی_کوشش
شام کے مقبوضہ علاقے جولان پر صیہونی حکومت کے جاری تسلط پر عالمی برادری کی شدید مخالفت کے باوجود غاصب صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نے دعوی کیا ہے کہ جولان کی پہاڑیاں اسرائیل کا اٹوٹ حصہ بنی رہیں گی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۸, ۲۰۱۶ ۱۰:۲۴ Asia/Tehran
  • مقبوضہ جولان پر حکمرانی کے لئے اسرائیل کی کوشش

شام کے مقبوضہ علاقے جولان پر صیہونی حکومت کے جاری تسلط پر عالمی برادری کی شدید مخالفت کے باوجود غاصب صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نے دعوی کیا ہے کہ جولان کی پہاڑیاں اسرائیل کا اٹوٹ حصہ بنی رہیں گی۔

غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے اتوار کے روز جولان کے علاقے میں پہلی بار تشکیل پانے والی اپنی کابینہ کے اجلاس میں اس علاقے پر اسرائیل کی مالکیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس علاقے سے پسپائی کے لئے عالمی دباؤ کے مقابلے میں نہیں جھکیں گے۔ انھوں نے شام کے مقبوضہ علاقے جولان کے بارے میں اپنے اشتعال انگیز بیان میں عالمی برادری سے اس علاقے پر اسرائیل کی مالکیت تسلیم کئے جانے کی اپیل بھی کی۔

اسرائیل نے سن انّیس سو سڑسٹھ میں عربوں کے ساتھ ہونے والی جنگ میں شام کے علاقے جولان کی بعض پہاڑیوں پر غاصبانہ قبضہ کر لیا اور انّیس سو اکیاسی میں اس نے اس علاقے کو تمام مقبوضہ علاقوں میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ایک ایسا اشتعال انگیز اقدام کہ جس کی عالمی برادری نے نہ صرف مخالفت کی بلکہ جولان پر اس کی مالکیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ جولان پر مالکیت کے بارے میں غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے ایسی حالت میں دعوی کیا ہے کہ حالیہ دنوں کے دوران اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے بارہا اس علاقے کو شام کو واپس کئے جانے کے بارے میں صیہونی حکام کی تشویش سے باخبر کیا ہے۔

صیہونی حکومت کی توسیع پسندی اور غاصبانہ قبضہ جاری رکھے جانے کی صیہونی حکام کی کوششوں کے ساتھ ساتھ شام کی وزارت خارجہ نے بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام اپنے مراسلوں میں عرب علاقوں پر صیہونی حکومت کی نئی مہم جوئی پر سخت انتباہ دیتے ہوئے ان سے فوری طور پر مداخلت کرنے اور اسرائیل کی توسیع پسندی روکنے کا مطالبہ کیا۔

صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی حکام کو اس بات کا خدشہ ہے کہ جنیوا امن مذاکرات میں شام کے مستقبل کے بارے میں سمجھوتہ طے پانے کی صورت میں اسرائیل پر جولان کی پہاڑیوں سے پیچھے ہٹنے کا عالمی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صیہونی حکام نے حالیہ ہفتوں کے دوران علاقے میں اپنی مہم جوئی اور جولان سمیت مقبوضہ علاقوں میں فوجی نقل و حرکت نیز مقبوضہ جولان کے علاقے میں فوجی موجودگی کو مستحکم بناتے ہوئے علاقے میں متعدد فوجی مشقوں کا اہتمام کیا۔

درحقیقت موجودہ حساس موقع پر شام کے خلاف صیہونی حکومت کی توسیع پسندی اور شرانگیزی میں اضافہ دمشق کے خلاف اس کے جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے جس سے اس حقیقت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت اور اس کی حمایت کرنے والے مختلف ممالک خاص طور سے امریکہ، بحران شام کے پس پردہ مقبوضہ جولان کے علاقے کے خلاف حالیہ سازش میں ملوث ہے۔

یہ گھناؤنی سازش ایسی صورت میں رچائی جا رہی ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک غاصب حکومت کی حیثیت سے صیہونی حکومت کو مقبوضہ علاقوں میں آبادی کا تناسب اور جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل کرنے سے متعلق کسی بھی قسم کے اقدام سے منع کیا گیا ہے مگر غاصب صیہونی حکومت، جو کسی بھی قرارداد اور بین الاقوامی قوانین و اصول پر نہ صرف عمل نہیں کرتی بلکہ ان کی ہرگز کوئی پرواہ بھی نہیں کرتی، مختلف ہتھکنڈوں سے اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے اور مقبوضہ علاقوں منجملہ جولان کے علاقے میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور نئی سرحدوں کا تعّین کر کے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔