امریکی وزیر خارجہ کے الزامات پر ظریف کا جواب
امریکی حکومت کو یمنی بچوں کے قاتل سعودی عرب کی تمام جارحیتوں کا جواب دینا پڑے گا-
یہ بات اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہی ، جو لاطینی امریکہ کے دورے پر ہیں- انہوں نے ایران کی جانب سے یمن کو ہتھیار ارسال کرنے پر مبنی امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے بے بنیاد دعوے کے جواب میں کہا ہے کہ امریکی حکومت نے اپنے ان بیانات کے ذریعے خود کو یمن کے مظلوم اور بے گناہ عوام کے خلاف سعودی حکومت کی بچوں کی قاتل حکومت کے جنگی جرائم میں شریک کر دیا ہے اور بلاشبہ امریکی حکومت کو اس ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے ان تمام انسانیت سوز جارحیتوں کا جواب دہ ہونا چاہئے-
واضح رہے کہ جان کیری نے جمعرات کو علاقے کے اپنے دورے میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں یہ دعوی کیا ہے کہ ایران یمن کو میزائل اور جدید ترین ہتھیار فراہم کر رہا ہے اور اس کا خطرہ یمن کی سرحدوں سے باہر تک پھیل سکتا ہے- جواد ظریف نے امریکی وزیر خارجہ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے دو بنیادی نکتوں کی طرف اشارہ کیا۔ پہلا یہ کہ کون لوگ یمن میں بحران پیدا کرنے کے درپے ہیں اور دوسرا یہ کہ امریکہ علاقے کے مسائل کے بارے میں حقیقت پسندی سے کام لے۔
جواد ظریف نے کہا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ امریکی حکومت شام اور عراق میں اپنی گزشتہ فاش غلطیوں سے عبرت حاصل کرے اور موجودہ حقائق کا کھلی آنکھوں سے جائزہ لے- ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ چیز جس نے آج علاقے اور دنیا کو خطرے سے دوچار کر رکھا ہے دنیا میں تکفیری دہشت گردی کی فکری بنیادیں اور ان کے مالی و سیاسی ذرائع ہیں کہ جن کے سرچشمے اور ان کے علل و اسباب کا کیری صاحب کو بخوبی علم ہونا چاہیے-
شائع ہونے والی رپورٹوں اور اعداد و شمار سے اس امرکی نشاندہی ہوتی ہے کہ علاقے میں سعودیوں کی مسلط کردہ جنگ سے کس کو فائدہ پہنچ رہاہے۔ کل جمعے کو شائع ہونے والی رپورٹ میں امریکہ کے سرکاری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ دو عشروں کے دوران پانچ سو ارب ڈالر کے ہتھیار امریکہ سے خریدے ہیں-
دفاعی سازوسامان کی عالمی تجارتی کمپنی آئی ایچ ایس نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ دوہزار تیرہ اور چودہ میں سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت میں چون فیصد اضافہ ہوا- اس کمپنی نے پیشین گوئی کی ہے کہ سعودی عرب کے لئے ہتھیاروں کی فروخت میں ایک بار پھر رواں سال میں باون فیصد اضافہ ہو گا-
ان اعداد وشمار سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ حالیہ عشروں کے دوران خلیج فارس کے عرب ممالک نے سب سے زیادہ ہتھیاروں کی خریداری کی ہے اور ان میں سب سے زیادہ ہتیھار امریکہ سے خریدے ہیں- یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ صیہونی حکومت کی رضامندی کے بغیر خلیج فارس کے عرب ملکوں کو ہتھیار نہیں بیچتا لیکن ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ اس بار صورتحال بالکل تبدیل ہو گئی ہے-
اس وقت شام اور عراق میں جاری بحرانوں کے پس پردہ امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب کی مثلث ہے۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے ایک تجزیے میں خلیج فارس کے عرب ملکوں کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت اور اسرائیل کے موقف میں تبدیلی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیل کے موقف میں تبدیلی کا سبب، تل ابیب اور عرب ملکوں کے نظریات کا ایک دوسرے سے قریب ہونا ہے کہ جس کا انکشاف حال ہی میں ہوا ہے-
البتہ امریکہ بہت زیادہ ہوشیار ہے اور وہ ایک ہی وقت میں سارے پتے استعمال نہیں کرے گا۔ امریکہ نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ جہاں وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ توازن ممکن ہے حتی مستقبل میں بھی اسرائیل کے نقصان میں ہوگا، تو وہ کبھی کبھی خلیج فارس کے عرب ممالک کی جانب سے بعض ہتھیاروں کی درخواستوں کی مخالفت بھی کر دیتا ہے تاکہ اس طرح سے صیہونی حکومت کی برتری باقی رہے- ان ہی ہتھیاروں میں F-35 Lightning II لڑاکا طیارے ہیں کہ جو ایف سولہ جنگی طیاروں کی پانچویں نسل شمار ہوتے ہیں اور ان کی اس طرح سے ڈیزائننگ کی گئی ہے اسے دشمن کے راڈار پر دیکھا نہیں جا سکتا ہے-
Bu-28 بم بھی ان ہتھیاروں میں سے ایک ہیں جو زیرزمین تنصیبات اور پناہگاہوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور واشنگٹن نے یہ بم صرف صیہونی حکومت کو فراہم کیے ہیں- ان تمام باتوں کے پیش نظر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کیوں اور کس مقصد سے ایران کو علاقے کے لئے خطرہ قرار دینے میں کوشاں ہیں اور یہ پروپیگنڈہ اور الزامات امریکہ، سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے تعلقات میں توازن کو باقی رکھنے میں کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔