مجتھدین کی کونسل مجلس خبرگان رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے جمعرات کو پانچویں مجتھدین کی کونسل مجلس خبرگان کے نو منتخب سربراہ اور اراکین سے ملاقات میں اس ادارے کو آئین میں موجود اس کی ذمہ داریوں سے قطع نظر ایک عظیم اور موثر ادارہ قرار دیا -
رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ یہ عظیم اور اہم اداراہ ، تبادلہ خیال، ہماہنگی و یکجہتی کے قیام اور فعالیت کے لئے موثر ہے- رہبر انقلاب اسلامی نے مجتہدین کی کونسل مجلس خبرگان کے تشخص اور انقلابی راستے کو بیان کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ انقلاب کے مقاصد کے حصول اور نظام کی ترقی و بقا کا واحد راستہ ملک کا حقیقی اقتدار اور جہاد کبیر یعنی دشمن کی پیروی نہ کرنا ہے-
اسلامی جمہوری نظام ایسے اہم ارکان پر مشتمل ہے کہ جس کا ہر ایک رکن ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے اپنی اصلی ذمہ داریوں اور فرائض سے قطع نظر پورے نظام کی سرنوشت کے تئیں حساس ہے اور اس کے سلسلے میں ذمہ داری محسوس کرتا ہے-
مجتہدین کی کونسل مجلس خبرگان بھی اسی خصوصیت کی حامل ہے- مجلس خبرگان کے رکن علماء و افاضل کہ جو رائے عامہ اور عوام کے مختلف طبقات سے رابطے میں رہتے ہیں ضرورت پڑنے پر رہبر و قائد کے تعین و انتخاب کے ساتھ ہی نظام کے سلسلے میں بھی حساس ہیں اور نظام کے بڑے مسائل کا جائزہ اور ان پر نظر رکھتے ہیں-
اس میں کوئی شک نہیں کہ انقلاب کے مقاصد کی پیروی کے تحت اسلامی جمہوری نظام کو دشوار گذار اور پر خطر راہوں کا سامنا ہے- ان مسائل کے حل کے لئے تمام میدانوں میں نظام کی قدرت و طاقت اور سربلندی کے لئے تمام صاحبان فکر و نظر افراد کے ساتھ اور ہمدلی و ہمدردی کی ضرورت ہے- اسی بنا پر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ وہی اسلام عالمی منھ زوروں کے سامنے تسلط پسند محاذ کا مقابلہ کر سکتا ہے جو ایک نظام حکومت کی شکل میں قائم ہو اور سیاسی ، اقتصادی، ثقافتی ، صحافتی اور فوجی طاقت کے وسائل کا حامل ہو -اسلامی انقلاب کے اعلی و اہم اہداف و مقاصد ، اسلام کی حاکمیت ، آزادی و خودمختاری ، سماجی انصاف کے قیام ، عوام کی رفاہ و آسائش ، مغرب میں پائی جانے والی تباہ کن اخلاقی، اقتصادی، سماجی اور سیاسی برائیوں کا مقابلہ اور سامراجی محاذ کے تسلط کے مقابلے میں استقامت پر مشتمل ہیں اور ان مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نظام کے تمام ارکان اور اداروں میں استحکام کی ضرورت ہے- رہبر انقلاب اسلامی کے بقول ، مجلس خبرگان یا ماہرین کی کونسل ایسی پوزیشن میں ہے کہ اسے آئین میں موجود اس ادارے کے اصلی فرائض کے علاوہ اسلام و انقلاب کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تبدیلی و پیشرفت کو پوری سنجیدگی سے مد نظر رکھنا چاہئے-
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایٹمی مذاکرات اور مشترکہ جامع ایکشن پلان کے حساس دور میں بھی مجلس خبرگان کے درمیان اتحاد و یکجہتی اور اقتصادی امور پر غور و فکر، سماجی امور اور عوام کے اہم مطالبات پر توجہ وہ موضوعات ہیں جن پر مجلس خبرگان کے اس سے قبل کے اجلاسوں میں بھی توجہ دی گئی ہے- لیکن اس وقت یہ احساس ذمہ داری جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے بھی صراحت کے ساتھ فرمایا، دو چنداں اہمیت کی حامل ہے کیونکہ سامراج، قوموں پر اپنا تسلط بڑھانے کے لئے پہلے سے زیادہ کوششیں کر رہا ہے-
اس بنا پر مجہتدین کی کونسل مجلس خبرگان کے نو منتخب اراکین کو مزید حساسیت کے ساتھ مسائل کا جائزہ لینا چاہئے اور حالات کے سلسلے میں اپنے نظریات پیش کرنے میں پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ مزید موثر انداز میں موجود رہنا چاہئے- رہبر انقلاب اسلامی کی اس بات پر تاکید کہ نظام اسلامی کے کسی بھی رکن میں جمود جائز نہیں ہے، درحقیقت اسی اہم ذمہ داری کی جانب اشارہ ہے کہ جس نے مجلس خبرگان کو ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے اہم رکن کی حیثیت دے دی ہے-