کابل میں امریکی یونیورسٹی پر حملہ، پاکستان پر الزام
افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کا منصوبہ ڈیورنڈ لائن کے اس پار سے تیار کیا گیا ہے۔
افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ کابل میں موجود امریکی یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی ہے اس لئے پاکستان کو چاہیئے کہ ان افراد کے خلاف سخت کاروائی کرے جنہوں نے اس دہشتگردانہ حملے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ محمد اشرف غنی نے اس اجلاس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ٹیلیفون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام ثبوت و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اس دہشتگردانہ حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کئی گئی ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کو یہ یقین دہانی کرائی کہ اس دہشتگردانہ حملے کی تحقیقات کے بعد تمام تفصیلات اور اس کے نتائج سے حکومت افغانستان کو آگاہ کیا جائے گا۔افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بدھ کی رات ہونے والا یہ دہشتگردانہ حملہ مسلح افراد اور افغان سکیورٹی فورس کے درمیان ہونے والی اس جھڑپ کا نتیجہ ہے جس میں کم سےکم تیرہ افراد مارے گئے اور دسیوں افراد زخمی ہوگئے تھے اور جھڑپ کا یہ سلسلہ جمعرات کی صبح تک جاری رہا۔
پاکستانی فوج یا پاکستانی سرزمین پر موجود انتہا پسندگروہوں پر افغانستان میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں میں ملوث ہونے اور ان کی منصوبہ بندی کا الزام افغانستان کا روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔ البتہ حکومت کابل ایسے وقت میں بھی کہ جب افغانستان میں دہشتگردانہ حملوں کی ذمہ داری طالبان گروہ قبول کرتا ہے پاکستان پرطالبان افغانستان کی حمایت کا الزام عائد کرتی ہے۔ یعنی جب بھی افغانستان میں دہشتگردانہ حملہ ہوتا ہے تو پاکستانی فوج پر طالبان کی حمایت و تعاون کا بالواسطہ یا بلاواسطہ الزام عائد ہوتا ہے۔
افغانستان کی جانب سے پاکستان پر ہمیشہ الزام لگانے، خصوصا دہشتگردانہ حملوں کے موقع پر یہ روش اس بات کا سبب بنی کہ پاکستانی حکام، افغانستان پر سخت اعتراض کریں اور حکومت کابل کو دوجانبہ تعلقات میں اختلاف پیدا کرنے کا موجب قرار دیں۔ حکومت افغانستان کے مطابق پاکستان نے طالبان کو دو گروہوں میں تقسیم کرکے علاقے میں دوہراپن پیدا کردیا ہے، اس بناء پر پاکستان نے اچھے اور برے طالبان کی تقسیم کے ذریعے افغانستان میں انتہا پسندی کے خلاف جنگ کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
کابل کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے یہاں سرگرم طالبان گروہ کا مقابلہ کرتا ہے لیکن افغانستان میں موجود طالبان کی حمایت کرتا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسلام آباد نے حکومت افغانستان کے الزام کی تردید کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ پاکستان علاقے میں موجود تمام دہشتگرد گروہوں سے سختی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے اور ان کے ساتھ بغیر کسی تفریق کے کارروائیاں انجام دیتا ہے۔ ادھر امریکہ نے بھی افغانستان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ پاکستان کو چاہئے کہ اپنے یہاں دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے گروہوں سے بھی سختی کے ساتھ مقابلہ کرے جو ہمسایہ ممالک اور علاقے کے امن و سکون کو غارت کرنے کے درپے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے مقابلے میں پاکستانی اقدامات کے بارے میں افغان حکام کے درمیان پائی جانے والی بےاعتمادی دہشت گردی، جس نے ان دونوں ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، کے خلاف مؤثر کارروائی میں دونوں ممالک کے تعاون کے مستقبل کو پہلے سے زیادہ مبہم کرنے کا باعث بنی ہے۔
اگر چہ افغانستان و پاکستان ایک دوسرے پر دہشتگردی سے مقابلہ کرنے میں کمزوری اور سستی برتنے کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر دونوں ملکوں کے درمیان انتہا پسندی سے مقابلے کے سلسلے میں ایک مشترکہ کمیشن تشکیل دیا جائے تو شاید کابل و اسلام آباد کے لئے دہشت گردی سے مقابلے کے بارے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے جھگڑوں سے نکلنے کی کوئی راہ حل نکل آئے۔