ہندوستان کے فیصلے پر چین کا ردعمل
ہندوستان نے اپنے میزائل براہموس کو چین کے ساتھ مشترکہ سرحدوں پر نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر چین نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔
براہموس ایک جدید ترین کروز میزائل ہے کہ جسے ہندوستان چین کے ساتھ مشترکہ سرحد پر نصب کرنا چاہتا ہے- در حقیقت ہندوستان، چین کی جانب سے اپنے فوجیوں کو تقویت پہنچانے کے اقدام کا حوالہ دے کر خود بھی ویسا ہی اقدام کر رہا ہے -
اس طرح دنیا کی سب بڑی آبادی والے اور دو بڑے طاقتور ہمسایہ ممالک ، اپنی سرحدوں پر میزائلوں اور دیگر جنگی سازوسامان کی تنصیب کے بارے میں اپنا خاص جواز پیش کرتے ہیں- اس بنا پر دونوں ملکوں کی جانب سے اس قسم کے اقدامات پر ردعمل ظاہر کرنا بے فائدہ سمجھا رہا ہے- اس کے ساتھ ہی چین اور ہندوستان کے تعلقات کا جائزہ لینے میں کچھ اور باتوں اور پہلوؤں کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ جو خطرے کو ظاہر کرنے والے اور ان دو پڑوسی ملکوں کے مشترکہ مفادات کی نشاندہی کرتے ہیں- اس میں شک نہیں ہے کہ چین اور ہندوستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے دفاع کریں اور اگر ضروری ہو تو دفاع کے مرحلےسے گذر کر حملہ بھی کر سکتے ہیں- بالکل اسی طرح جیسے کہ 1962 میں سرحدوں کے معاملے پر چین اور ہندوستان کے درمیان جنگ ہوئی تھی-
لیکن حالیہ برسوں میں بیجنگ اور نئ دہلی کے درمیان مذاکرات کے سولہ ادوار انجام پانے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں فریق سفارتی توانائیوں سے استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں اور اس نکتے پر ان کی توجہ مرکوز ہے کہ خطرہ دائمی نہیں ہے بلکہ مفادات دائمی ہیں-
اب رہی یہ بات کہ جس طرح چین، ہندوستان سے سرحدی علاقوں میں امن و امان کی برقراری کے لئے مزید اقدامات انجام دینے کا خواہاں ہے، ہندوستان کو بھی توقع ہے کہ چین بھی ایسا ہی اقدام کرے کیوں کہ ان حالات میں اسے جوابی اقدام کہا جائے گا-
ایک اور مسئلہ کہ جو کبھی کبھی دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف ردعمل کا باعث بنتا ہے ، دفاعی ضرورتوں سے بڑھ کر قدم اٹھانا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ چین سے ملحقہ سرحد پر ہندوستان کی جانب سے براہموس میزائل کی تنصیب بیجنگ کے نقطہ نظر سے ہندوستان کی دفاعی ضرورتوں سے بالاتر اقدام ہے جو چین کے لئے سنگین خطرہ سمجھا جا سکتا ہے- بظاہر یہ میزائل جو ہندوستان ، چین کے ساتھ مشترکہ سرحدوں پر نصب کر رہا ہے وہ تبت کے خودمختار علاقے اور "یون نن" صوبہ ہے کہ جس پر چین حساسیت دکھا رہا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں عام طور پر بدھسٹ آباد ہیں اور وہ خود تاریخ کے زخم خوردہ ہیں- اس بناء پر اس اقدام کے خلاف چین کا ردعمل ظاہر کرنا ایک فطری امر ہے-
تمام تر حساس نوعیت کی تبدیلیوں اورحالات کے پیش نظر بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ چین اور ہندوستان کے سرحدی اختلافات حل ہو جائیں گے-
ان برسوں میں چین کے صدر کے اہم اور اسٹریٹیجک دورۂ ہندوستان اور اسی طرح ہندوستان کے سینئر حکام کے دورۂ چین کی خبروں کا انعکاس، ممکن ہے بعض مغربی ذرائع ابلاغ کے دشمنانہ تجزیوں کے مقابلے میں ہو- یعنی یہ کہ ہندوستان کو اس وقت بھرپور جنگ کے قالب میں ایک سرحدی ٹکراؤ سے تشویش لاحق ہے کہ جس کا شروع کرنے والا چین ہو گا- لیکن ایشیاء کے ان دو بڑے ملکوں کی اقتصادی ، مواصلاتی اور توانائی کے شعبوں میں سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ان دو ملکوں کے درمیان وسیع تعاون موجود ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ چین اور ہندوستان نے برکس گروپ میں عملی طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ دنیا کے ایک قطبی نظام کے خلاف قدم اٹھائیں گے اور چند قطبی دنیا کے بارے میں سوچیں گے اور دنیا اور ایشیاء کی طاقت بن کر ابھریں گے–
نئی دہلی میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں شی جین پنگ نے کہا تھا کہ دونوں ملک اپنے مسائل کو اس طرح سے حل کرسکتے ہیں کہ اس نوعیت کے واقعات ، سنجیدہ اور سنگین اثرات کے حامل نہ ہوں-