ڈیورنڈ لائن پر خاردار تاروں کی تنصیب
افغان حکام کے بار بار کے احتجاج کے باوجود پاکستانی حکام ، افغانستان سے مشترک اپنی سرحدوں میں ڈیورنڈ لائن سے آگے خاردار تار لگا رہے ہیں-
پاکستان کا یہ اقدام ایسی حالت میں انجام پا رہا ہے کہ افغانستان ، ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ یہ فرضی لائن پاکستان بننے سے پہلے ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر برطانوی سامراج کی برصغیر پر سو سالہ حکومت کے دور میں کھینچی گئی ہے-
فرضی ڈیورنڈلائن اٹھارہ سو ترانوے میں افغانستان اور ہندوستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت اس وقت قائم کی گئی تھی جب ہندوستان برطانیہ کی کالونی تھا اور انیس سو سینتالیس میں جس وقت پاکستان ، ہندوستان سے الگ ہوا تو اس نے اس لائن کو مستقل اور دائمی سرحد سمجھا اور اعلان کیا کہ وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا-
یہ فرضی سرحد پاکستان اور افغانستان کے درمیان بنیادی اختلافات پیدا ہونے کا ایک اہم عامل ہے اور اسلام آباد نے اب تک کابل سے کئی بار یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سرحد کو قانونی طور پر تسلیم کرے لیکن اس کی یہ درخواست مسترد ہوگئی ہے-
سیاسی ماہرین کی نگاہ میں افغانستان میں قیام امن کے عمل میں ایک اہم موضوع، فرضی ڈیورنڈ لائن ہے- کابل حکومت کی نگاہ میں ، اسلام آباد حکومت یہ کوشش کر رہی ہے کہ طالبان کو افغانستان کے امن کے عمل میں شامل ہونے پر راغب کرنے کے عوض اس ملک کو ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے عنوان سے تسلیم کرنے کے لئے دباؤ ڈالے- اس بنا پر دہشت گردوں اور شرپسندوں کی رفت و آمد روکنے کے بہانے اس لائن کے ساتھ پاکستان کی جانب سے خاردار تار کھینچنے سے نہ صرف اس کی تصدیق و توثیق میں کمی نہیں آئے گی بلکہ یہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان اختلافات میں شدت کا باعث ہوگی-
فرضی ڈیورنڈ لائن برطانوی سامراج کی ویسی ہی ایک میراث ہے جو اس نے اپنے تمام مقبوضہ علاقوں اور کالونیوں میں متنازعہ اور تفرقہ انگیز مقامات کے طور پر چھوڑ رکھی ہیں اور جن کے باعث پڑوسی ممالک، برسوں کے بعد بھی ، اختلافات اور کشیدگی میں مبتلاء ہیں-
افغانستان کے سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ڈیورنڈ لائن سے متصل خاردار تار کی تنصیب امریکہ کے اشاروں پر ہو رہی ہے- اور ان کا خیال ہے کہ واشنگٹن ، افغانستان کے امور میں اسلام آباد کا مزید تعاون حاصل کرنے کے لئے اس لائن کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کر چکا ہے اور یہی موضوع پاکستان کو خاردار تار لگانے کی جرئت دے رہا ہے- افغانستان اور پاکستان کے امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے نے اس موضوع کی کھل کر تصدیق کی ہے - افغانستان کے سیاسی حلقوں نے امریکہ کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے سلسلے میں فیصلہ کرنے کی ذمہ داری افغان حکومت کی ہے اور کسی بھی فریق کو اس سلسلے میں مداخلت کا حق نہیں ہے- قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ پختون پارٹیاں بھی فرضی ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرنے کی مخالف ہیں -
سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی حالت میں جب افغانستان اور پاکستان کو قیام امن میں مدد اور تشدد پسند اور دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تعاون کے ضرورت ہے ، فرضی ڈیورنڈ لائن پر خاردار تار لگانے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں پہلے سے زیادہ کشیدگی پیدا ہو گی اور اس تعاون کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹ کھڑی ہوگی-