علاقے میں دہشت گردی کی جڑ ،غاصبانہ قبضے، اور جارحانہ جنگیں ہیں-
داعش سے موسوم دہشت گردوں کی جڑ ، جو آج علاقے میں وسیع پیمانے پر جارحانہ کاروائیاں اور خونریز اقدامات انجام دے رہیں، علاقے میں انجام پانے والی جارحیتوں میں پیوست ہیں-
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کے روز تہران میں دفاع مقدس کے دور کے حکومتی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب میں اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگیں ، ویتنام اور کوریا کی جنگیں، یہ ساری جنگیں تاریخ ساز اور دنیا اور ان ملکوں کے مستقبل پر اثر انداز رہی ہیں- ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ بعض جارحانہ اقدامات، کہ اگر ان کا نام جنگ رکھیں، اس وقت دنیا میں پیدا ہونے والی ابتر صورتحال پر اثر انداز ہوئے ہیں- صدر مملکت نے کہا کہ اگر ہم ان دنوں علاقے اور دنیا کے بعض ملکوں میں وسیع پیمانے پر انجام پانے والے دہشت گردی کے واقعات کا گہرائی سے جائزہ لیں تو ان کی جڑیں ماضی میں ہونے والے جارحانہ اقدامات سے ملتی ہیں- جناب روحانی نے افغانستان اور عراق کی جنگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر القاعدہ کو وجود میں لایا گیا تو اس کا سبب افغانستان پر سابق سویت یونین کا حملہ تھا اور پھر بعد میں اس علاقے میں دہشت گردی کا سلسلہ، امریکی حملوں اور جارحیتوں کے باعث اب بھی جاری ہے-
ایران کے صدر نے کہا کہ اگر افغانستان اور عراق پر امریکہ کی لشکرکشی نہ ہوتی اور شام میں بحران پیدا نہ کیا جاتا تو کیا علاقے میں اتنے بڑے پیمانے پر دہشت گردی ہوتی؟
یہ وہ سوال ہے کہ جس کا صرف ایک جواب ہے اور اسے سب جانتے ہیں- لیکن وہ افراد جو تصور کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کواستعمال کرکے وہ اپنے اہداف کو حاصل کرسکتے ہیں وہ حقیقت کو قبول کرنے سے فرار کر رہے ہیں- وہ دہشت گردی کے علل و اسباب کو اپنی دوغلی پالیسیوں کے سوا ہر چیز میں تلاش کرتے ہیں- بعض اپنی سلامتی، دوسروں کے لئے بدامنی پیدا کرنے میں سمجھتے ہیں- یہی فکر اس بات کا باعث بنی ہے کہ دہشت گردی ، پوری بشریت کے لئے ایک چیلنج میں تبدیل ہوگئی ہے- اس فکر میں تبدیلی آنی چاہئے- کیوں کہ دہشت گردی سے مقابلے کے لئے شفاف اور پیہم اقدامات کی ضرورت ہے کہ جس میں مسئلے کے دونوں رخ کو مد نظر قرار دیا جائے یعنی دہشت گردی کے فروغ میں علاقائی عوامل اور علل و اسباب، نیز داعش جیسے گروہ کے وجود اور دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لانے والے بیرونی عوامل پر توجہ دی جائے-
دہشت گردی بہرصورت اس وقت عالمی خطرے میں تبدیل ہوچکی ہے اور حالیہ سو برسوں میں عالمی امن و سلامتی کو خطرے سے دوچار کرنے کے اہم ترین ذریعے اور سرچشمے میں تبدیل ہوگئی ہے کہ جو کسی بھی جغرافیائی حدود کو نہیں پہچانتی- دہشت گردی سے نہ صرف مشرق وسطی (مغربی ایشیاء) بلکہ امریکہ ، یورپ اور دیگر ملکوں کو بھی خطرہ لاحق ہے لیکن اب بھی ایسے افراد ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مفادات داعش اور دہشت گردی کی طرفداری میں پنہاں ہیں- اس کی وجہ سب پر ظاہر ہونے کی ضرورت ہے کہ کیوں بعض افراد داعش میں داخل ہو رہے ہیں؟ – جو لوگ بیرون ملک سے آکر شام اور عراق میں داعش میں شامل ہو رہے ہیں ان کا برین واش کہیں اور ہوا ہے اور امریکہ اور سعودی عرب جیسے ممالک نے ان کی حمایت کی ہے- اگر اس سلسلے میں صحیح طور پر کوششیں انجام پائیں تو بلاشبہ دنیا میں تشدد اور انتہا پسندی سے ٹھوس مقابلہ اور سلامتی کو لاحق مسائل کی شناخت کا کام آسان ہوجائے گا- دہشت گردی سے مقابلے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کا بیان ان حقائق کو بیان کر رہاہے جو دہشت گردی سے مقابلے کے بعض دعویداروں کے لئے قابل تحمل نہیں ہیں- لیکن دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے ملک کی حیثیت سے ایران نے کسی بھی تامل کے بغیر مغرب کی دوہرے معیار کی پالیسی کو چیلنج سے دوچار کردیا ہے اور صراحتا اعلان کر رہا ہے کہ مغرب دہشت گردی کے مسئلے میں دوہرا رویہ اپنائے ہوئے ہے- اس وقت ایرانی قوم آٹھ شہریور مطابق تیس اگست کی تاریخ کو ہونے والے المناک واقعے کی یاد منارہی ہے وہ دن کہ جب ایران کی وزرات عظمی کے دفتر میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں اس وقت کے صدر اور وزیراعظم رجائی اور باہنر شہید ہوگئے تھے - اس دن کو دہشت گردی سے مقابلے کا نام دیا گیا ہے–
منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس دہشت گرد گروہ کو، جس نے یہ کاروائی انجام دی، امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی حمایت حاصل تھی اور اسی طرح ان کے باقی ماندہ افراد بھی امریکی حمایت میں عراق سے البانیہ جیسے ملکوں میں منتقل ہو رہے ہیں – امریکہ کی مسلسل یہ کوشش ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ترویج کے علل و اسباب کے بارے میں حقائق، برملا نہ ہونے پائیں- اسی بناء پر ہمیں پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے اس سوال کی جانب متوجہ ہونا پڑے گا کہ یہ پوچھاجائے اور سوال کیا جائے کہ آخر دہشت گردی کس طرح عالمی خطرے میں تبدیل ہوگئی اور دہشت گردی کے بارے میں مغرب کی دوہری پالیسی کے پس پردہ کیا اہداف پوشیدہ ہیں؟ -