مغربی ممالک انسانی حقوق کے جھوٹے دعویدار
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i238339-مغربی_ممالک_انسانی_حقوق_کے_جھوٹے_دعویدار
برطانیہ کی وزارت خارجہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں ایران میں گذشتہ عیسوی سال کے دوران انسانی حقوق کے تعلق سے مشکوک الزامات لگائے ہیں اور یہ دعوی کیا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال شدید تشویش کا سبب ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۲۳, ۲۰۱۶ ۱۰:۳۴ Asia/Tehran
  • مغربی ممالک انسانی حقوق کے جھوٹے دعویدار

برطانیہ کی وزارت خارجہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں ایران میں گذشتہ عیسوی سال کے دوران انسانی حقوق کے تعلق سے مشکوک الزامات لگائے ہیں اور یہ دعوی کیا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال شدید تشویش کا سبب ہے۔

برطانوی وزارت خارجہ کی رپورٹ دراصل دوہزار پندرہ کی اپ ڈیٹ شدہ رپورٹ ہے جس میں انسانی حقوق کے بہانے ایران کے خلاف پروپـگنڈا کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور تبدیلی کے کوئی خاص شواہد نظر نہیں آتے ہیں۔ مجرموں کو پھانسی کی سزا دینا، آزادی بیان کا فقدان، اخبارات و جرائد اور سوشل میڈیا پر پابندیاں، انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریاں، ایسے مسائل ہیں جو اس رپورٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔

جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ اس رپورٹ کا ھدف اس میں بیان کئے گئے مواد سے قطع نظرایرانو فوبیا کےعمل کو جاری رکھنا ہے جو کئی برسوں سے جاری ہے اور یہ منصوبہ تین آپشنوں کے سہارے جاری رکھا گیا ہے۔ یہ تین آپشن ایٹمی معاملہ، دہشتگردی اور انسانی حقوق ہیں۔ان مسائل کے باوجود برطانیہ نے ایک جعلی رپورٹ کو ایک بار پھر شائع کیا ہے جو دو لحاظ سے قابل غور ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ برطانیہ بدستور پرانے اور مشکوک دعووں کو دوہرانے کے درپے ہے جن پر ایک عرصے سے ایران اور یورپی ممالک کے سیاسی ڈائیلاگ میں تنقیدی نگاہ سے جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مغربی ممالک منجملہ برطانیہ انسانی حقوق کے سلسلے میں دوہرے معیارات رکھتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت انسانی حقوق کے دعویدار ممالک سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ دار ہیں۔ یہ حقیقت دنیا کے بہت سے ذرائع ابلاغ اور اھل عالم سے پوشیدہ نہیں ہے لیکن مغربی ممالک خود کو انسانی حقوق کا حامی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف برطانیہ کی وزارت خارجہ کا بیان ایسے عالم میں شائع ہورہا ہے کہ اس کے انسانی حقوق  کے کارناموں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوجاتاہے کہ اس کے انسانی حقوق کے دعوے جھوٹے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ انسانی حقوق کے بہانے ملکوں پر پابندیاں لگادیتے ہیں یہانتکہ ان پر حملے بھی کردیتے ہیں اور یہ دعوے کرتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کی بحالی اور ان لوگوں کو جن کے انسانی حقوق پامال کئے گئے ہیں انہیں انصاف دلانے کے لئے یہ حملے کئے ہیں۔

ان اقدامات کے نتیجے میں افغانستان، عراق اور یمن میں الگ طریقے سے سامنے آئے ہیں۔ مغربی ممالک نے انسانی حقوق کو دراصل قوموں کے حق خود ارادیت کو سلب کرنے اور ان پر تسلط جمانے کے لئے ایک ذریعہ بنالیا ہے اور یہ عمل انسانی حقوق کے مسئلے سے غلط فائدہ اٹھانا اور اپنے سیاسی فوجی اور اقتصادی اھداف تک پہنچنے کے لئے فریبی پالیسی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران انسانی حقوق کے جھوٹے دعوے کرنے والوں کی نظر میں انسانی حقوق پامال کرنے والا ملک ہے کیونکہ قاتلوں، دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرنے والوں، دہشتگردوں اور منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ سخت رویہ اپناتا ہے لیکن برطانیہ اور امریکہ کی نظر میں صیہونی حکومت کے مجرمانہ اقدامات کے مقابل سکوت کرنا، اور داعش کے مجرموں کے ہاتھوں ایک فلسطینی بچے کے سرقلم کئےجانے پر خاموش رہنا، عراق کے سابق خونخوار ڈکٹیٹر صدام کی جارح حکومت کو کیمیاوی ہتھیار دینا، ایران کے مسافر بردار طیارے پر امریکی فوجی جہاز سے میزائل حملہ کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی شمار نہیں ہوتا ہے۔

بہت سے بے گناہ افراد عراق و افغانستان میں امریکہ کی جیلوں میں جسمانی ایذاوں سے جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں بہت سے شہریوں خاص طور سے سیاہ فاموں کے حقوق پامال کئےجاتے ہیں۔ مغربی ممالک مظلوم ملت فلسطین کے خلاف صیہونی مظالم پر خاموش رہتے ہیں اس کے علاوہ یمن اور بحرین میں سعودی عرب کے مجرمانہ اقدامات کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانی حقوق کی اہمیت آفاقی ہے اور انسانی حقوق کے احترام کے عمل کو مزید بہتر بنانا چاہیے لیکن مغربی ممالک یقینا اس ھدف کے خواہاں نہیں ہیں۔