رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے حکومت کی کاوشوں کی قدردانی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i244825-رہبر_انقلاب_اسلامی_کی_جانب_سے_حکومت_کی_کاوشوں_کی_قدردانی
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے بدھ کو ہفتہ حکومت کے موقع پر صدر مملکت حسن روحانی، کابینہ کے اراکین اور اعلی سرکاری عہدیداروں سے خطاب میں موجودہ حکومت کی کوششوں کی قدردانی کرتے ہوئے ایران کے حال و مستقبل کے مسائل کے بارے میں اہم نکات بیان فرمائے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۵, ۲۰۱۶ ۱۲:۵۵ Asia/Tehran
  • رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے حکومت کی کاوشوں کی قدردانی

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے بدھ کو ہفتہ حکومت کے موقع پر صدر مملکت حسن روحانی، کابینہ کے اراکین اور اعلی سرکاری عہدیداروں سے خطاب میں موجودہ حکومت کی کوششوں کی قدردانی کرتے ہوئے ایران کے حال و مستقبل کے مسائل کے بارے میں اہم نکات بیان فرمائے-

آپ نے استقامتی معیشت اور خارجہ پالیسی جیسے اہم مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے خارجہ پالیسی میں فعال مواقف اپنانے پر تاکید کی - رہبر انقلاب اسلامی نے علاقے کے مسائل میں، جو بہت پیچیدہ ہیں ، انتہائی ہوشیاری نیز موثر طریقے سے میدان میں قدم رکھنے پر زور دیا- آپ نے حالیہ برسوں میں نینو ٹیکنالوجی ، ایرو اسپیس ، ایٹمی اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایران کی سائنسی پیشرفت کو گزشتہ بارہ سال میں سائنس اور سافٹ ویئر کے شعبوں میں انجام پانے والی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ استقامتی معیشت کے مسئلے میں بھی معاشرے میں کوششیں انجام پانی چاہئیں۔ رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے مسئلے میں امریکہ کی وعدہ خلافیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے- ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کسی بھی امریکی حکومت کے وعدوں پر اعتماد اور یقین نہیں کیا جا سکتا اور ان کے وعدوں کو فورا قبول بھی نہیں کرنا چاہئے- ہفتۂ حکومت اقتصادی ، سائنسی و ثقافتی شعبوں میں حکام کی کوششوں کی قدردانی اور خارجہ پالیسی کے کارناموں کا جائزہ لینے کا بہترین موقع ہے- یہ ساری چیزیں ڈاکٹر حسن روحانی کی حکومت کی کوششوں کا ماحصل ہیں- وہ باتیں جو رہبر انقلاب اسلامی نے حکام سے خطاب کے دوران کہی ہیں اگرچہ وہ بڑے مسائل کی صورت میں پیش کی گئی ہیں، تاہم اس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ گیارہویں حکومت نے گزشتہ تین سال کے دوران بہت اہم قدم اٹھائے ہیں جو اہم نتائج کے حامل بھی رہے ہیں- پابندیوں سے وجود میں آنے والی مشکلات و مسائل کے پیش نظراقتصادی شعبے میں ڈاکٹر حسن روحانی کی حکومت کی کوششیں قابل قدر ہیں - ڈاکٹر حسن روحانی کی حکومت نے خارجہ پالیسی میں بھی اپنی انتھک سفارتی کوششوں کے ذریعے بہت سے خطرات کو ایران سے دور کردیا اور انہیں علاقے کے مسائل میں موثر کردار اور سیاسی مفاہمت کے مواقع میں تبدیل کردیا - اس کے ساتھ ہی رہبر انقلاب اسلامی  نے ان کوششوں کے تعلق سے جن اہم باتوں کا ذکر کیا اور اہم مسائل کی جانب اشارہ کیا ان سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ حکام کو اب تک جوکامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ان پر اکتفا نہیں کرنا چاہئےکیونکہ ان دنوں جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ تمام شعبوں میں دشمنوں کی نقل و حرکت اور ان کی رفتار و عمل کے بارے میں حساس رہنا چاہئے اور مشترکہ جامع ایکشن پلان کے تعلق سے فریق مقابل کی جانب سے جن خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے ان کے پیش نظر اطمینان بخش قدم اٹھانا چاہئے- آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے قومی سلامتی کو حکومت ایران کی ایک اور ترجیح قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ایسے وقت میں جب خطے کے ممالک شدید بدامنی کا شکار ہیں، ہماری مسلح افواج اور سیکورٹی اداروں کی کوششوں کے نتیجے میں ملک، پائیدار سیکورٹی شیلڈ سے بہرہ مند ہے۔رہبرانقلاب اسلامی نے عوام کے انقلابی اور مذہبی جذبوں کو ملکی سیکورٹی شیلڈ کا ایک اہم عنصر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ دشمن، ایران کی دفاعی اور میزائل طاقت میں اضافے سے پریشان ہے، بنابریں دفاعی توانائیوں میں مزید اضافے کی حمایت کی جانا چاہئے۔ امن و سلامتی، ان خطرات کے مقابلے کا ایک بنیادی رکن ہے کہ جن سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے - بالفاظ دیگر ایران کی موجودہ حساس صورتحال میں گزشتہ چند برسوں کی نسبت نہ صرف کمی نہیں آئی ہے بلکہ ایران کے اطراف میں اور علاقے کے اجتماعی امن و سلامتی سے متعلق دشمن کے رویوں میں جن تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے ان کے پیش نظر اس وقت زیادہ حساس حالات پیدا ہوگئے ہیں- رہبر انقلاب اسلامی نے حکام سے ملاقات کے دوران ان تمام مسائل کا گہرا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر حسن روحانی کی حکومت کی کوششوں کی قدردانی بھی کی ہے۔